کلمات اللہ ہستیوں کی تعلیمات کی روشنی میں
پاروں کی ترتیب کے ساتھ قرآنی مفاہیم کا اردو میں خلاصہ
تفسیر علیین
چھٹے پارے کا خلاصہ
(بعض آیات کی ضروری تفسیر کے ساتھ)
جمع آوری مفاہیم
کوثر عباس قمی
🌿
چھٹے پارے کا آغاز اس آیت سے ہورہا ہے کہ
کہ کسی کو علانیہ بُرا کہنا
کوئی پسندیدہ عمل نہیں ہے
لیکن جس پر ظلم ہوا ہو وہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو بلند آواز سے سب کے سامنے بیان کر سکتا ہے۔
(عزاداری ، کربلا اور شام میں ڈھائے جانے والے مظالم کو بیان کرنے ہی کا تو نام ہے)
🌱
کسی کا راز فاش کرنا مقام انسانی کے خلاف ہے مگر ظالم خود احترام آدمیت کو مجروح کرتا ہے لہذا اس کی برائی اور ظلم کو بر ملا بیان کرنا جائز ہے۔
🌿
( آیت 149) میں بیان فرمایا کہ
نیکی کا اظہار کرو یا پوشیدہ رکھو دونوں باتوں کی اجازت ہے
اظہار اس لیے تاکہ دوسروں میں نیکی کی رغبت پیدا ہو اور پوشیدگی اس لیے تاکہ ریاکاری کا شائبہ نہ ہو۔
ساتھ ایک الٰہی اخلاق کا ذکر فرمایا کہ اگر کوئی تمہارے ساتھ برا سلوک کرے تو درگزر سے کام لو
تو اللہ بڑا معاف کرنے والا، قدرت والا ہے۔
قدرت ہونے کے باوجود انتقام نہ لینا خدائی صفت ہے وہ قدرت کے باوجود انتقام نہیں لیتا
🌿
آیات 152 سے161 تک اھل کتاب کا تذکرہ ہے
جنہوں نے ایک بڑا مطالبہ کیا اور ان کی زیادتی کی وجہ سے عذاب نے ان کو آلیا
🌱
پھر یہودیوں کا تذکرہ ہے کہ جن سے خدا نے عہد لیا مگر یہودی اس عہد سے پھر گئے انہوں نے حضرت مریم پر عظیم بہتان باندھا
اور ان کے اس قول کے سبب کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح بن مریم کو قتل کیا ہے، جبکہ خدا نے کہا کہ وہ حضرت عیسی’ کو قتل نہ کر سکے بلکہ ہم نے انہیں آسمانوں پہ (زندہ) اٹھا لیا
(حضرت عیسی’ نبی کریم سے پانچ سو سال پہلے ہو گذرے ہیں اور آج ۱۴۴۴ ھجری میں ان کو تقریبا” دو ہزار سال سے خدا نے آسمان پہ زندہ رکھا ہوا ہے
مقتدی کو زندہ رکھے تو تعجب نہیں تو امام {مہدی} کو زندہ رکھے تو تعجب کیسا؟)
پھر بیان فرمایا کہ یہودیوں کے ظلم اور راہ خدا سے روکنے اور نبیوں کو قتل کرنے کے سبب کس طرح ان کو مسخ کر کے بندر اور خنزیر بنا دیا گیا
🌿
آیت 167 سے 169 تک کافروں کے انجام کو بیان کیا کہ وہ خود گمراہی میں دور تک نکل گئے۔
پھر بیان کیا کہ لوگوں پہ ظلم و ستم کرنے والوں کے لیے مغفرت نہیں ہے
یہ لوگ اپنے انہی کرتوتوں کے سبب ہدایت کے قابل نہیں رہے کہ انہیں راہ حق کی ہدایت دی جائے
ہمیشہ جھنم میں رہیں گے
حضرت امام جعفر صادق ع نے فرمایا:
جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور آل محمد کے حقوق میں ظلم کیا، اللہ انہیں ہرگز نہیں بخشے گا۔
🌿
آیت 170 میں بیان فرمایا کہ رسول برحق پر ایمان لانے میں خود تمہاری بھلائی ہے اگر کفر کرو گے تو خود تمہارا نقصان ہے
🌿
آیت 171 میں غلو کی ممانعت ہے یعنی حد سے تجاوز کر جانا
لَا تَغۡلُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ: اپنے دین میں حد سے تجاوز نہ کرو۔
علامہ حبیب اللہ خوئی نے نہج البلاغہ کی شرح منہاج البراعہ میں اس پہ بہت مدلل گفتگو کی ہے جس کا ترجمہ میں نے کتاب “مئے کوثر” میں اختیارات ولایت وامامت کے عنوان سے کیا ہے
دلچسپی رکھنے والے حضرات کتاب منہاج البراعۃ یا ناچیز کی کتاب مئے کوثر کی طرف رجوع فرمائیں
🌱
اس کے بعد ارشاد فرمایا
اللہ کے بارے میں صرف حق بات کرو۔ اور تثلیث سے باز آجاو کہ اللہ اور حضرت مریم اور حضرت عیسی’
نعوذ باللہ تینوں خدا ہیں مسیحیوں نے اپنے رسول کو فرزند خدا کا درجہ دے دیا اور حد سے تجاوز کیا۔ اس مشرکانہ عقیدے کو باطل ثابت کرنے کے لیے امر واقع اور حقیقت کا بیان ہو رہا ہے۔ فرمایا: مسیح بن مریم تو بس اللہ کے رسول اور اس کا کلمۃ ہیں۔ (یعنی جن کو حضرت آدم و حوا کی طرح اپنے ارادہ کن سے پیدا کیا گیا ہے)
اسی طرح حضرت یحییٰ (ع) کی پیدائش ایک بوڑھے باپ اور ایک بانجھ عورت کے ذریعے ہو رہی تھی، اس لیے انہیں بھی کلمۃ اللہ کہا۔
🌿
اس کے بعد آیت نمبر 176 میں کَلٰلَۃِ کی وراثت کے حکام بیان فرمائے
باپ اور اولاد کے علاوہ جو وارث ہو وہ کلالہ ہے۔
مرنے والے کے پسماندگان میں صرف ایک بہن ہو تو جو باپ کی طرف سے یا ماں باپ دونوں کی طرف سے ہو تو اس بہن کو نصف حصہ فرضاً ملے گا،
باقی حصہ فقہ جعفری کے مطابق اسی بہن کو رداً ملے گا
🌿
سورہ نساء کے بعد سورہ مائدہ شروع ہو رہی ہے
آیت نمبر۲ میں ارشاد ہوا
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحِلُّوۡا شَعَآئِرَ اللّٰہِ وَ لَا الشَّہۡرَ الۡحَرَامَ وَ لَا الۡہَدۡیَ وَ لَا الۡقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیۡنَ الۡبَیۡتَ الۡحَرَامَ یَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ رِضۡوَانًا ؕ
اے ایمان والو! تم اللہ کی نشانیوں کی بے حرمتی نہ کرو اور نہ حرمت والے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانور کی اور نہ ان جانوروں کی جن کے گلے میں پٹے باندھ دیے جائیں اور نہ ان لوگوں کی جو اپنے رب کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں بیت الحرام کی طرف جا رہے ہوں
🌱
شعائر اللہ یعنی ہر وہ چیز جو خدا ، دین خدا یا نمائندگان خدا کی پہچان کا ذریعہ بنے
اس اعتبار سے اسلام میں ماہ رجب، ذیقعد، ذی الحج اور محرم حرام مہینے ہیں جن میں جنگ ممنوع ہے ،
یہ بھی اسلامی شعائر میں شامل ہیں
قربانی کے جانور اور ان کے گلے کی رسیوں کو بھی شعائر اللہ کہا گیا ہے۔
خداوند متعال نے قرآن میں صفا و مروہ پہاڑیوں کو بھی شعائر اللہ کہا ہے
اور پھر سورہ حج کی آیت نمبر ۳۲ میں ارشاد فرمایا کہ
ذٰلِکَ ٭ وَ مَنۡ یُّعَظِّمۡ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقۡوَی الۡقُلُوۡبِ ۳۲۔ بات یہ ہے کہ جو شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے تو یہ دلوں کے تقوے کے سبب ہے۔
🌿
آیت نمبر 3 میں ارشاد ہوا
اَلۡیَوۡمَ یَئِسَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ دِیۡنِکُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡہُمۡ وَ اخۡشَوۡنِ ؕ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا
آج کافر لوگ تمہارے دین سے مایوس ہو چکے ہیں، پس تم ان (کافروں) سے نہیں مجھ سے ڈرو، آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا
یہ آیت غدیرخم کے موقع پر رسول اللہؐ کی طرف سے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کے اعلان کے موقع پر نازل ہوئی
🌱
کفار نے دین اسلام کی دعوت کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا لیکن انہیں ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ ان کی آخری امید یہ تھی کہ یہ دین اس کے بانی کے جانے سے ختم ہو جائے گا اور یہ دعوت اس کے داعی کی موت سے مٹ جائے گی، کیونکہ اس کی کوئی اولاد نرینہ بھی نہیں ہے اور بہت سے سلاطین اور شان و شوکت والے بادشاہان کے موت کے منہ میں جانے کے بعد ان کے نام و نشان مٹ گئے اور ان کے قبر میں جاتے ہی ان کی حکومتوں کو زوال آ گیا
جب رسول اللہؐ نے بحکم خدا اپنے بعد اس دین کے محافظ کا تعارف کرایا تو اس دین کے لیے بقا کی ضمانت فراہم ہو گئی اور بقول صاحب المیزان ’’ یہ دین مرحلہ وجود سے مرحلہ بقا میں داخل ہو گیا۔ ‘‘یہاں سے کافر مایوس ہو گئے کہ یہ رسالت ایک فرد کے پر منحصر نہیں رہی، اب یہ دعوت ایک شخص کے مرنے سے نہیں مرتی۔ چنانچہ ہم آگے ان مصادر و مآخذ کا ذکر کریں گے کہ کفار کی مایوسی اور اکمالِ دین واقعہ غدیر خم سے مربوط ہے ۔
اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ: اس امت کو نعمت ولایت سے نوازا تونعمتوں کی تکمیل ہو گئی۔ کیونکہ اس کائنات میں سب سے بڑی نعمت توحید اور توحید کی تبلیغ، نبوت سے ہوئی اور اس کو تحفظ امامت سے ملتا ہے۔
🌿
آیت نمبر 6 میں ارشاد ہوا
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قُمۡتُمۡ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغۡسِلُوۡا وُجُوۡہَکُمۡ وَ اَیۡدِیَکُمۡ اِلَی الۡمَرَافِقِ وَ امۡسَحُوۡا بِرُءُوۡسِکُمۡ وَ اَرۡجُلَکُمۡ اِلَی الۡکَعۡبَیۡنِ ؕ وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ جُنُبًا فَاطَّہَّرُوۡا ؕ وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤی اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡکُمۡ مِّنَ الۡغَآئِطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَیَمَّمُوۡا صَعِیۡدًا طَیِّبًا فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡہِکُمۡ وَ اَیۡدِیۡکُمۡ مِّنۡہُ ؕ مَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیَجۡعَلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ حَرَجٍ وَّ لٰکِنۡ یُّرِیۡدُ لِیُطَہِّرَکُمۡ وَ لِیُتِمَّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ۶۔
اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لیا کرو نیز اپنے سروں کا اور ٹخنوں تک پاؤں کا مسح کرو، اگر تم حالت جنابت میں ہو تو پاک ہو جاؤ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی رفع حاجت کر کے آیا ہو یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا (ہمبستری کی) ہو پھر تمہیں پانی میسر نہ آئے تو پاک مٹی سے تیمم کرو پھر اس سے تم اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کرو، اللہ تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ وہ تمہیں پاک اور تم پر اپنی نعمت مکمل کرنا چاہتا ہے شاید تم شکر کرو۔
🌱
کہاں سے شروع کرنا ہے اور کہاں ختم کرنا ہے۔ یعنی یہاں دھونے کے لیے ابتدا اور انتہا کا ذکر نہیں ہے۔ اس میں ایک تو ہر انسان کا فطری تقاضا ہے کہ ایک خالی الذہن انسان کو اپنا ہاتھ دھونا پڑتا ہے تو وہ کس طرح دھوتا ہے؟
ظاہر ہے کہ وہ کہنیوں سے نیچے انگلیوں کی طرف آئے گا۔ ثانیاً احادیث نے بتایا کہ دھونے کی ترتیب اوپر سے نیچے کی طرف ہے۔
iii۔ وَ امۡسَحُوۡا بِرُءُوۡسِکُمۡ: اپنے سروں کا مسح کرو۔ اس سے مراد پورے سر کا نہیں بلکہ ایک حصے کا مسح کرنا ہے۔یہ مطلب لفظ بِرُءُوۡسِکُمۡ میں حرف ’باء‘ سے نکلتا ہے۔ یہ ’ب‘ تبعیض کے لیے ہے۔ یہ کون سا بعض حصہ ہونا چاہیے؟ احادیث نے بتایا کہ سر کے سامنے کا حصہ ہونا چاہیے۔
وَ اَرۡجُلَکُمۡ اِلَی الۡکَعۡبَیۡنِ اور ٹخنوں تک پاؤں کا مسح کرو۔ اس جملہ کی دو قرائتیں ہیں:
i۔ قرائت نصب: اس قرائت کے تحت اَرۡجُلَکُمۡ کے لام کو فتحہ یعنی زَبرَ دے کرپڑھیں گے۔ اس قرائت کو نافع، ابن عامر، کسائی، حفص، یعقوب نے اختیار کیا ہے۔
ii۔ قرائت جر: اس قرائت کے تحت اَرۡجُلَکُمۡ کی لام کو جر یعنی زِیرْ کے ساتھ پڑھیں گے۔ اس قرائت کو ابن کثیر، حمزہ، ابو عمر، اور عاصم نے اختیا ر کیا ہے۔
ان دو قراءتوں کی بنیاد پر یہ اختلاف بھی سامنے آیا ہے کہ پاؤں کو دھونا ہے یا مسح کرنا ہے۔ چنانچہ حضرت ابن عباس، انس بن مالک، عکرمہ، ابو علی جبائی، شعبی کا مؤقف یہ ہے کہ پاؤں کا مسح کرنا لازمی ہے۔ یہی امامیہ کا مؤقف ہے۔ عربی قواعد کے مطابق دونوں قرائتوں کی صورت میں مسح ثابت ہوتا ہے۔ چونکہ رؤس کے لفظ پر عطف کیا جائے تو اَرۡجُلَکُمۡ مجرور ہو گا اور اگر رؤس کے محل پر عطف کیا جائے تو اَرۡجُلَکُمۡ منصوب ہو گا اور عطف بَر محل کا کوئی انکار نہیں کر سکتا
🌿
اس کے بعد ارشاد ہوا
ہمارے رسول تمہارے پاس کتاب (خدا) کی وہ بہت سی باتیں تمہارے لیے کھول کر بیان کرنے کے لیے آئے ہیں جن پر تم پردہ ڈالتے رہے ہو
بہت سی باتوں سے درگزر بھی کرتے ہیں،
🌿
آیت نمبر ۱۵ میں ارشاد ہوا
قَدۡ جَآءَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ نُوۡرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیۡنٌ
یَّہۡدِیۡ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ بِاِذۡنِہٖ وَ یَہۡدِیۡہِمۡ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ
🌿
بتحقیق تمہارے پاس اللہ کی جانب سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے
جس کے ذریعے اللہ ان لوگوں کو امن و سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے جو اس کی رضا کے طالب ہیں
وہ اپنے اذن سے انہیں ظلمتوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور انہیں راہ راست کی رہنمائی فرماتا ہے۔
قرآن مجید کی اس آیت میں نور اور کتاب مبین کی تعبیر سے یاد کیا اور فرمایا کہ تمہاری طرف نور آیا ہے۔
بعض مفسرین نے لکھا کہ
ممکن ہے نور سے مراد رسول کریمؐ ہوں اور کتاب مبین سے مراد قرآن کریم۔
جبکہ تفسیر صافی صفحہ 125 اور تفسیر قمی میں ہے کہ نور سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی پاک آل ہے
🌿
آیت نمبر ۲۰ سے ۲۶ تک حضرت موسیٰ علیہ سلام اور ان کی قوم کے واقعات بیان فرمائے
حضرت موسیٰ ع نے اپنی قوم کو اللہ کی نعمتیں یاد دلائیں
حضرت موسیٰ ع نے جب اپنی قوم کو مقدس سرزمین میں داخل ہونے کا کہا تو انہوں نے کہا وہاں تو ایک طاقتور قوم آباد ہے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں ہم نہیں داخل ہوسکتے
خوف (خدا) رکھنے والوں میں سے دو اشخاص جنہیں اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا تھا کہنے لگے: دروازے کی طرف ان پر حملہ کر دو پس جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو فتح یقینا تمہاری ہو گی اور اگر تم مومن ہو تو اللہ پر بھروسہ کرو
مگر قوم موسی’ نے لڑنے سے انکار کردیا تو حضرت موسی’ نے دعا مانگی
جس کے نتیجے میں اللہ نے 40 سال تک ان کا ملک ان پہ حرام کردیا اور وہ قوم 40 سال تک در بدر اور سرگرداں رہی
🌿
آیت نمبر 27 سے 31 تک حضرت آدم ؑ کے بیٹوں کا واقعہ ہے کہ قابیل نے کس طرح حضرت ہابیل کو قتل کر دیا اور پھر لاش دفن کرنے سے عاجز ہوا اور پھر کس طرح خدا نے دو کوے بھیج کے اسے میت کو دفن کرنا سکھایا
🌿
آیت 35 آیت وسیلہ
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ وَ جَاہِدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِہٖ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ۳۵۔
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف(قربت کا)ذریعہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو شاید تمہیں کامیابی نصیب ہو۔
جس سے کسی شے کی قربت حاصل کی جاتی ہے اس کو وسیلہ کہتے ہیں۔
اس آیہ شریفہ میں تقویٰ کے بعد اللہ کی قربت حاصل کرنے کے لیے ذریعہ اور وسیلہ تلاش کرنے کا حکم دیا اور اس کے لیے ابۡتَغُوۡۤا کا لفظ استعمال فرمایا جو کوشش کے ساتھ کسی چیز کی تلاش کرنے کے معنوں میں ہے۔
شاید اس میں یہ لطیف اشارہ بھی ہے کہ حق کے وسیلہ کی تلاش کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے لیے کوشش درکار ہوتی ہے۔
چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے بھی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رسول بنا کر عملاً ان کو وسیلہ بنایا ہے اور قولاً اس وسیلے کے بارے سورہ آل عمران: ۳۱ میں ارشاد فرمایا:
قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ
کہدیجیے: اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا ۔۔۔۔
چنانچہ اتباع رسولؐ رضائے رب کے لیے وسیلہ ہے۔
یہاں قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ کسی ہستی کو ذریعہ اور وسیلہ بنانا اس صورت میں درست ہے کہ وہ اللہ کی طرف وسیلہ ہونے کے لیے مجاز ہو۔
(خود نہ گھڑ لیا ہو)
دوسری بات یہ ہے کہ اس ہستی سے استمداد اللہ کے مقابلہ میں نہ ہو، بلکہ اللہ سے استمداد کے ذیل میں ہو۔
مولائے متقیان حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ ؑنے وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ کے بارے میں فرمایا: انا الوسیلتہ (المناقب: ۲: ۷۵)
میں رب (تک پہنچنے) کا وسیلہ ہوں۔
تقویٰ بھی قربت الٰہی کا ذریعہ ہے
آیت میں تقویٰ کے بعد اللہ کی قربت حاصل کرنے کے لیے وسیلہ تلاش کرنے کا حکم ہے اگر تقویٰ نہ ہو اور وسیلہ کی تلاش بھی نہ ہو اورجہاد بھی نہ ہو تو عذاب عظیم سے بچنے کی کوئی اور صورت نہیں ہے۔
🌿
آیت نمبر 38 میں چوری کی سزا فرمائی کہ چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔ ۔۔۔
ہاتھ کاٹنے کی شرائط:
ہاتھ کاٹنے کی سزا کی شرائط پر نظر ڈالیں تو اس سزا کی حکمت و فلسفہ کے سمجھنے میں کافی مددملتی ہے: قحط۔ بھوک کی مجبوری کی وجہ سے چوری کا ارتکاب کیا ہے تو ہاتھ نہیں کاٹاجائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سزا کا مقصد طمع اور لالچ کا ہاتھ کاٹنا ہے۔ کیونکہ اگر یہ چوری مجبوری اور ضرورت کی وجہ سے نہیں ہے تو طمع اور لالچ کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ اس کے لیے حل یہ ہے کہ حرص اور طمع کی بنیاد پر دولت کمانے کے ذریعے ہاتھ کو کاٹ کر اس صفت بد پر ضرب کاری لگائی جائے۔ii۔ محفوظ جگہ سے چوری کی ہو۔ مثلاً گھر دوکان وغیرہ سے۔ جس سے چار دیواری کا تحفظ مجروح ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اگر گھر کی چار دیواری کے باہر سے چوری کی ہے تو اس پر ہاتھ نہیں کاٹا جائےiii۔
چوری کرنے والا عاقل ہو
۔ دیوانے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
بالغ ہو۔ نابالغ کا ہاتھ نہیں کٹے گا۔ البتہ اس کو مناسب تعزیری سزا دی جائے گی۔
مال غلط فہمی کی بنا پر نہ اٹھایا گیا ہو۔ اپنا مال تصور کر کے غیر کا مال اٹھایا ہے تو یہ چوری نہیں ہے۔
مال مشترکہ نہ ہو۔ اگر مشترکہ مال سے شریک کی اجازت کے بغیر اٹھائے تو سزا نہیں ہو گی۔
باپ بیٹے کا مال چوری کرے تو ہاتھ نہیں کٹے گا۔
مال کو پوشیدہ طور پر اٹھایا ہو۔ اگر سب کے سامنے یہ جرم کرے تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ اس پر چوری صادق نہیں آتی۔ یہ ڈکیتی ہے، اس کی سزا الگ ہے۔
نصاب: جس نصاب پر ہاتھ کاٹا جاتا ہے وہ فقہ جعفری کے مطابق ایک چوتھائی دینار ہے۔ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا بھی یہی نظریہ ہے۔ البتہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ نصاب دس درہم ہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے:
لاَ یُقْطَعُ یَدُ السَّارِقِ حَتَّی تَبْلُغُ سَرِقَتُہُ رُبُعَ دِیْنَارٍ۔ (الکافی ۷: ۲۲۱)
چور کا ہاتھ اس وقت تک نہیں کاٹا جائے گا جب تک اس کی چوری ایک چوتھائی دینار تک نہ پہنچے۔
صحیح بخاری میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
تقطع ید السارق فی ربع دینار فصا عداً۔ (صحیح بخاری باب قول اللّٰہ السارق و السارقۃ)چور کا ہاتھ ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ پر کاٹا جائے گا۔
ہاتھ کی حد: آیہ شریفہ میں تو یہ حکم آیا ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ دو۔ اس سے بظاہر پورا ہاتھ کاٹنا سمجھا جاتا ہے لیکن مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ پورا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
اہل سنت کے نزدیک کلائی سے کاٹا جائے گا۔ مگر امامیہ کے نزدیک چار انگلیاں جڑ سے کاٹی جائیں گی۔ انگوٹھا اور ہتھیلی چھوڑ دی جائے گی۔ اس پر سنت سے استدلال کے علاوہ یہ حکمت منقول ہے کہ ہتھیلی سجدے کے اعضا میں سے ہے۔ وَّ اَنَّ الۡمَسٰجِدَ لِلّٰہِ (۷۲ جن: ۱۸) ’’سجدے کی جگہیں اللہ کے لیے ہیں۔‘‘ لہٰذا اعضائے سجدہ اللہ کے لیے ہیں۔
🌱
آیت-48 میں ارشاد ہوا
رسول ص پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جو حق پر مبنی ہے اور اپنے سے پہلے والی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہےاور ان پر نگران و حاکم ہے،( قرآن مجید کو سابقہ ادیان کی کتب پر بالادستی حاصل ہے)
لہٰذا آپ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کریں اور جو حق آپ کے پاس آیا ہے اسے چھوڑ کر آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں،
🌿
پھر فرمایا
ہم نے تم میں سے ہر ایک (امت) کے لیے ایک دستور اور طرز عمل بنایا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا لیکن اللہ نے تمہیں جو حکم دیا ہے اس میں تمہیں آزمانا چاہتا ہے،لہٰذا نیک کاموں میں سبقت لے جانے کی کوشش کرو، تم سب کو اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر وہ تمہیں ان حقائق کی خبر دے گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے ۔
🌿
آیت نمبر 51 میں ارشاد ہوا یہود و نصاریٰ کو اپنا حامی نہ بناؤ یہ آپس میں حامی ہیں، جو تم میں سے ان کو اپنا حامی بنائے گا وہ ان ہی میں(شمار)ہو گا۔
مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ کو سرپرست بنانے کی ممانعت ہے،
🌿
آیت نمبر 55 آیت ولایت
اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ ہُمۡ رٰکِعُوۡنَ۵۵۔
تمہارا ولی تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں
🌿
اکثر محدثین، مؤرخین اور مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ
یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی، جب مسجد نبوی میں آپؑ نے حالت رکوع میں ایک سائل کو اپنی انگوٹھی عطا فرمائی اکثر مفسرین قرآن نے لکھا ہے کہ اس آیت کا واحد مصداق حضرت علی ع ہیں نماز اور زکوٰۃ پر بیک وقت عمل کی یہ واحد مثال ہے ۔
استاد محترم علامہ شیخ محسن علی نجفی لکھتے ہیں کہ
وَلِیْ کے متعدد معانی بیان کیے جاتے ہیں۔
ان میں سب سے زیادہ اقتدار و سرپرستی اور تصرف میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے بعد ناصر اور محب کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہےولی سے مراد دوست نہیں ہو سکتا کیونکہ پھر ان تین کے علاوہ کوئی اور دوست قرار نہیں پا سکتا لہذا ولی سے مراد سرپرست اور حاکم کے ہیں۔
یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ اس کائنات میں حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ذات کو حاصل ہے: لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ۔۔۔ (۲ بقرہ : ۱۰۷)
اللہ کے بعد یہ حاکمیت اللہ کی طرف سے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے: اَلنَّبِیُّ اَوۡلٰی بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِہِمۡ۔ (۳۳ احزاب: ۶) یعنی نبی مؤمنین کی جانوں پر خود ان سے زیادہ تصرف کا حق رکھتے ہیں۔
ولیکم میں اللّٰہ، رسول اور الذین آمنوا سب کے لیے ایک ہی لفظ ولیکم استعمال ہوا ہے۔
اس سے معلوم ہوا، تینوں میں وَلی ایک ہی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ جس معنی میں اللہ اور اس کا رسول ولی ہیں، رکوع میں زکوٰۃ دینے والے بھی اسی معنی میں ولی ہیں
آیت نمبر ۶۹ میں پاداش کے اعتبار سے بدترین لوگوں کے متعلق بیان فرمایا کہ وہ لوگ ہءں جن پر اللہ نے لعنت کی
جن پر اللہ غضبناک ہوا
جن میں سے کچھ کو اس نے بندر اور سور بنا دیا
جو شیطان کے پجاری ہیں
آیت نمبر ۶۷ آیۃ بلّغ:
یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ اِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ۶۷۔
اے رسول ! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دیجئے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ آپ کو لوگوں (کے شر) سے محفوظ رکھے گا، بے شک اللہ کافروں کی رہنمائی نہیں کرتا۔
یہ آیہ شریفہ ۱۸ ذی الحجۃ الحرام بروز جمعرات حجۃ الوداع ۱۰ ہجری کو رسول اللہؐ پر اس وقت نازل ہوئی جب آپؐ غدیر خم نامی جگہ پہنچ گئے تھے۔ چنانچہ آپؐ نے آگے نکل جانے والوں کو جو مقام جحفہ کے قریب پہنچ گئے تھے، واپس بلایا اور آنے والوں کا انتظار کیا اور تقریباً ایک لاکھ سے زائد کے مجمع میں حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ بلند کر کے فرمایا:
ان اللّٰہ مولای و انا مولی المؤمنین و انا اولی بہم من انفسہم فمن کنت مولاہ فعلی مولاہ۔اللہ میرا مولا ہے اور میں مومنوں کا مولا ہوں اور ان کے نفسوں سے اولی ہوں۔ پس جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں۔
پیغمبر اکرمؐ نے اس کو تین بار دہرایا ۔ اس کے بعد فرمایا:
اللّٰہم وال من والاہ و عاد من عاداہ و احب من احبہ و ابغض من ابغضہ و اخذل من اخذلہ و ادر الحق معہ حیث دار الا فیبلغ الشاھد الغائب۔اے اللہ! جو اس سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ اور جو اس سے محبت کرے تواس سے محبت کر، جو اس سے بغض رکھے تو اس سے بغض رکھ، جو اس کو ترک کرے تو اس کوترک کر اور حق کو وہاں پھیر دے جہاں علی ہو۔ دیکھو جو یہاں حاضر ہیں ان پر واجب ہے کہ وہ سب تک یہ بات پہنچا دیں۔
🌿
آیت نمب 78 میں بنی اسرائیل پر لعنت کا ذکرہے
بنی اسرائیل پر لعنت کا ذکر عہد جدید او عہد عتیق میں بھی کیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے حضرت داودؑ کے زمانے میں قانون سبت
(یعنی ہفتے والے دن مچھلی کے شکار کے ممنوع ہونے والے قانون ) کو توڑا تھا اور پھر حضرت عیسیؑ کی بھی تکذیب کی۔
🌾🌾🌾🌾🌾🌾🌾
Be the first to comment on "https://www.facebook.com/share/p/1DVYz6nZCB/"