★ حسین وارث انبیاء ہے★
تحقیق و تدوین : ✍🏻
کوثر عباس قمی
مختلف زیارت ناموں میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی ایک ایسی خصوصیت ذکر ہوئی ہے جو آپ کو دوسرے ائمہ سے ممتاز کرتی ہے وہ خصوصیت یہ ہے کہ آپ کو انبیاءعلیہم السلام کا وارث قرار دیا ہے۔
لغوی اعتبار سے کسی مال اور جائیداد کا کسی معاملے اور زحمت و مشقت کے بغیر دوسرے تک منتقل ہونے کو وراثت کہا جاتا ہے اور فقہی اصطلاح میں مردے کے اموال کا کسی معاملے اور اختیار کے بغیر دوسرے کی طرف منتقل ہونے کو ارث کہتے ہیں۔
وراثت مالی اور مادی بھی ہوتی ہے اور معنوی اور ، علمی بھی
قرآن کریم میں وراثت کی دونوں اقسام کو بیان کیا گیا ہے۔
مادی اور مالی ارث کے متعلق سورة نساءمیں ارشاد ہوتا ہے۔
ترجمہ : اورجومال ماں باپ اور قریبی رشتے دار چھوڑ جائیں اس میں مردوں کا ایک حصہ ہے اور (ایسا ہی) جو مال ماں باپ اور قریبی رشتے دار چھوڑ جائیں اس میں تھوڑا ہو یا بہت عورتوں کا بھی ایک حصہ ہے، یہ حصہ ایک طے شدہ امر ہے) اور معنوی و دینی وراثت میں نبوت اور ولایت کے ارث کا تذکرہ قرآن کریم میں متعدد جگہوں پر ہوا ہے۔
سورة مریم میں ہے کہ حضرت یعقوب نے دعا مانگی ۔
ترجمہ: (یا اللہ مجھے ایسا فرزند عطا کر) جو میرا بھی وارث بنے اور آل یعقوب کا بھی اور میرے پروردگار! اسے (اپنا) پسندیدہ بنا۔
اور سورة نمل میں بھی ارشاد ہوتا ہے ۔
ترجمہ: اور سلیمان داءود کے وارث بنے۔
حدیث میں بھی ارشاد ہوتا ہے۔
ترجمہ: علما ءانبیاءکے وارث ہیں، اس حدیث میں بھی وراثت سے مراد علم دین ہے جو وہی معنوی وراثت ہے۔
مادی اور معنوی وراثت میں ایک اہم فرق ہے کہ مادی وراثت میں جب وارث مورث سے ارث لیتا ہے تو مورث کی ملکیت ختم ہوجاتی ہے لیکن معنوی وراثت میں ارث کے منتقل ہونے کے باوجود مورث سے اس کی ملکیت ختم نہیں ہوتی بلکہ وہی ارث (علم، صفات حمیدہ اور کمالات نفسانی) مورث کے پاس بھی باقی رہتا ہے۔
تفسیر مجمع البیان اور دوسری تفاسیر میں امام صادق علیہ السلام سے روایت ہوئی ہے کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا:
ترجمہ:انبیاء یہ نسبت (کہ علماء، انبیاء کے وارث ہیں) رکھنے کا سب سے زیادہ حق ان لوگوں کو پہنچتا ہے جو ان پر نازل ہونے والے احکام پر زیادہ عمل کرنے والے ہوں۔
اس کے بعد آپ نے اس آیہ شریفہ کی تلاوت فرمائی۔
ترجمہ: ابراہیم سے نسبت رکھنے کا سب سے زیادہ حق ان لوگوں کو پہنچتا ہے جنہوں نے ان کی پیروی کی اور اب یہ نبی اور ایمان لانے والے (زیادہ حق رکھتے ہیں ) اور اللہ ایمان رکھنے والوں کا حامی اور کارساز ہے۔
زیارت نامے دعاوں پر مشتمل ایک عظیم دینی معارف کا خزانہ ہیں۔ بزرگان دین انہی زیارت ناموں کے ذریعے انبیاءاور ائمہ علیہم السلام کے مکتب کا تعارف کراتے ہیں اور ان کی نیک سیرت اور اہداف کو ان میں بیان کرتے ہیں جس طرح قرآن کریم انبیاءعلیہم السلام کی پہچان اور شناخت کا ماخذ ہے اسی طرح زیارت نامے بھی ان شخصیات کے معارف کے مصادر و ماخذ ہیں ۔
مفاتیح الجنان اور دوسری دعاﺅں کی کتابوں میں منقول زیارت ناموں میں ائمہ معصومین علیہم السلام کو انبیاءعلیہم السلام کا وارث قرار دیا گیا ہے جیسا کہ زیارت جامعہ کبیرہ میں ان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے وارث الانبیاءکا لقب بھی دیا گیاہے۔ اسی طرح امام رضا علیہ السلام سے منقول امام زمانہ عج اللہ فرجہ الشریف کی زیارت میں بارہ اماموں کے نام ذکر ہوئے ہیں اور وارث سید المرسلین کے عنوان سے ان کا تعارف کیا گیا ہے۔
بعض دعاﺅں میں امام زمانہ علیہ السلام کو السلام علی وارث الانبیاء( سلام ہو انبیاءکے وارث پر) کہا گیا ہے۔
زیارت ناموں میں ایک اہم نکتے کی طرف زیادہ تاکید ہوئی ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے درمیان فکری اور معنوی ہم آھنگی پائی جاتی ہے اسی لئے زائر اماموں کی زیارت کے شروع میں انبیاءعلیہم السلام کے نام حضرت آدم سے خاتم تک اور حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے امام عصر علیہ السلام تک ان کے برجستہ اوصاف کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔
قرآن کریم انبیاءعلیہم السلام کے اہداف اور مقاصد کی باہمی ہم آہنگی کو بھی تکرار کے ساتھ بیان کرتا ہے۔
کہ تمام انبیاءکا مقصد ایک ہے اس میں کوئی تفریق نہیں اور وہ ہے توحید کی شناخت کرانا خدا کی پہچان کرانا اور دنیا و آخرت میں انسانیت کی فلاح کے لیے خدا کے بتائے ہوئے قوانین کو لوگوں تک پہچانا اور ان میں رد و بدل اور تحریف نہ ہونے دینا۔
ارشاد ہوا
زیارت ناحیہ مقدسہ میں امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف و علیہ الصلاة والسلام فرماتے ہیں۔
ترجمہ: سلام ہو آدم پر جو اس کی مخلوق میں سے خدا کے برگزیدہ ہیں) اور حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت میں بھی یہی جملہ نقل ہوا ہے۔
حضرت امام حسین علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک تمام انبیاءکے وارث ہیں کیونکہ جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کے مقصد اور مشن کو سب کچھ قربان کر کے بچایا ہے
اگرچہ 12 آئمہ سارے ہی انبیاءعلیہم السلام کے وارث ہیں لیکن زیارت ناموں میں خصوصی طور پر اس بات پر زیادہ تاکید کی گئی ہے کہ امام حسین علیہ السلام ، انبیا ءعلیہم السلام کے وارث ہیں۔
مختلف زیارت ناموں میں حضرت امام حسین علیہ السلام کا تعارف انبیاءعلیہم السلام کے وارث کے عنوان سے کیا گیا ہے۔ خصوصی طور پر معروف زیارت ( زیارت وارثہ)میں ہم پڑھتے ہیں:
ترجمہ: سلام ہو آپ پر اے آدم کے وارث جو خدا کے برگزیدہ ہیں۔
ترجمہ: سلام ہو آپ پر اے نوح کے وارث جو خدا کے نبی ہیں۔
ترجمہ: سلام ہو آپ پر اے ابراہیم کے وارث جو خلیل اللہ ہیں۔
ترجمہ: سلام ہو آپ پر اے موسی کے وارث جو کلیم اللہ ہیں۔
ترجمہ: سلام ہو آپ پر اے عیسی کے وارث جو روح اللہ ہیں۔
ترجمہ: سلام ہو آپ پر اے محمد کے وارث جو خدا کے حبیب ہیں۔
ایک اور زیارت نامے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کا نام بھی لیا گیا ہے۔سلام ہو آپ پر اے اسماعیل ذبیح کے وارث۔
اسلامی منابع میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان زیارتوں میں مندرجہ ذیل معنوی اور مادی وراثتیں مدنظر رکھی گئی ہیں:
1۔ خلیفہ الٰہی کا مقام: جیسا کہ خداوند متعال نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اپنے خلیفہ کے عنوان سے منتخب کیا، دوسرے انبیاء علیہم السلام اور ان کے جانشین بھی زمین پر خدا کے خلیفہ کے عنوان سے لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے تھے جو اس مقام کو یکے بعد دیگرے وراثت میں حاصل کرتے تھے۔ امام حسین علیہ السلام نے بھی اس معنوی مقام کو اپنے نانا، باپ اور بھائی سے وراثت میں پایا اور اس کے عہدیدار ہوئے ہیں۔
2۔ علم: بہت سی روایتوں اور زیارتوں میں ذکرہوا ہے کہ امام حسین علیہ السلام اور دوسرے ائمہ علیہم السلام، انبیاءعلیہم السلام خاص کر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے علم کے وارث تھے۔ اس سلسلے میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:”حضرت داود علیہ السلام نے انبیاءعلیہم السلام کے علم کو وراثت میں حاصل کیا اور سلیمان علیہ السلام نے بھی اس علم کو اپنے باپ داود علیہ السلام سے وراثت میں پایا اور ہم نے بھی اس علم کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وراثت میں پایا ہے۔
ترجمہ: (سلام آپ پر اے مومنین کے امام اور انبیا کے علم کے وارث اور اوصیا کی ذریت)
3۔ آسمانی کتابیں: نیمہ شعبان اور اول ماہ رجب کے لئے ذکر کی گئی زیارت میں امام حسین علیہ السلام کو تورات، انجیل او ر زبور کاوارثِ کہا گیا ہے۔
ترجمہ: کیونکہ ان کتابوں کی اصل اور حقیقت، وہ مطالب ہیں جو ان میں لکھے گئے ہیں اور امام حسین علیہ السلام بھی ان مطالب سے آگاہ ہیں۔
4۔انبیاءعلیہ السلام کی خصوصیات:
بعض انبیاءعلیہم السلام کے ہمراہ کچھ مقدس و سائل اور چیزیں ہوتی تھیں، جن کی معجزنما خصوصیتیں تھیں، جیسے: حضرت موسی علیہ السلام کا عصا اور صندوق، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا لباس اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی۔ روایات کے مطابق، یہ چیزیں ائمہ اطہار علیہم السلام کو منتقل ہوئی ہیں جو اس وقت امام زمانہ (عج) کے پاس ہیں اور ظہور کے وقت آپ علیہ السلام انہیں اپنے ساتھ لائیں گے اور ان سے استفادہ کریں گے۔
تو آپ ان کے بھی وارث ہوئے
5۔ اچھے اخلاق و صفات: انبیاءعلیہم السلام اوصاف حمیدہ اور اخلاق حسنہ کے حامل ہیں۔ انہی اخلاق حسنہ اور اوصاف حمیدہ کی وجہ سے انہیں خداوند عالم نے منتخب کیا ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے ان اخلاق حمیدہ کو انبیاءعلیہم السلام سے وراثت میں پایا ہے۔ آپ صفات حمیدہ اور اخلاق کریمہ میں تمام لوگوں سے زیادہ انبیاء کرام کے شبیہ تھے۔
6۔ احکام الٰہی کے نفاذ کے لیے سیاسی بصیرت کی وراثت:
انبیاءعلیہم السلام کو خداوند متعال کی جانب سے شرعی اور قانونی اختیارات حاصل ہیں اور وہ دنیا میں حکومت، ولایت اور قانون گذاری کا حق رکھتے ہیں جبکہ لوگوں پر لازم ہے کہ ان کی پیروی کریں۔قرآن کریم میں اس مسئلے پر بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے۔
امام حسین علیہ السلام نے شرعی اور قانونی حیثیت و مقام ، خلافت اور اطاعت و پیروی کے حق کو اپنے سے پہلے اماموں سے وراثت میں پایا ہے۔
اسی لیے فرمایا:
ترجمہ: جو لوگ اس امت کی ولایت و سرپرستی کے دعویدار ہیں ان سب سے زیادہ حقدار ہم اہل بیت محمد ہیں۔
7۔ اجتماعی ذمہ داری: انبیاءخداوند متعال کی جانب سے معاشرے کے ذمہ دار ہیں کہ اس ذمہ داری کو نبھانے میں اذیتوں اور مشقتوں کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ بعض انبیاءکو جام شہادت نوش کرنا پڑا اس کے باوجود اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے سے دستبردار نہیں ہوئے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ترجمہ: جب میری امت میں بدعتیں ظاہر ہوں تو عالم پر ضروری ہے کہ اپنے علم کا اظہار کرے ، اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس پر اللہ تعالیٰ ٰ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔اب یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام، انبیاءکی اس ذمہ داری کے وارث تھے اور ہیں۔ یہ بات وراثت کی بحث میں ایک اہم بات ہے۔ امام حسین علیہ السلام انبیاءکے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس ذمہ داری کو نبھانے کےلئے میدان میں آئے اور آپ نے دنیا کے سامنے اعلان کرتے ہوئے فرمایا:
ترجمہ: کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ حق پر عمل نہیں کیا جارہا اور باطل سے روکا نہیں جارہا۔ اسی طرح :
ترجمہ: میں صرف اپنے نانا کی امت کی اصلاح کیلئے نکلا ہوں ، میں امر بالمعروف اور نہی از منکر کرنا چاہتا ہوں اور اپنے نانا اور بابا علی ابن ابیطالب کی سیرت پر چلنا چاہتا ہوں۔
امام حسن علیہ السلام نے کربلا کی جانب نکلنے کے بعد اپنے ابتدائی خطبے میں ارشاد فرمایا:
ترجمہ: جو کسی ظالم بادشاہ کو دیکھے جو خدا کی حرام کردہ چیزوں کو حلال سمجھتا ہو ، اس کے عہد و پیمان کو توڑتا ہو، سنت رسول کی مخالفت کرتا ہو ، خدا کے بندوں کے ساتھ ظلم و جور کے ساتھ پیش کرتا ہو پھر بھی اپنے قول و فعل کے ذریعے کوئی تبدیلی نہ لائے تو خدا کو یہ حق پہنچتا ہے کہ اس کا ٹھکانہ بھی وہی قراردے گا جو اس ظالم بادشاہ کا ٹھکانہ ہے۔
دشمن کا اقرار:
دشمن بھی امام حسین علیہ السلام کی ذات سے آشنا تھا اور جانتا تھا کہ آپ وارث محمد مصطفیٰ ہیں
اما م علیہ السلام کی شہادت کے بعد یزید ملعون نے صراحتًا اعلان کیا کہ امام حسین علیہ السلام کے ساتھ جنگ ، جنگ بدر کا بدلہ ہے جس میں ان کے خاندان کے بزرگوں کو قتل کیا گیا تھا آج وہ امام حسین علیہ السلام سے اس کا بدلہ لے رہا ہے۔ جیسا کہ یزید ملعون کا مشہور شعر ہے جس میں اس نے بدر کے مشرکین کو خطاب کرکے کہا ہے۔
ترجمہ: کاش ، میرے آباءواجداد آج زندہ ہوتے جو بدر میں مارے گئے تو وہ دیکھتے کہ نیزوں کی چوٹ سے خزرج والے کیسے بیتاب ہوتے ہیں۔ وہ انتہائی مسرت و شادمانی سے جھومتے اور اچھلتے پھر کہتے : اے یزید! تمہارے ہاتھ کبھی شل نہ ہوں۔ اگر میں بنی احمد سے ان کے کئے کا بدلہ نہ لوں تو میں (اہل) خندف سے نہیں۔
پس ائمہ معصومین علیہم السلام بالخصوص حضرت امام حسین علیہ السلام کے خطبوں اور زیارتوں کے مطالعہ اور غور کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ علیہم السلام انبیا ءکرام علیہم السلام کے حقیقی وارث ہیں۔ اور حضرت امام حسین علیہ السلام انبیا کے کامل ترین وارث ہیں۔
آپ حضرت نے کس طرح انبیا ءکے اہداف اور مقاصد کو زندہ رکھنے میں بہترین کردار ادا فرمایا اور رہتی دنیا تک انسانیت کو یہ درس دیا کہ کس طرح اسلامی اقدار کو زندہ رکھا جاتا ہے۔
بالاخص آپ وارث ابراہیم خلیل اللہ اور مصداق ذبح عظیم ہیں۔
ذبح عظیم یعنی عظیم قربانی۔
۱۶ھ میں فرات کے ساحل اور کربلا کی سرزمین پر تین دن کا بھوکا پیاسا ایک قافلہ اعلائے کلمہ حق کی پاداش میں تہ تیغ کردیا گیا ، قاتل مسرور کہ ایک عظیم معرکہ سرکرلیا لیکن اس سے بے خبر کہ معمار کعبہ خلیل خدا حضرت ابراہیم کے خواب نے صدیوں کے بعد وہ تعبیر آج پائی ہے کہ جس کا اشارہ قرآن کریم میں موجود ہے شاید ذبح عظیم کی سند ذی الحجہ کو جناب اسماعیل کے نام درج ہوچکی ہوتی لیکن مشیت کو یہ منظور نہیں تھا کہ اس راہ میں پیش کی جانے والی قربانیوں میں سے کسی ایسی قربانی کو عظیم کہا جائے جس میں قدرت کا اشارہ پانے کے باوجود عمل میں پہلے شمہ برابر بھی بے یقینی کی کیفیت پائی جائے اور اس میں کسی طرح کے پس و پیش ، غور و فکر اور تردد کی گنجائش موجود رہ جائے اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ آزمائش کی کڑی گھڑیوں میں جناب ابراہیم پورے اترے انہوں نے اپنے سینے میں ایک باپ کا دردمند دل دھڑکتے رہنے کے باوجود خوشنودی معبود میں اپنے عزیز ترین فرزند جناب اسماعیل کے گلوئے مبارک پر اپنے ہاتھوں سے چھری رکھ دی ، اپنے خواب کو سچ کردکھا یا۔
محسنین کی فہرست میں آپ کا نام نامی امتیازی حیثیت کا حامل قرار پایا ، یقینا اس امتحان سے اس استقامت کے ساتھ گذر جانا خلیل اللہ ہی کا کام تھا ، قدرت نے بھی اس عمل کی بہت قدر فرمائی اور تا قیام قیامت اس کی یاد گار کو قائم فرماکر اپنے دوست کو اجرعظیم سے نوازا۔مگر ذبح عظیم کے لقب سے نوازنے کے لیے قدرت کو ایسے نفس مطمئنہ کا انتظار تھا جو مشیت کا اشارہ پاتے ہی بطیب خاطر کبھی اپنے بھائیوں کو تیغوں کے حوالے کردے، کبھی اپنے بھتیجوں کو قتل گاہ کی نذر کردے کبھی اپنے بھانجوں کی جان کا نذرانہ پیش کردے ، کبھی اپنے جوان فرزند کے سینے کو برچھی کی انی کے سامنے کردے اور کبھی اپنے کمسن بچے کے حلقوم کو تیر سہ شعبہ کے حوالے کردے اور اس کے بعد بھی جب جذبہ قربانی کی پیاس نہ بجھے تو اپنے گلوئے خشک کو بے رحم قاتل کے خنجر کی دھار سے ملادے۔ نگاہ قدرت دیکھ رہی تھی کہ ایسا حوصلہ رکھنے والی شخصیت اس کے حبیب خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی کے گھر میں جلوہ گر ہونے والی ہے وہ گھرانا کہ جو تمام فضائل و کمالات کی آماجگاہ تھا۔ اشاعت حق کے سلسلے میں انبیاءکرام کی قربانیاں بہت زیادہ ہیں تاریخ انبیاءکا ورق ورق خونچکاں ہے ان قربانیوں میں جناب یحی کی قربانی دل خراش قربانی بھی ہے لیکن کسی قربانی کو ”ذبح عظیم ” کی سند نہیں ملی ، یہ امتیاز تو مخصوص ہو کررہ گیا تھا آخرین میں سے اس شہید اعظم کے لیے جس کی قربانی بجاطور پر” مصداق ذبح عظیم ” تھی جو نواسہ ئمحمد مصطفی دلبند علی مرتضی جگر گوشہ فاطمہ زہرا تھا جسے اہل عرفان سید الشہداءکے مناسب ترین لقب سے یاد کرتے ہیں جس سورما کا اسم گرامی حسین ہے۔
مصداق ذبح عظیم، حسین ابن علی یہ وہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جو نہ فقط تفاسیر و احادیث بلکہ دنیائے ادب میں بھی روز روشن کی طرح واضح ہے جیسا کہ شاعر مشرق زمین یگانہ روزگار علامہ اقبال نے منظوم فرمایا۔
اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر،معنی ذبح عظیم آمد پسر
یہی وجہ ہے کہ سورہ فجر میں ارشاد ہوا۔
ترجمہ: اپنے رب کی طرف پلٹ آ اس حال میں کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ہو۔ پھر میرے بندوں میں شامل ہو جا۔
Be the first to comment on "حسین ع وارث انبیاء ہے"