مقدمہ تفسیر علیین
الحمد للہ ہم قبل ازیں پاروں کی ترتیب کے ساتھ مفاہیم قرآن کا اردو میں خلاصہ پیش کر چکے ہیں
(جو کتابی شکل میں پرنٹ بھی ہوا)
احباب کی فرمائش پر اس سال بعض آیات کی تھوڑی تفصیل کے ساتھ یہ خلاصہ پیش کیا جائے گا لیکن پہلے کچھ تمہیدی گفتگو کیونکہ قرآن کے پاروں کے خلاصے سے پہلے اختصار کے ساتھ علمِ تفسیر کے اصول اور قرآن کے فضائل کا ایک تحقیقی مقدمہ پیش کرنا ضروری ہے
جو آگے آنے والے پارہ وار خلاصوں اور واقعات کے لیے مضبوط فکری بنیاد فراہم کرے گا۔
🌾
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا آخری اور کامل پیغام ہے، جو انسان کی ہدایت، اخلاقی تربیت اور اجتماعی قیادت کا جامع نظام پیش کرتا ہے۔
اس کے درست فہم کے لیے علمِ تفسیر ناگزیر ہے۔
تفسیر، یعنی قرآن کے الفاظ، آیات اور سوروں کے مفاہیم کی وضاحت، نہ صرف معانی کی وضاحت کرتی ہے بلکہ پیغامِ قرآن کو عملی زندگی سے مربوط بھی کرتی ہے۔
قرآن چونکہ عربی زبان میں نازل ہوا، اس لیے لغوی اور نحوی علوم جاننا ضروری ہے۔
ہر لفظ کا مفہوم، صیغہ اور جملہ بندی قرآن کی تشریح میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
نیز
آیات کس موقع پر اور کس مسئلے پر نازل ہوئیں، جاننا تفسیر میں مددگار ہوتا ہے۔
سبب نزول سے غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں۔
قرآن کی آیات کو ایک دوسرے کے تناظر میں سمجھنا بھی اہم ہے۔
مولاء کائنات کے فرمان کے مطابق عام خاص، ناسخ منسوخ مطلق مقید اور متشابہ اور محکم آیات کوسمجھنا بھی ضروری ہے۔
سب سے بڑھ کے یہ کہ
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ معصومینؑ کی تشریحات اور احادیث، قرآن کے فہم کو روشن کرتی ہیں۔
روایت کا صحیح سلسلہ (اسناد) جانچنا بھی بہت ضروری ہے۔
قرآن کیا ہے؟
قرآن کتاب ہدایت ، راہنمائی ہے
قرآن کو اللہ نے ہدایت کے لیے نازل کیا:
ذلك الكتاب لا ريب فيه هدى للمتقين (2:2)
قرآن کی آیات اخلاق، معاشرت، قانون اور ایمان کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔
قرآن دلوں کا علاج اور روح کی غذا ہے:
وننزل من القرآن ما هو شفاء ورحمة للمؤمنين (17:82)
محفوظ کتاب
قرآن کو اللہ نے ہر قسم کی تحریف سے محفوظ رکھا ہے:
إنا نحن نزلنا الذكر وإنا له لحافظون (15:9)
قرآن کے ذکر اور تلاوت میں برکت ہے:
الذين يذكرون الله قياماً وقعوداً وعلى جنوبهم ويتفكرون في خلق السماوات والأرض (3:191)
قرآن ہر زمانہ کے انسان کے لیے دلیل و حجت ہے۔
حق و باطل کا معیار قرآن ہے۔
قرآن دل و عقل کو روشنی دیتا ہے:
وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ النُّورَ مُبِيناً (4:174)
تفسیر کا مقصد: قرآن کی آیات کو عملی زندگی سے مربوط کرنا اور انسانی فہم میں اضافہ کرنا۔
قرآن کی تلاوت، فہم اور تدبر انسان کی اخلاقی، علمی اور روحانی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔
قرآن میں بیان شدہ واقعات اور قصص کو سمجھ کر انسانی فہم اور امت سازی کی حکمتیں واضح ہوتی ہیں۔
علمِ تفسیر نہ صرف قرآن کی تشریح کا ذریعہ ہے بلکہ یہ انسان کو ہدایت، روشنی اور عملی اصول فراہم کرتا ہے۔
قرآن کے فضائل اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ صرف ایک کتاب نہیں، بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل نظام ہے۔
خادم مکتب و ملت اسلامیہ جعفریہ
کوثر عباس قمی
المعصومین انسٹیٹیوٹ سردار ٹاون اڈیالہ روڈ راولپنڈی
🌾
خلاصہ مفاہیم قرآن کے لیئے دیگر تفسیروں کے ساتھ ساتھ درج ذیل تفاسیر بھی ہمارے پیش نظر ہونگی ان شاء اللہ
تفسیر البلاغ المبین
الکوثر فی تفسیر القرآن
تفسیر البرہان
المیزان فی تفسیر القرآن
تفسیر القمی
مجمع البیان
الکافی
نور الثقلین

Be the first to comment on "مقدمہ تفسیر علیین"