🌙مھدی بر حق🌙


🌾
تحریر✍🏻
کوثر عباس قمی
🌷🌹🌷🌹🌷🌹🌷🌹🌷🌹🌷🌹
15 شعبان کی شب ویسے تو اپنی جگہ بہت فضیلت رکھتی ہے اور اس کے اپنی جگہ کتابوں میں اعمال و اوراد درج ہیں جو گناہوں کے جھڑنے اور رزق میں اضافے کا سبب بنتے ہیں
مگر 15 شعبان کی نسبتوں میں سے ایک خاص نسبت حضرت امام مھدی عج۔۔۔ کی ولادت باسعادت ہے

مؤرخین کا اتفاق ہے کہ آپ کی ولادت باسعادت ۱۵ شعبان ۲۵۵ ھجری یوم جمعہ بوقت طلوع فجرواقع ہوئی ہے جیسا کہ (وفیات الاعیان ،روضة الاحباب ،تاریخ ابن الوردی ،ینابیع المودة،تاریخ کامل طبری ،کشف الغمہ ،جلاٴالعیون ،اصول کافی ، نور الا بصار ، ارشاد ، جامع عباسی ، اعلام الوری ، اور انوار الحسینہ وغیرہ میں موجود ہے کہ آپ شب برات کے اختتام پر بوقت صبح صادق عالم ظھور وشہود میں تشریف لائے ہیں ۔

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی پھوپھی جناب حکیمہ خاتون کا بیان ہے کہ ایک روز میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے پاس گئ تو آپ نے فرمایا کہ اے پھوپھی آپ آج ہمارے ہی گھر میں رہئے کیونکہ خداوندعالم مجھے آج ایک وارث عطافرماے گا ۔ میں نے کہاکہ یہ فرزند کس کے بطن سے ہوگا ۔آپ نے فرمایاکہ بطن نرجس سے متولد ہوگا ،جناب حکیمہ نے کہا :بیٹے!میں تونرجس میں کچھ بھی حمل کے آثارنہیں پاتی،امام نے فرمایاکہ اے پھوپھی
نرجس کی مثال مادرموسی جیسی ہے جس طرح حضرت موسی (ع)کاحمل ولادت کے وقت سے پہلے ظاہرنہیں ہوا ۔اسی طرح میرے فرزند کا حمل بھی بروقت ظاہرہوگا غرضیکہ میں امام کے فرمانے سے اس شب وہیں رہی جب آدھی رات گذرگئی تومیں اٹھی اورنمازتہجدمیں مشغول ہوگئی اورنرجس بھی اٹھ کرنمازتہجدپڑھنے لگی ۔ اس کے بعدمیرے دل میں یہ خیال گذراکہ صبح قریب ہے اورامام حسن عسکری علیہ السلام نے جوکہاتھا وہ ابھی تک ظاہرنہیں ہوا ، اس خیال کے دل میں آتے ہی امام علیہ السلام نے اپنے حجرہ سے آوازدی :اے پھوپھی جلدی نہ کیجئے ،حجت خداکے ظہورکا وقت بالکل قریب ہے یہ سن کرمیں نرجس کے حجرہ کی طرف پلٹی ،نرجس مجھے راستے ہی میں ملیں ، مگران کی حالت اس وقت متغیرتھی ،وہ لرزہ براندام تھیں اوران کا ساراجسم کانپ رہاتھا ،میں نے یہ دیکھ کران کواپنے سینے سے لپٹالیا ،اورسورہ قل ھواللہ ،اناانزلنا و آیة الکرسی پڑھ کران پردم کیا بطن مادرسے بچے کی آواز آنے لگی ،یعنی میں جوکچھ پڑھتی تھی ،وہ بچہ بھی بطن مادرمیں وہی کچھ پڑھتا تھا اس کے بعد میں نے دیکھا کہ تمام حجرہ روشن ومنورہوگیاہے۔ اب جومیں دیکھتی ہوں تو ایک مولود مسعود زمین پرسجدہ میں پڑاہوا ہے میں نے بچہ کواٹھالیا حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے حجرہ سے آواز دی اے پھوپھی ! میرے فرزند کو میرے پاس لائیے میں لے گئی آپ نے اسے اپنی گود میں بٹھالیا اوراپنی زبان بچے کے منہ میں دےدی اورکہا کہ اے فرزند !خدا کے حکم سے کچھ بات کرو ،بچے نے اس آیت :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ونریدان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض ونجعلھم الوارثین کی تلاوت کی ، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ احسان کریں ان لوگوں پرجوزمین پرکمزورکردئیے گئے ہیں اور ان کوامام بنائیں اورانھیں تمام روئے زمین کاوارث قرار دیں اورآپ کے داہنے بازوپریہ آیت منقوش تھی جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا یعنی حق آیا اورباطل مٹ گیا اورباطل مٹ ہی جائے گا

مسلمانوں میں متفق علیہ ہے کہ ذریت رسول میں سے ایک ایسی ھستی کا بہرحال ظہور ہونا ہے جس کا نام م ح م د اور کنیت ابا القاسم نبی کریم ص کی طرح ہو گی اور وہ ظہور کے بعد دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جیسے کہ وہ ظلم و جور سے بھری ہو گی
آپ کی ولادت کو حضرت موسی’ کی ولادت کی طرح چھپایا گیا آپ کو لوگوں نے اس وقت دیکھا جب آپ کے والد گرامی حضرت امام حسن عسکری کا جنازہ پڑھانے کے لیئے امام حسن عسکری کے بھائی جعفر آگے بڑھے تو آپ صفوں میں سے نمودار ہوئے جبکہ آپ کی عمر اس وقت پانچ سال تھی آپ نے آگے بڑھ کے حضرت جعفر کو یہ کہہ کے پیچھے کردیا کہ جب امام کا وارث امام بیٹا موجود ہو تو کوئی اور جنازہ نہیں پڑھا سکتا
آپ نے نماز جنازہ پڑھائی اور پھر صفوں میں ہی غائب ہو گئے
حاکم وقت کے سپاہیوں کا کڑا پہرا تھا انہوں نے بھی گرفتاری کی غرض سے بہت تلاش کیا مگر آپ نہ ملے
255 ھجری سے 329 ھجری تک کا زمانہ آپ کی غیبت کبری’ کا زمانہ کہلاتا ہے جس میں آپ اپنے 4 نائبین کے ذریعے اپنے پیروکاروں سے رابطے میں رہے 329 ھجری میں ا پنے چوتھے نائب کی وفات کے بعد آپ کی غیبت کبری’ کا زمانہ شروع ہوا
جو ابھی تک جاری ہےاسی وجہ سے آپ کو امام زمانہ کہا جاتا ہے

احادیث و تاریخ کی کتب میں آپ کے ظہور سے پہلے کی علامات تفصیل کے ساتھ ذکر ہوئی ہیں

شیعہ روایات میں ظہور سے پہلے کی دنیا کی تین خصوصیات ذکر ہوئی ہیں:

دنیا ظلم و ستم سے بھر چکی ہوگی اور فتنہ ہر گھر میں داخل ہو چکا ہوگا۔
سفیانی و نواصب وغیرہ جیسے دشمنوں کا وجود جو عراق اور دیگر اسلامی ریاستوں میں شیعوں کے خلاف فعالیت میں مشغول ہوں گے اور شام پر قبضہ کرکے وہاں کی حکومت اپنے ہاتھ میں لے لیں گے۔
اسلامی دنیا میں امام زمانہ علیہ السلام کے چاہنے اور ماننے والے اس کوشش میں ہوں گے کہ آپ (ع) کا نام اور یاد دنیا میں پھیلا سکیں۔

علامات ظہور دو طرح کی ہیں: حتمی و غیر حتمی۔

حتمی علامات ظہور
روایات میں ظہور کی جن حتمی علامات کا ذکر ہوا ہے وہ یہ ہیں:

خروج سفیانی: روایات میں جس شخص کا تذکرہ سفیانی کے عنوان سے ہوا ہے وہ شام سے مدینہ کی طرف لشکر کشی کرے گا۔
خسف بیداء: سفیانی کا لشکر بیداء (مکہ و مدینہ کے درمیان ایک بیابان) نامی مقام پر زمین کے اندر دھنس جائے گا۔
ندائے آسمانی: حضرت جبرئیل (ع) آسمان میں ایک ندا بلند کریں گے اور ساری دنیا اسے سنے گی۔
قیام یمانی: اہل یمن میں سے ایک شخص قیام کرے گا اور وہ لوگوں کو امام مہدی (عج) کی طرف دعوت دے گا۔
قتل نفس زکیہ: امام حسین علیہ السلام کی نسل سے ایک شخص خانہ کعبہ کے پاس امام مہدی علیہ السلام کی طرف دعوت دیتے ہوئے قتل کیا جائے گا۔
غیر حتمی علائم ظہور
روایات شیعہ میں صریح طور پر حتمی و قطعی بیان کئے گئے علائم ظہور کے علاوہ تمام دوسرے علائم موقوف، مشروط اور غیر یقینی شمار ہوتے ہیں۔ ایسی علامتیں جن کا ارادہ و مشیت الہی سے تغییر و تبدیل ہونا، ان میں تقدم و تاخر ہونا ممکن ہو، مثلا کسی حدیث میں کسی بلا کے نزول کو کسی شئی سے مشروط کیا گیا ہو تو ممکن ہے کہ وہ بلا مومنین و مسلمین کے توسل و استغفار کی وجہ سے تاخیر کے ساتھ نازل ہو یا اصلا نازل ہی نہ ہو۔

بعض غیر حتمی علائم ظہور: نیمہ ماہ مبارک رمضان میں سورج گرھن، ، مسجد دمشق کے مغربی حصہ کا دھنس جانا، شام کے خرشنا نامی دیہات کا زمین میں دھنس جانا، بصرہ کا ویران ہو جانا، سفیانی کے خلاف قیام کرنے والے ایک شخص کا کوفہ کی پشت پر اپنے ستر ساتھیوں کے ساتھ قتل کر دیا جانا، خراسان کی جانب سے سیاہ پرچموں کا بلند ہونا، شام و عراق میں وسیع تباہی ہونا، آسمان سے ساری دنیا میں غیر معمولی ندائیں بلند ہونا، اس طرح سے کہ پوری دنیا کے لوگ اسے اپنی زبان میں سنیں گے۔

ظہور کا زمانہ اور مقام
امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا دقیق زمانہ معلوم نہیں ہے۔ روایات میں ایسے افراد جو آپ (عج) کے ظہور کا وقت معین کرتے ہیں، ان کی مذمت اور ان پر لعنت کی گئی ہے اور انہیں جھوٹا کہا گیا ہے۔

اگر ظہور کو قیام کے معنی میں لیا جائے تو بعض روایات میں اس کی طرف مختصر طور پر اشارہ ہوا ہے۔ ان احادیث میں امام زمانہ (ع) کے قیام کو لوگوں کی طرف سے نا امید ہونے کے بعد آخر الزمان میں ذکر کیا گیا ہے اور ان میں آپ (ع) کے قیام کو طاق سالوں میں، ایام سال میں سے روز عاشورا و روز نوروز، ایام ہفتہ میں روز جمعہ و روز شنبہ اور اوقات میں نماز عشاء کے بعد ذکر کیا گیا ہے۔

مقام ظہور
بعض روایات میں ظہور کو قیام کے کچھ پہلے ذی طوی کے مقام پر ذکر کیا گیا ہے۔

امام زمانہ علیہ السلام ظہور کے بعد مکہ میں خانہ کعبہ سے اپنے قیام کا آغاز کریں گے۔ آپ (عج) کعبہ میں اپنا پرچم لہرائیں گے اور رکن و مقام کے درمیان اپنے اصحاب سے بیعت طلب کریں گے۔
اس کے بعد انا بقیة الله فی ارضہ، و خلیفتہ و حجتہ علیکم جیسے الفاظ میں اپنا تعارف کرائیں گے۔
اس کے بعد عمومی بیعت لیں گے اور جب آپ کے ہاتھوں پر بیعت کرنے والوں کی تعداد دس ہزار تک پہچ جائے گی تو کوفہ کی سمت اپنی حرکت کا آغاز کریں گے اور کوفہ کو اپنا دارالخلافہ قرار دیں گے
میرا مالک ہمیں صاحب الامر کے اعوان و انصار میں سے قرار دے اور زمانے کی فتنوں سے اپنی امان میں رکھے آمین یا رب العالمین
🌾
ناشر
الۡبَیِّنَہ انسٹیٹیوٹ
🌾
شعبہ نشر و اشاعت المعصومین ٹرسٹ رجسٹرڈ برائے فروغ تعلیمات قرآن و اھل البیت علیہم السلام سردار ٹاون اڈیالہ روڈ راولپنڈی
00923335721286

Be the first to comment on "🌙مھدی بر حق🌙"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*