*ثانیۂ زہرا* اور *نائبۂ زہرا* کا مفہوم
*ھدیہ عقیدت* ✍️
سائل در سیدہ
*کوثر عباس قمی*
ویسے تو سیدتی و مولاتی حضرت زینبِ کبریٰ بنت علی ابن ابی طالب سلام اللہ علیہا
کے بہت سے القابات ہیں
جو حضرت زینب (س) کی سیرت، ان کی بہادری، صبر، اور حق پر ڈٹے رہنے کی نشاندہی کرتے ہیں، خاص طور پر واقعۂ کربلا میں ان کا کردار اور خطبے تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے گئے ہیں.
مگر عالمہ غیر معلمہ اور فہیمہ غیر مفہمہ کے یہ دو لقب *ثانیۂ زہرا* اور *نائبۂ زہرا* واقعا” تعجب خیز ہیں
*جو آپ کے پیام بری کے تسلسل اور قیادتِ الٰہیہ کو بیان کرتے ہیں*
حضرت زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا تاریخِ اسلام کی اُن عظیم اور باوقار شخصیات میں سے ہیں جن کی عظمت صرف نسب یا قرابتِ رسولؐ تک محدود نہیں، بلکہ ان کے فکری، رسالی اور قیادتی کردار نے انہیں ایک دائمی نمونہ بنا دیا۔
آپؑ کی شخصیت درحقیقت سیدۂ کائنات حضرت فاطمہ زہراؑ کے مشن کا تسلسل ہے۔ اسی گہرے معنوی ربط کی بنا پر علمائے اہلِ بیتؑ نے آپ کو «ثانیۂ زہرا» اور «نائبۂ زہرا» جیسے عظیم القاب سے یاد کیا ہے۔
مگر یہاں ایک فضیلت ایسی ہے جو صرف سیدہ کا خاصہ ہے اور وہ یہ کہ
فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بضعہ الرسول ہونے کی بنا پر بحیثیت بیٹی، بحیثیت بیوی اور بحیثیت ماں، نمونہ عمل ہیں
لیکن حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کا بھائی کوئی نہیں تھا تو اس حوالے سے نائبہ الزہراء ہونے کا کردار سیدہ زینب سلام اللہ علیھا نے نبھایا ہے
اگر آپ دقیق انداز سے تاریخ کا مطالعہ کریں تو
دیکھیں گے کہ امام حسین علیہ السلام ہر اہم معاملے میں بہن سے مشورہ کرتے نظر آئیں گے
یعنی ام ابیہا کی نیابت ہو رہی ہے
اور حسین جیسے امام کی زہرا بن کے مشیر ہونا کوئی معمولی بات تو نہیں؟
یہ سیدہ سلام اللہ علیہا کی عظمت اور مقام کی ایک اور دلیل ہے
اسی لیئے ہم کہتے ہیں سیرتِ فاطمیؑ کا عکس
«ثانیۂ زہرا» کا لقب محض ایک تعریفی عنوان نہیں، بلکہ *ایک عمیق حقیقت کا اظہار ہے*۔ حضرت زینبؑ میں وہی صفات بدرجۂ اتم جلوہ گر تھیں جو سیدہ فاطمہ زہراؑ کی پہچان تھیں: علم، عبادت، حیا، صبر، شجاعت اور حق گوئی۔
علامہ باقر شریف قرشیؒ لکھتے ہیں:
«وكانت زينب (عليها السلام) صورةً أُخرى من أُمِّها فاطمة الزهراء، علماً وعبادةً وصبراً وجهاداً، حتى عُرِفَت بثانية الزهراء»
(حياة السيدة زينب عليها السلام، ص 38)
یعنی حضرت زینبؑ علم، عبادت، صبر اور جہاد میں اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہراؑ کی مکمل تصویر تھیں، یہاں تک کہ وہ ثانیۂ زہرا کے لقب سے معروف ہو گئیں۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ زینبؑ، زہراؑ کی بیٹی ہی نہیں بلکہ ان کے کردار اور فکر کا تسلسل تھیں۔
جس طرح سیدہ زہرا سلام اللہ علیہا نے دفاعِ امامت کا فریضہ نبھایا ہے اسی طرح زہرا سلام اللہ علیہا کی نائبہ بن کے سیدہ زینبؑ سلام اللہ
علیہا نے جو کردار خصوصاً واقعۂ کربلا اور اس کے بعد کے حالات میں ادا کیا ہے وہ سیدہ زہرا سلام اللہ علیہا کے کردار کا عکاس ہے
شیخ جعفر نقدیؒ لکھتے ہیں:
«قامت زينب (عليها السلام) مقام فاطمة الزهراء بعد شهادتها، فكانت نائبتها في حفظ الرسالة، والدفاع عن الإمامة، وكشف زيف الطغاة»
(زينب الكبرى، ص 21)
یعنی حضرت زینبؑ نے سیدہ فاطمہ زہراؑ کے بعد ان کے مقام ہو کر رسالت کی حفاظت، امامت کا دفاع کیا اور طاغوتی نظام کے چہرے کو بے نقاب کیا۔
اگر خطبۂ فدکیہ (حضرت فاطمہ زہراؑ) اور خطبۂ کوفہ و شام (حضرت زینبؑ) کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ:
دونوں خطبے قرآنی استدلال پر مبنی ہیں
دونوں میں ظالم اقتدار کو للکارا گیا
دونوں کا مقصد امامتِ حق کا دفاع ہے
اسی لیے یہ کہنا حق بجا ہو گا کہ
*کوفہ و شام میں زینبؑ کی صدا، درحقیقت فدک میں زہراؑ کی بازگشت تھی*۔
عاشورا کے بعد امام زین العابدینؑ کی شدید بیماری کے سبب ،
حضرت زینبؑ سلام اللہ علیہا نے اسیرانِ اہلِ بیتؑ کی قیادت سنبھالی اور نہایت حکمت و جرأت کے ساتھ پیغامِ حسینؑ کو دنیا تک پہنچایا۔
یہی وجہ تھی کہ حضرت امام زین العابدینؑ نے فرمایا:
«أنتِ بحمدِ اللهِ عالِمَةٌ غيرُ مُعَلَّمَة، فَهِمَةٌ غيرُ مُفَهَّمَة»
(الاحتجاج، طبرسی، ج 2، ص 31)
یہ جملہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ سیدہ زینبؑ سلام اللہ علیہا کی بصیرت، فہم اور قیادت الٰہی تائید کی حامل تھی۔
*Published by*
*Al-Bayyina*
Be the first to comment on "*ثانیۂ زہرا* اور *نائبۂ زہرا* کا مفہوم"