ولایت کے راستے میں علم اگر روشنی ہے تو محبت وہ طاقت ہے جو منزل تک پہنچاتی ہے


216- جعفر بن محمد بن مالك قال: حدثني محمد بن جعفر بن عبد الله عن أبي نعيم محمد بن أحمد الانصاري قال: وجه قوم من المفوضة والمقصرة كامل بن إبراهيم المدني إلى أبي محمد عليه السلام. قال كامل:
فقلت في نفسي: أسأله لا يدخل الجنة إلا من عرف معرفتي وقال بمقالتي. (قال) فلما دخلت على سيدي أبي محمد عليه السلام نظرت إلى ثياب بياض ناعمة عليه، فقلت في نفسي:ولي الله وحجته يلبس الناعم من الثياب ويأمرنا نحن بمواساة الاخوان وينهانا عن لبس مثله!فقال متبسما: يا كامل، وحسر عن ذراعيه، فإذا مسح أسود خشن على جلده، فقال: هذا لله وهذا لكم. فسلمت وجلست إلى باب عليه ستر مرخى، فجاء‌ت الريح فكشفت طرفه فإذا أنا بفتى كأنه فلقة قمر من أبناء أربع سنين أو مثلها. فقال لي: يا كامل بن إبراهيم. فاقشعررت من ذلك وألهمت أن قلت:لبيك يا سيدي. فقال: جئت إلى ولي الله وحجته وبابه تسأله هل يدخل الجنة إلا من عرف معرفتك وقال بمقالتك؟ فقلت: إي والله. قال: إذن والله يقل داخلها. والله إنه ليدخلها قوم يقال لهم الحقية. قلت: يا سيدي ومن هم؟ قال: قوم من حبهم لعلي يحلفون بحقه ولا يدرون ما حقه وفضله. ثم سكت صلوات الله عليه عني ساعة ثم قال: وجئت تسأله عن مقالة المفوضة. كذبوا! بل قلوبنا أوعية لمشيئة الله، فإذا شاء شئنا، والله يقول:﴿وَمَا تَشَآؤُونَ إِلاَّ أَنْ يَشَآءَ اللهُ﴾. ثم رجع الستر إلى حالته فلم أستطع كشفه، فنظر إلي أبومحمد عليه السلام متبسما فقال: يا كامل، ما جلوسك وقد أنبأك بحاجتك الحجة من بعدي؟ فقمت وخرجت ولم أعاينه بعد ذلك.
Kitāb al-Ghayba
Book 1, Chapter 34
Evidence of the Birth of the Master of the Age
Ḥadīth
بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار علیهم السلام, جلد ۲۵, صفحه ۳۳۶
🌾
شیخ طوسی جعفر فزاری سے، وہ محمد بن جعفر بن عبداللہ سے اور وہ ابو نعیم محمد بن احمد انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ مفوضہ اور مقصرہ کے عقائد رکھنے والے ایک گروہ نے کامل بن ابراہیم مدنی کو بطور نمائندہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا۔

کامل کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ میں امام سے یہ سوال کروں گا کہ کیا جنت میں صرف وہی شخص داخل ہوگا جو میری طرح امام کی معرفت رکھتا ہو اور میرے جیسا عقیدہ رکھتا ہو۔

وہ کہتے ہیں کہ جب میں اپنے آقا ابو محمد امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ آپ نے سفید رنگ کا نرم و ملائم لباس زیب تن کیا ہوا ہے۔ میں نے پھر اپنے دل میں کہا کہ اللہ کے ولی اور اس کی حجت خود تو نرم لباس پہنتے ہیں اور ہمیں بھائیوں کے ساتھ ہمدردی اور ایثار کا حکم دیتے ہیں اور ہمیں ایسے لباس پہننے سے منع کرتے ہیں۔

یہ خیال آنا ہی تھا کہ امام نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ اے کامل اور اپنی آستین اوپر چڑھائی تو نیچے جسم مبارک پر سیاہ کھردرا لباس موجود تھا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ اندر والا کھردرا لباس اللہ کے لیے ہے اور یہ اوپر والا نرم لباس تم لوگوں کے لیے ہے۔

میں نے سلام کیا اور ایک دروازے کے پاس بیٹھ گیا جس پر پردہ لٹکا ہوا تھا۔ اتنے میں ہوا چلی اور پردہ ایک طرف سے ہٹ گیا، تو اچانک میری نظر ایک بچے پر پڑی جو چاند کے ٹکڑے کی مانند خوبصورت تھے، جن کی عمر تقریباً چار سال یا اس کے لگ بھگ تھی۔

انہوں نے مجھے پکارا کہ اے کامل بن ابراہیم۔ میرے جسم پر کپکپی طاری ہوگئی اور میرے دل میں الہام ہوا تو میں نے بے اختیار کہا کہ لبیک یا سیدی یعنی میں حاضر ہوں میرے آقا۔

آپ نے فرمایا کہ تم اللہ کے ولی، اس کی حجت اور اس کے دروازے کے پاس یہ پوچھنے آئے ہو کہ کیا جنت میں وہی داخل ہوگا جو تمہاری طرح معرفت رکھتا ہو اور تمہاری طرح عقیدہ رکھتا ہو؟ میں نے کہا کہ جی ہاں، اللہ کی قسم۔

آپ نے فرمایا کہ اگر ایسا ہو تو اللہ کی قسم جنت میں جانے والے بہت کم ہوں گے۔ اللہ کی قسم جنت میں ایک ایسی قوم بھی ضرور داخل ہوگی جنہیں حقیہ کہا جاتا ہے۔

میں نے پوچھا کہ اے میرے آقا یہ کون لوگ ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو علی علیہ السلام سے اپنی شدید محبت کی وجہ سے ان کے حق کی قسم کھاتے ہیں حالانکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کا اصل حق اور فضل کیا ہے۔

پھر آپ علیہ السلام مجھ سے کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا کہ اور تم مفوضہ کے عقیدے کے بارے میں پوچھنے آئے ہو؟ انہوں نے جھوٹ بولا۔ بلکہ ہمارے دل اللہ کی مشیت اور مرضی کے برتن ہیں۔ پس جب وہ چاہتا ہے تو ہم چاہتے ہیں اور اللہ فرماتا ہے کہ اور تم نہیں چاہتے مگر یہ کہ اللہ چاہے۔

اس کے بعد پردہ اپنی پہلی حالت پر واپس آگیا اور میں اسے دوبارہ ہٹا نہ سکا۔ پھر امام حسن عسکری علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا اور فرمایا کہ اے کامل اب کیوں بیٹھے ہو؟ تحقیق کہ میرے بعد آنے والی حجت نے تمہیں تمہاری حاجت اور سوال کی خبر دے دی ہے۔

پس میں کھڑا ہوا اور باہر نکل آیا، اور اس کے بعد میں نے ان کی زیارت نہیں کی۔ ابو نعیم کہتے ہیں کہ پھر میں کامل سے ملا اور ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ واقعہ بیان کیا۔
🌾
یہ حقیہ کون ہیں ؟
حدیث کی مختصر تشریح
(حجت الاسلام و المسلمین عبد اللہ عترتی صاحب کی وال سے اقتباس)
ہمارے معاشرے میں بسنے والے کروڑوں محبانِ اہلِ بیت ایسے ہیں جنہوں نے کبھی بڑے مدرسوں میں جا کر علمِ کلام یا فلسفہ نہیں پڑھا، انہیں ولایت کی دقیق علمی بحثوں کا نہیں پتہ لیکن ان کے دلوں میں محبت کا یہ عالم ہے کہ ان کا کوئی بھی کام علیؑ کے نام کے بغیر شروع نہیں ہوتا۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں امام نے حقیہ قرار دیا ہے۔

بسا اوقات کچھ پڑھے لکھے لوگ یا علماء ان عام لوگوں پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ لوگ دین کی باریکیاں نہیں جانتے یا جذبات میں غلو کرتے ہیں لیکن اس روایت نے یہ ثابت کر دیا کہ امام زمانہ (عج) کی نظر میں یہ جہالت قابلِ گرفت نہیں ہے کیونکہ اس کی بنیاد محبت ہے۔

امام زمانہ علیہ السلام نے اس گروہ کا ذکر کر کے یہ واضح فرمایا کہ نجات کا دارومدار صرف کتابی علم یا دقیق عقلی معرفت پر نہیں ہے بلکہ قلبی تعلق اور خلوصِ نیت بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
کامل بن ابراہیم کا گمان تھا کہ جنت صرف ان خواص کے لیے ہے جو معرفت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں لیکن امام نے حقیہ کا تذکرہ کر کے بتایا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی سادگی اور علمی کم مائیگی کو ان کی شدید محبت کے صدقے معاف فرما دیتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ذہن سے زیادہ دل سے جڑے ہوئے ہیں اور جب یہ ٹوٹے ہوئے دل سے یا علی کہتے ہیں یا ان کے حق کا واسطہ دیتے ہیں تو ان کی یہ پکار بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت پاتی ہے۔

یہ روایت ان سب کے لیے خوشخبری ہے کہ اگرچہ وہ عالم نہیں بن سکے، اگرچہ وہ دین کی پیچیدہ تشریحات نہیں کر سکتے لیکن ان کا یہ ٹوٹا پھوٹا عشق اور سادگی سے لیا گیا علیؑ کا نام انہیں جنت کے دروازوں تک لے جائے گا۔
یہ یا علی مدد کا کلچر درحقیقت اسی فطری محبت کا اظہار ہے جسے امام نے سندِ قبولیت عطا فرمائی ہے۔

یاد رکھیں کہ دین صرف خشک قواعد اور پیچیدہ اصطلاحات کا نام نہیں بلکہ عشق اور سر تسلیم خم کرنے کا نام ہے۔
حقیہ وہ عاشقانِ اہل بیت ہیں جن کا عقیدہ شاید علمی معیار پر مفصل نہ ہو لیکن ان کی وفاداری اور وارفتگی شک و شبہ سے بالا تر ہوتی ہے۔
یہ حدیث درحقیقت ان تمام عام مومنین کے لیے امید کا پیغام ہے جو اہل بیت کے دامن سے وابستہ ہیں کہ ان کی یہ سادہ اور فطری محبت رائیگاں نہیں جائے گی بلکہ یہی محبت انہیں جنت کے دروازوں تک لے جانے اور جنت میں داخل کرنے کا سبب بنے گی۔
پس معلوم ہوا کہ ولایت کے راستے میں علم اگر روشنی ہے تو محبت وہ طاقت ہے جو منزل تک پہنچاتی ہے
Published by
الۡبَیِّنَہ انسٹیٹیوٹ
شعبہ نشر و اشاعت
المعصومین ٹرسٹ رجسٹرڈ
برائے فروغ تعلیمات قرآن و اھل البیت علیہم السلام
سردار ٹاون اڈیالہ روڈ راولپنڈی 00923335721286

Be the first to comment on "ولایت کے راستے میں علم اگر روشنی ہے تو محبت وہ طاقت ہے جو منزل تک پہنچاتی ہے"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*