حضرت امام جعفر ابن محمد، الصادق علیہ السلام
ضبط تحریر ✍🏻
کوثر عباس قمی
🌾
نبی کریم ص کی دعوت تبلیغ اسلام کو روکنے اور مٹانے کے لیے کفار، مشرکین اور منافقین نے ہر حربہ استعمال کیا مگر ناکام رہے
نبی کریم انتہائی جاں فشانی اور حکمت سے فریضہ ابلاغ دین انجام دیتے رہے مگر “ابتر” کے طعنے
اور سورہ اسراء کی آیت نمبر 60 کے مطابق
نبی کریم کے خواب نے آپ کو رنجیدہ اور پریشان کر دیا
دشمنان اسلام نے کہا نبی کریم کی نرینہ اولاد (بیٹا) کوئی نہیں لھذا ان کے انتقال کے بعد ان کا دین اور وہ بے نام و نشان ہو جائیں گے
مکرو و مکر اللہ واللہ خیرالماکرین ۔۔۔
دشمنان اسلام (آپ کو قتل کرنے اور دین اسلام کو مٹانے کی) سازشیں اور تدبیریں کرتے ہیں ، ان کی سازشوں اور مکاریوں کے جواب میں خدا کی تدبیر بھی ہوتی ہے اور وہ تدبیر کرنے والوں میں بہترین تدبیر کرنے والا ہے
خداوند متعال نے اپنے حبیب کو
ولسوف یعطیک ربک فترضی’
کہہ کے تسلی دی اور پھر
انا اعطیناک الکوثر
کہہ کے اپنا وعدہ پورا کر دیا
کہ میرے حبیب آپ رنجیدہ خاطر نہ ہوں ہم نے آپ کو خاتم الرسل قرار دیا ہے جس دین کو پہچانے میں آپ نے اتنی تکالیف برداشت کی ہیں ہم نے قیامت تک اس دین اسلام کی حفاظت کا بندوبست کر دیا ہے
ہم نے آپ کو الکوثر (مرکز خیر کثیر (یعنی زہرا جیسی بیٹی ) عطا کی ہے جن کے شوہر گرامی اور آپ کی اولاد میں سے 11 یعنی کل 12 آئمہ قیامت تک ہر قیمت پر دین کے محافظ ہوں گے، جان مال اور اولادوں کی قربانی دینا گوارا کر لیں گےمگر دین اسلام میں نہ تو تبدیلی ہونے دیں گے اور نہ مٹنے دیں گے، ہر زمانے میں لوگوں تک وہی دین کماکان فی زمن رسول اللہ پہنچاتے رہیں گے۔
اسی بنا پہ نبی کریم ص نے فرمایا کہ
ان الدین لایزال ماضیاً قائماً عزیزاً منیعاً ماکان فیھم اثناعشرامیراً اوخلیفةً، کلھم من قریش“
بخاری اور مسلم دونوں نے رسول خدا(ص) سے روایت نقل کی ھے کہ آپ نے فرمایا: بیشک دین اسلام اس وقت تک غالب، قائم اور مضبوط رھے گا جب تک اس میں بارہ امیر یا بارہ خلیفہ رھيں گے، یہ سب قریش سے ھوں گے۔
(چاہے انہیں ظاہری حکومت ملے یا نہ ملے کیونکہ وہ میری رسالت کے محافظ اور میرے جانشین ہیں
ان کی حکومت وسلطنت کی مثال حضرت ابراہیم کی حکومت و سلطنت کی طرح ہے جس کے متعلق سور نساء کی آیت نمبر 54 میں یوں ارشاد فرمایا
)اَمۡ یَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰی مَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۚ فَقَدۡ اٰتَیۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ مُّلۡکًا عَظِیۡمًا
کیا یہ ان لوگوں سے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نوازا ہے؟
آل ابراہیم کو کتاب و حکمت تو ہم نے عطا کی ہے اور انہیں عظیم سلطنت عنایت کی۔)
(بعض نسخوں میں بنی ھاشم بھی آیا ھے، اور صحاح ستہ کے علاوہ دوسری کتب فضائل و مناقب و شعر و ادب میں ان حضرات کے اسماء بھی مذکور ھیں
ان میں سب سے معروف وہ روایت ہے جس میں آپ نے حضرت جابر ابن عبد اللہ انصاری کو ان تمام آئمہ کے نام بھی بتائے اور فرمایا تھا کہ آپ میرے پانچویں جانشین حضرت امام محمد باقر ع تک زندہ رہیں گے ان سے ملاقات ہو تو میرا سلام کہنا ۔۔۔ )
آیات قرآنی اور حکم خدا
یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ اِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ
سورۃ مائدہ ۶۷۔
اے رسول ! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دیجئے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ آپ کو لوگوں (کے شر) سے محفوظ رکھے گا، بے شک اللہ کافروں کی رہنمائی نہیں کرتا۔)
کے تحت
نبی کریم نے اپنے پہلے اور،آخری حج کے بعد مقام غدیر خم پہ ایک لاکھ چوبیس ہزار کے مجمعے میں اپنے پہلے جانشین محافظ دین و شریعت کا
من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ کہہ کے تعین اور اعلان کر دیا
علی ع کی شھادت کے بعد امام حسن ع آپ ص کے جانشین ہوئے
پھر امام حسین ع
پھر امام علی زین العابدین ع
پھر امام محمد باقر ع
پھر امام جعفر صادق ع
پھر امام موسی’ کاظم ع
پھر امام علی رضا ع
پھر محمد تقی ع اور پھر علی نقی علیہ السلام
🌿
امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام اور جوانان جنت کے دونوں سردار حضرات حسنین شریفین علیھما السلام کے کارہائے نمایاں اور مسند علم و فقہ پر متمکن رشد و ہدایت کے فیوض سے کون واقف نہیں ہے۔ ان کا تو ذکر ہی بلند ہے۔ ان سے وابستہ ہو جانے والے حتی’ غلام و کنیزیں بھی علمی مراتب میں اپنی مثال نہیں رکھتیں۔
کربلا کے مصائب اور خونین حادثات کو برداشت کرنے کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام کا دین اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہو جانا بھی انوکھی نظیر ہے۔ صحفیہ سجادیہ جسے زبور آل محمد کہا گیا ہے حضرت سجاد علیہ السلام کے علمی آثار کا ایک ممتاز نمونہ ہے۔
امام محمد باقر علیہ السلام وہ کوہ علم ہیں جس کی بلندیوں تک انسانی نگاہیں پہنچنے سے قاصر ہیں۔ وہ ایسی ذی وقار شخصیت ہیں جن کے در پر بڑے بڑے عالم اور نابغہ روزگار جبہ رسائی کیے بغیر اپنے آپ کو نامکمل اور ادھورا تصور کرتے تھے۔ آپ کا لقب ” باقر ” اسی لیے ہے کہ آپ بات سے بات پیدا کرتے اور علم کو شگافتہ کر کے اس کی تہہ و حقیقت سے دنیا کو روشناس کراتے اور ایسے مسائل بیان فرماتے جو وارث قرآن حکیم ہی بیان کر سکتا ہے۔ آپ کا شریعت کدہ علم کا مرکز اور حکمت کا عظیم منبع اور سر چشمہ تھا جس سے ایک عرصہ تک دنیا فیض حاصل کرتی رہی
🌾
جعفر بن محمد (83۔148 ھ) امام جعفر صادقؑ کے نام سے مشہور، اثنا عشری کے چھٹے امام ہیں۔ آپ کی مدت امامت 34 سال (114-148ھ) تھی۔ آپ کے والد ماجد امام محمد باقرؑ پانچویں امام ہیں۔ بنی امیہ کے آخری پانچ خلفا ہشام بن عبدالملک سے آخر تک اور بنی عباس کے پہلے دو خلفا سفاح اور منصور دوانیقی آپ کے معاصر ہیں۔ آپ کے دور امامت میں بنی امیہ کے زوال اور بنی عباس کے نو ظہور اور غیر مستحکم حکومت کی وجہ سے دوسرے ائمہ کی بنسبت آپ کو زیادہ سے زیادہ علمی امور کی انجام دہی کا موقع ملا۔ آپ کے شاگردوں اور راویوں کی تعداد 4000 ہزار تک بتائی گئی ہیں۔ اہل بیتؑ سے منسوب اکثر احادیث آپ سے نقل ہوئی ہیں۔ اسی بنا پر شیعہ مذہب کو مذہب جعفریہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
امام صادقؑ کو اہل سنت کے فقہی پیشواؤں کے یہاں بھی بڑا مقام حاصل ہے۔ ابو حنیفہ اور مالک بن انس نے آپ سے روایت نقل کی ہیں۔
ابو حنیفہ آپؑ کو مسلمانوں کے درمیان سب سے بڑا عالم سمجھتے تھے۔
بنی امیہ حکومت کے زوال اور شیعوں کی طرف سے درخواست کے باوجود آپ نے حکومت کے خلاف قیام نہیں فرمایا۔
ابو مسلم خراسانی اور ابو سلمہ کی طرف سے خلافت کی ذمہ داری قبول کرنے سے متعلق درخواست کو بھی آپ نے رد فرمایا۔ اسی طرح اپنے چچا زید بن علی کی تحریک میں بھی آپ شریک نہیں ہوئے۔ آپ شیعوں کو بھی قیام سے پرہیز کی سفارش فرماتے تھے۔ ان سب چیزوں کے باوجود حاکمان وقت کے ساتھ بھی آپ کے تعلقات اچھے نہیں تھے۔ بنی امیہ اور بنی عباس کے سیاسی دباؤ کی وجہ سے آپ تقیہ کیا کرتے تھے اور شیعوں کو بھی تقیہ کی سفارش فرماتے تھے۔
امام صادقؑ نے اپنے پیروکاروں کے ساتھ زیادہ رابطے میں رہنے، درپیش شرعی سوالات کا جواب دینے، وجوہات شرعیہ کے دریافت اور اپنے پیروکاروں کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے وکالتی نظام تشکیل دیا۔ اس نظام میں آپ کے بعد آنے والے اماموں کے دور میں وسعت آتی گئی یہاں تک کہ غیبت صغری’ کے دور میں یہ نظام اپنے عروج پر جا پہنچا۔ آپ کے دور میں غالیوں کی فعالیتوں میں شدت آئی۔ آپ نے ان کے خلاف نہایت سخت اقدامات انجام دیئے اور انہیں کافر اور مشرک قرار دیا۔
بعض منابع میں آیا ہے کہ آپ کو حکومت وقت کے حکم پر عراق بلایا گیا جس دوران آپ کربلا، نجف اور کوفہ بھی تشریف لے گئے۔ آپؑ نے امام علیؑ کا مرقد جو اس وقت تک مخفی تھا، مشخص فرمایا اور اپنے پیروکاروں کو دکھایا۔
شیعہ حدیثی منابع کے مطابق آپ نے امام کاظمؑ کو اپنے بعد بعنوان امام اپنے اصحاب کے سامنے متعارف کرایا تھا، لیکن امام کاظمؑ کی جان کی حفاظت کی خاطر آپ نے عباسی خلیفہ منصور دوانیقی سمیت پانچ افراد کو اپنا وصی (جو وصیت پہ عمل کریں) مقرر کیا تھا۔
آپ کی شہادت کے بعد شیعوں میں مختلف فرقے وجود میں آگئے جن میں اسماعیلیہ، فَطَحیہ اور ناووسیہ شامل ہیں۔
امام صادقؑ کے متعلق لکھی گئی کتابوں کی تعداد 800 تک بتائی جاتی ہے۔ جن میں اخبار الصادق مع ابی حنیفہ و اخبار الصادق مع المنصور تالیف محمد بن وہبان دبیلی (چوتھی صدی ہجری)، اس سلسلے کی قدیمی کتابوں میں سے ہیں۔ آپ سے متعلق بعض دوسری کتابوں میں: زندگانی امام صادق جعفر بن محمدؑ مصنف سید جعفر شہیدی، الامام الصادقؑ و المذاہب الاربعۃ، مصنف اسد حیدر، پیشوائے صادق، مصنف سید علی خامنہ ای اور موسوعۃ الإمام الصادق، مصنف باقر شریف قَرَشی قابل ذکر ہیں۔
سیاسی اور سماجی حوالے سے امام جعفر صادق ؑ کی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا سکتا ہے:
ایک حصہ بنی امیہ کا دور حکومت اور دوسرا حصہ بنی عباس کا دور حکومت۔ مجموعی طور پر ان دو ادوار میں بنی امیہ کے آخری دس اور بنی عباس کے پہلے دو خلفاء کو آپ کے معاصر خلفاء مانے جاتے ہیں۔
امام باقرؑ کو جس وقت ہشام بن عبد الملک نے شام تشریف لے جانے پر مجبور کیا تو اس سفر میں اپنے والد ماجد کے ہمراہ امام صادقؑ بھی تھے۔
آپؑ کی امامت کا دورانیہ 34 سالوں پر محیط تھا جس میں بنی امیہ کے آخری پانچ اور بنی عباس کے پہلے دو خلفا سفاح اور منصور کی حکومت تھی۔اس دوران بنی امیہ اپنی بقا کی جنگ ہار گئی جس کے نتیجے میں اسلامی دنیا پر بنی عباس کی خلافت قائم ہوئی۔ بنی امیہ روبزوال ہونے اور بنی عباس اپنی نوپا اقتدار کو استحکام بخشنے میں مصروف ہونے کی وجہ سے امام صادقؑ کو علمی اور ثقافتی سرگرمیوں کیلئے کسی حد تک مناسب موقع فراہم ہوا۔ البتہ یہ آزادی صرف دوسری صدی ہجری کے تیسرے عشرے میں نصیب ہوئی جبکہ اس سے پہلے بنی امیہ کی بنی ہاشم سے دیرینہ دشمنی نیز نفس زکیہ اور ان کے بھائی ابراہیم کی تحریک کی وجہ سے آپ بھی سیاسی دباؤ کا شکار رہا۔
آپ سے نقل ہونے والی بعض مشہور احادیث درج ذیل ہیں:
حدیث توحید مُفَضَّل: توحید مُفَضَّل ایک طولانی حدیث ہے جسے امام صادقؑ نے چار نشستوں میں مُفَضَّل بن عمر کو املاء فرمایا۔
اس حدیث میں کائنات کی خلقت، خلقت انسان، دنیائے حیوانات کی حیرت انگیزیاں، آسمان اور زمین کی حیرت انگیزیاں، موت کی حقیقت اور اس کا فلسفہ وغیرہ جیسے موضوعات پر بحث کی گئی ہے۔
حدیث عِنوان بَصری حدیث عِنوان بَصری میں امام صادقؑ نے عبودیت کی تعریف کے بعد عِنوان بصری نامی شخص کے لئے ریاضت نفس، بردباری اور علم و معرفت کے حوالے سے مختلف دستورالعمل بیان فرمایا ہے۔
مقبولہ عُمَر بن حَنظَلہ: اس حدیث میں قضاوت اور تعارض روایات کے موضوع پر بحث فرمائی ہے۔
🌿
Shared by Albayyena
Be the first to comment on "17 ربیع الاوّل کی مناسبت سےحضرت امام جعفر صادق علیہ السلام پر لکھی گئی تحریر"