مقتل کربلا:
2 محرم سے شب عاشور تک کے مختصر واقعات۔۔۔۔!!
ترتیب وتدوین
کوثر عباس قمی
امام حسینؑ اور آپ کے اصحاب 2 محرم سنہ 61 ہجری کو کربلا کی سر زمین پر پہنچے ہیں،
جب حر نے امامؑ سے کہا: “یہیں اتریں کیونکہ فرات قریب ہے”۔
امامؑ نے فرمایا: “اس جگہ کا نام کیا ہے؟”۔
سب نے کہا: كربلا۔
فرمایا: یہ كَرْب (رنج) اور بَلا کا مقام ہے۔ میرے والد صفین کی طرف جاتے ہوئے یہیں اترے اور میں آپ کے ساتھ تھا۔ رک گئے اور اس کا نام پوچھا۔ تو لوگوں نے اس کا نام بتا دیا اس وقت آپ نے فرمایا: “یہاں ان کی سواریاں اترنے کا مقام ہے، اور یہاں ان کا خون بہنے کا مقام ہے”، لوگوں نے حقیقت حال کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: “خاندان محمدؐ کا ایک قافلہ یہاں اترے گا”۔
امام حسینؑ نے فرمایا: یہ ہماری سواریاں اور ساز و سامان اتارنے کی جگہ ہے اور یہیں ہمارا خون بہنے کا مقام ہے۔ اور اس کے بعد حکم دیا کہ سازوسامان یہیں اتار دیا جائے اور ایسا ہی کیا گیا اور وہ پنج شنبہ (جمعرات) دو محرم کا دن تھا۔
منقول ہے کہ کربلا میں پڑاؤ ڈالنے کے بعد، امام حسینؑ نے اپنے فرزندوں، بھائیوں اور اہل خاندان کو اکٹھا کیا اور ان سب پر ایک نگاہ ڈالی اور روئے؛ اور فرمایا:
“اللهم انا عترة نبيك محمد، وقد اخرجنا وطردنا، وازعجنا عن حرم جدنا، وتعدت بنو امية علينا، اللهم فخذ لنا بحقنا، وانصرنا على القوم الظالمين”۔
ترجمہ: خداوندا! ہم تیرے نبیؐ کی عترت اور خاندان ہیں جنہیں اپنے [شہر و دیار سے] نکال باہر کیا گیا ہے اور حیران و پریشان اپنے نانا رسول اللہؐ کے حرم سے نکالا گیا ہے؛ اور بنو امیہ نے ہمارے خلاف جارحیت کی؛ خداوندا! پس ان سے ہمارا حق لے لے اور ظالموں کے خلاف ہماری نصرت فرما”۔
اس کے بعد آپ نے اصحاب کی طرف رخ کیا اور فرمایا:
” ان الناس عبيد الدنيا، والدين لعق على السنتهم، يحوطونه ما درت معايشهم، فإذا محصوا بالبلاء قل الديانون”۔ ترجمہ: لوگ دنیا کے غلام ہیں اور دین صرف ان کی زبانوں تک محدود ہے اس وقت تک دین کی حمایت و پشت پناہی کرتے ہیں جب تک ان کی زندگی فلاح و رفاہ میں ہو اور جب بھی بلاء اور آزمائش کی گھڑی ہو تو دیندار بہت قلیل ہیں۔
اس کے بعد امامؑ نے سرزمین کربلا کو ـ جس کا رقبہ 4 مربع میل تھا ـ نینوی’ اور غاضریہ کے باشندوں سے 60000 درہم کے عوض خرید کر اپنے بیٹے علی اکبر ع کے نام کر دی ۔
اور ان پر شرط رکھی کہ آپ کی قبر کی طرف لوگوں کی راہنمائی کریں گے اور تین دن تک ان کی پذیرائی اور ضیافت کا اہتمام کیا کریں گے۔
دو محرم سنہ 61 ہجری کو امام حسینؑ اور اصحاب کربلا میں حسینؑ کے سرزمین کربلا پر اترنے کے بعد، حر بن يزيد ریاحی نے ایک خط عبید اللہ بن زیاد کے لئے لکھا اور اس کو اس امر کی اطلاع دی۔حر کا خط ملتے ہی عبید اللہ نے ایک خط امام حسینؑ کے نام بھیجا جس میں اس نے لکھا تھا:
“امّا بعد، اے حسینؑ! کربلا میں تمہارے پڑاؤ ڈالنے کی خبر ملی؛ حاکم وقت یزید بن معاویہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ چین سے نہ سؤوں اور پیٹ بھر کر کھانا نہ کھاؤں جب تک کہ تمہیں خدائے دانائے لطیف سے ملحق نہ کردوں (یعنی قتل کردوں) یا پھر تمہیں اپنے حکم اور یزید کے حکم کی تعمیل پر آمادہ کروں!۔ والسلام”۔
مروی ہے کہ امام حسینؑ نے پڑھنے کے بعد خط کو ایک طرف پھینک دیا اور فرمایا:
“جن لوگوں نے اپنی رضا اور خوشنودی کو خدا کی رضا اور خوشنودی پر مقدم رکھا وہ ہرگز فلاح نہ پاسکیں گے”۔ ابن زیاد کے قاصد نے کہا: “یا ابا عبداللہ! آپ خط کا جواب نہیں دیں گے؟ فرمایا: “اس خط کا جواب اللہ کا دردناک عذاب ہے جو بہت جلد اس کو اپنی لپیٹ میں لے گا”۔قاصد ابن زیاد واپس چلا گیا اور امام حسینؑ کا کلام اس کے سامنے دہرایا اور عبید اللہ نے امامؑ کے خلاف جنگ کے لئے لشکر تشکیل دینے کا حکم دیا (جاری ہے)
Be the first to comment on "2 محرم الحرام"