کلمات اللہ ہستیوں کی راہنمائی میں پاروں کی ترتیب کے ساتھ قرآنی مفاہیم کا اردو میں خلاصہ
تفسیر علیین
🌾
آٹھویں پارے کا خلاصہ
🥀
آئمہ معصومین علیہم السلام کے فرامین کی روشنی میں بعض آیات کی ضروری تفسیر کے ساتھ
جمع آوری مفاہیم ✍️
کوثر عباس قمی
🌿
آٹھواں پارہ دو عظیم سورتوں پر مشتمل ہے:
اختتامِ سورۃ الانعام اور آغازِ سورۃ الاعراف۔
اس پارے میں توحید، رسالت، انسانی ذمہ داری، شیطانی وسوسوں، سابقہ اقوام کے انجام اور آخرت کی جواب دہی جیسے بنیادی عقائد نہایت مؤثر انداز میں بیان ہوئے ہیں۔
جب مشرکینِ مکہ اور کفارِ عرب نے رسول کریمﷺ سے مختلف طرح کی نشانیوں کو طلب کرنا شروع کیا۔ کبھی وہ کہتے کہ ہمارے اوپر فرشتے اترنے چاہئیں‘ کبھی وہ کہتے کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو ہم اپنے پروردگار کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں اور کبھی وہ کہتے کہ ہمارے آبائو اجداد جو اس دنیا سے چلے گئے ہیں‘ ان کو دوبارہ زندہ کریں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول کریمﷺ کو کافروں کی سرشت سے آگاہ کیا کہ ان کافروں کی نشانیاں طلب کرنے والی بات کوئی حق پرستی پر مبنی نہیں‘ بلکہ یہ تو صرف اور صرف حق سے فرار حاصل کرنے کے لیے اس قسم کے مطالبات کر رہے ہیں
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے اور ان سے مردے بات کرنے لگتے اور ہر چیز کو ان کے سامنے لا کھڑا کر دیتے تو بھی وہ ایمان لانے والے نہیں تھے‘ سوائے اس کے کہ اللہ چاہے۔
مکہ کے بہت سے کافر متعدد نشانیوں کو دیکھ کر بھی مسلمان نہ ہوئے۔
یہاں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دل کی آمادگی شرطِ اوّل ہے۔
امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے:
“اللہ بندے کو اس کی نیت کے مطابق توفیق دیتا ہے۔”¹
یہ آیت انسانی ارادے اور توفیقِ الٰہی کے باہمی تعلق کو واضح کرتی ہے۔
🌿
سورہ انعام کی آیت نمبر ۱۱۵ میں ارشاد ہوا
وَ تَمَّتۡ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدۡقًا وَّ عَدۡلًا ؕ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ ۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ۱۱۵
۔اور آپ کے رب کا کلمہ سچائی اور عدل کے اعتبار سے کامل ہے، اس کے کلمات کو تبدیل کرنے والا کوئی نہیں اور وہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے
🌱
قرآن مجید میں لفظ “کلمہ” یا کلمات کثرت سے استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم ہے
ایک فیصلہ، یا
ایک پیغام یا
وعدہ
اس آیت میں اللہ کے کلمہ سے مراد فیصلہ، وعدہ اور وعید ہو سکتے ہیں کہ اللہ نے اسلام کی فتح و نصرت کا وعدہ کیا ہے اور اسلام کے غلبہ کا جو فیصلہ اور مشرکین کی شکست و خواری کی جو وعید ہوئی، وہ پوری ہو گی
اور اللہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ کفار برا مانیں۔
صِدۡقًا: یہ وعدہ صادق ثابت ہو گا اور جیسے پہلے خبر دی ہے، اسی کے مطابق واقع ہو گا۔
عَدۡلًا: ہر خبر اور اس کا وقوع عدل و انصاف پر ہو گا۔ اسلام کا غلبہ ہو گا تو اس میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہو گی۔
لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ: یہ اللہ کا اٹل فیصلہ ہے، جس میں کسی قسم کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے:
🌱
امام جعفر صادق علیہ السلام سے امام ع کی صفات میں وارد ہے کہ امام ماں کے پیٹ میں لوگوں کی باتیں سنتا ہے اور جس وقت وہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے دونوں شانوں کے درمیان اور ایک روایت کے مطابق اس کے داہنے بازو پہ یہ پوری آیت لکھی جاتی ہے وتمت کلمۃ ربک۔۔
پھر جب امر امامت اس کے سپرد کیا جاتا یے تو اللہ اس کے لیے نور کا ایک ستون قائم کر دیتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی رعایا کے کل اعمال کو دیکھتا ہے
تو اللہ کا یہ وعدہ کہ
دین کا اقتدار اور دینی تعلیمات کا نفاذ ہو گا اور ظلم و جور کی جگہ زمین عدل و انصاف سے پرُ ہو گی کن سے ہے اور کب پورا ہو گا اس کو سورہ نور کی آیت نمبر 55 میں بیان فرمایا
وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا ؕ یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا ؕ وَ مَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ۵۵۔
تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور نیک اعمال بجا لائے ہیں اللہ نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے کہ انہیں زمین میں اس طرح جانشین ضرور بنائے گا جس طرح ان سے پہلوں کو جانشین بنایا اور جس دین کو اللہ نے ان کے لیے پسندیدہ بنایا ہے اسے پائدار ضرور بنائے گا اور انہیں خوف کے بعد امن ضرور فراہم کرے گا، وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اور اس کے بعد بھی جو لوگ کفر اختیار کریں گے پس وہی فاسق ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کے بعد فرمایا:
اہل البیت ہاہنا واشار بیدہ الی القبلہ۔ (روح المعانی ۹: ۳۹۶)
قبلہ کی طرف اپنے دست مبارک سے اشارہ کرکے فرمایا اہل البیت علیہم السلام یہاں ہیں۔
اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا
ان ھذا الامر لا ینقضی حتی یمضی فیہم اثنا عشر خلیفۃ۔یہ دنیا اس وقت تک ختم نہ ہو گی جب تک بارہ خلیفہ نہ گزریں۔
🌱
آیت نمبر ۱۲۲
اَوَ مَنۡ کَانَ مَیۡتًا فَاَحۡیَیۡنٰہُ وَ جَعَلۡنَا لَہٗ نُوۡرًا یَّمۡشِیۡ بِہٖ فِی النَّاسِ کَمَنۡ مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیۡسَ بِخَارِجٍ مِّنۡہَا ؕ کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ۱۲۲۔
کیا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کر دیا اور ہم نے اسے روشنی بخشی جس کی بدولت وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پھنسا ہوا ہو اور اس سے نکل نہ سکتا ہو؟
یوں کافروں کے لیے ان کے کرتوت خوشنما بنا دیے گئے ہیں
🌱
اگرچہ یہ آیت ابوجہل کی نبی کریم ص کی بے ادبی کے بعد حضرت حمزہ کے اس کے سر یا ناک پہ کمان مارنے اور پھر ایمان لانے پہ نازل ہوئی مگر صفات کے لحاظ سے عام مومنین و کفار اس کا مصداق ہو سکتے ہیں
اس لیے کہ کافی میں حضرت امام محمد باق ع سے مروی ہے کہ میت سے مراد وہ شخص ہے جو جاہل ہو اور کچھ نہ جانتا ہو اور نور سے مراد (زمانے) کا امام ہے جس کی وہ (معرفت و) ھدایت حاصل کرنے کے بعد اقتدا کرتا ہے
اور کمن مثلہ فی الظلمات سے مراد وہ شخص ہے جو امام کو نہ پہچانتا ہو
🌿
آیت نمبر 124 میں ارشاد ہوا
اور جب کوئی آیت ان کے پاس آتی ہے تو کہتے ہیں: ہم اس وقت تک ہرگز نہیں مانیں گے جب تک ہمیں بھی وہ چیز نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے، اللہ (ہی) بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہاں رکھے، جن لوگوں نے جرم کا ارتکاب کیا انہیں ان کی مکاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں عنقریب ذلت اور شدید عذاب کا سامنا کرنا ہو گا
🌾
یہ ان سرداروں کا ذکر ہے جو تکبر اور حسد کی بنا پر کہتے تھے رسالت کا عہدہ ہمیں کیوں نہیں ملتا؟
ولید بن مغیرہ نے کہا اگر نبوت حق ہے تو اس کا زیادہ حقدار میں ہوں ابوجہل نے کہا کہ ہم ہرگز اس بات پہ راضی نہ ہونگے کہ ہم عبد مناف کی اولاد کی اتباع کریں جب تک ہم پر بھی اسی طرح کی وحی نہ آجائے
اس آیت میں اس بات کا جواب دیا گیا ہے کہ الہی منصب (رسالت ہو یا امامت) کس کو دینا چاہیے اور اس بار امامت کو کس کے کاندھوں پہ رکھنا چاہیے اسے اللہ بہتر جانتا ہے
الہی منصب کا تعین اللہ کی حاکمیت اعلی’ کا حصہ ہے
🌿
آیت نمبر 116 میں واضح کیا کہ معیار نہ تو اکثریت ہے اور نہ ہی ظن و گمان
معیار محکم یقین اور برہان کے ساتھ کسی بھی مسئلے کا ثابت ہونا ہے چاہے اکثریت اس کے خلاف ہی کیوں نہ ہو
امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب فرماتے ہیں:
“حق کبھی لوگوں کی کثرت سے نہیں پہچانا جاتا، پہلے حق کو پہچانو پھر اہلِ حق کو پہچانو۔
🌾
پھر فرمایا ظاہری گناہوں سے بھی بچو اور باطنی سے بھی
ظاہری گناہ کا تعلق اعمال اور باطنی گناہوں کا تعلق دل میں رہنے والے گناہوں سے ہے جیسے شرک شک حسد، طمع، مومن سے بغض، خود پسندی اور تکبر وغیرہ،
🌾
اس کے بعد کی آیات میں بیان فرمایا کہ مردار کھانے کی ممانعت کیوں ہے اور تاکید کی اس حلال جانور کا گوشت کھاو جو صحیح طریقے سے اللہ کے نام کے ساتھ ذبح کیا گیا ہو
(کیونکہ اس کا فاسد خون جو صحت کے لیئے مضر ہوتا ہے نکل جاتا ہے)
اور اپنی مرضی سے حلال اور حرام بنانا خدا کے معاملے میں دخل دینا ہے جو بہت بڑا جرم ہے
🌾
آیت نمبر 121 میں بیان فرمایا کہ شیاطین جنوں میں سے بھی ہو سکتے ہیں اور انسانوں میں سے بھی شیطان یعنی سرکش
پس ہر وہ جو وسوسہ پیدا کرتا ہے اسے شیطان کا نام دیا گیا چاہے جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے
🌾
آیت نمبر 122 میں بیان فرمایا کہ مردہ شخص کون ہوتا اور زندہ کون؟
حی وہ جو خدا کے نور کے ساتھ لوگوں میں زندگی بسر کرے اور مردہ وہ جو ظلمات سے باہر ہی نہ نکل سکے
🌾
آیت 122 میں فرمایا اکابر (بڑے لوگوں میں سے) مجرمین ہر دور اور ہر بستی میں ہوتے ہیں
🌾
آیت نمبر ۱۲۵ میں ارشاد ہوا
پس جسے اللہ ہدایت بخشنا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کشادہ کر دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے اس کے سینے کو ایسا تنگ گھٹا ہوا کر دیتا ہے گویا وہ آسمان کی طرف چڑھ رہا ہو، ایمان نہ لانے والوں پر اللہ اس طرح ناپاکی مسلط کرتا ہے۔
🌾
اور مذکورہ آیت میں مذکور شرح صدر جیسا عظیم عطیہ الٰہی جسے حاصل ہو گا، اس کا دل تنگ نہ ہو گا۔ ہدایت کی باتوں اور پاک افکار کے لیے اس کے سینے میں بڑی وسعت ہو گی
دل کی حق کو قبول کرنے کے لیئے آمادگی ہو گی
اورجس کو اللہ خود اس کی شامت اعمال کے نتیجے میں گمراہی میں چھوڑ دینا چاہتا ہے، اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے۔
جب اسے پاک افکار اور ہدایت کی باتیں بتائی جاتی ہیں تو اچھی باتیں سن کر اس کا دم گھٹتاہے،
گویا کہ وہ بلندی پر چڑھ رہا ہو۔ یہ باتیں اس کے مزاج کے خلاف ہیں۔ ان باتوں سے اسے نفرت ہوتی ہے۔ وہ کہے گا: ان فرسودہ دقیانوسی باتوں کو سننے کا میرے پاس کوئی وقت نہیں ہے۔
🌾
مجمع البیان میں آیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شرح صدر کے بارے میں پوچھا گیا کہ یہ کیا چیز ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا:
نور یقذفہ اللّٰہ فی قلب المؤمن فیشرح صدرہ و ینفسح قالو فہل لذلک امارۃ یعرف بھا؟ فقال نعم: والانابۃ الی دار الخلود والتَّجَافِی عن دار الغرور و الاستعداد للموت قبل نزولہ۔ (بحار الانوار ۶۵: ۲۳۶۔ الأمالی للطوسی، ص ۵۳۱ مجلس ۱۹۔ الدر المنثور ۴: ۱۳۰)
ایک نور ہے جسے اللہ مؤمن کے دل میں ڈالتا ہے تو اس کا سینہ کشادہ ہوتا ہے اور وسعت آ جاتی ہے۔ پوچھا گیا یہ نور کب آتا ہے اس کی کوئی علامت بھی ہے؟ فرمایا : ہاں! ہمیشہ کے گھر کی طرف متوجہ رہنا، دھوکے کے گھر سے اجتناب کرنا، موت آنے سے پہلے اس کے لیے تیار رہنا
🌿
ایسے ایمان کو (کہ جس کے سبب دل میں قبول حق کے لیئے وسیع ظرف موجود ہو) کو آیت نمبر 126 میں صراط مستقیم قرار دیا گیا ہے جس پہ چلنے سے دار السلام(یعنی جنت) کا وعدہ کیا گیا ہے
اور وہ صراط مستقیم راہ ولایت ہے یعنی راہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام
جس راہ پہ چلنے والوں کا ملائکہ در جنت پہ استقبال کریں گے اور کہیں گے
سلام طبتم فادخلوہا خالدین
اس آیت میں بیان فرمایا کہ جہاں کسی اور ولی کی حاکمیت نہیں ہو گی
🌾
آیت نمبر ۱۲۸ میں بیان فرمایا کہ جنوں کی تعداد انسانوں سے زیادہ ہے (مگر کثرت معیار حق نہیں) ہم قیامت والے دن ان جنوں اور اور انسانوں سے پوچھیں گے کہ تم لوگوں نے ایک دوسرے سے شہوانی فائدے اٹھائے
جنو! تم نے انسانوں کو بہکانے، ان کو راہ راست سے ہٹانے کے لیے خوب کام کیا
جن کہیں گے ہم نے ان کو مجبور تو نہیں کیا
ہم نے تو برائی کے مراکز بنا کے ان کو اس کی دعوت دی انہوں نے ہماری پیروی کی
(آج بھی دنیا میں انسانوں کی اکثریت ایسے ہی ہے)
جنوں کے بہکانے سے انسانوں نے خوب خواہشات سے لذت حاصل کی اور جنوں نے انسانوں کو اپنے پیرو بنا کر خوب مزا اڑایا
اور پھر موت نے تمہیں آلیا
(تم آخرت کو بھول گئے تھے) پس آج تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے
🌿
پھر فرمایا کہ ہم ظالم سے انتقام ، ظالم ہی کے ذریعے لیتے ہیں
یہ ان کے اعمال کا طبعی نتیجہ ہے
🌿
خدا اتمام حجت ضرور کرتا ہے
آیت نمبر ۱۳۰
اے گروہ جن و انس ! کیا تمہارے پاس خود تم میں سے رسول نہیں آئے تھے جو میری آیات تمہیں سناتے تھے اور آج کے دن کے وقوع کے بارے میں تمہیں متنبہ کرتے تھے؟
اس سے پتہ چلتا ہے کہ جنوں میں بھی نبی مبعوث ہوئے
جیسا کہ اخبار عیون الرضا میں ایک روایت ہے کہ ایک شامی نے امیرالمومنین سے پوچھا تھا کہ خدا نے جنوں میں بھی کوئی نبی مبعوث فرمایا ؟ تو آپ نے فرمایا کہ ہاں ایک نبی بھیجا تھا جس کا نام یوسف تھا اس نبی نے ان کو حکم خدا سنایا تو ان جنوں نے اسے قتل کر دیا
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ محمد مصطفی’ ص کو خدا تعالی’ نے جنوں کے لیے بھی نبی بنا کے بھیجا اور آدمیوں کے لیے بھی
🌿
آیت نمبر 132 میں ایک بہترین اصول بیان فرمایا کہ اعمال کی کیفیت اور نوعیت کے حساب سے درجات کا تعین ہوتا ہے
🌾
آیت نمبر 36 میں مشرکین کے اس نظریے کا رد ہے جنہوں نے کھیتی اور جانوروں میں بتوں اور خدا کے حصے بنا رکھے تھے
🌾
پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ اللہ نے یہودیوں پر ان کی بغاوت اور سرکشی کی وجہ سے ہر ناخن والا جانور حرام کر دیا تھا اور گائے اور بکری کی پیٹھ پر لگی چربی کے علاوہ باقی چربی کو بھی ان پر حرام کر دیا تھا‘ لیکن یہودیوں کی سرکشی کا عالم یہ تھا کہ جب چربی ان کے لیے حرام کر دی گئی تو اسے پگھلا کر (تیل بنا کر) بیچ دیتےاور اس کی قیمت کھا جاتے‘‘۔
🌿
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اولاد کے قتل کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ لوگ گھاٹے میں ہیں‘جنہوں نے اپنی اولادوں کو بے وقوفی کے ساتھ قتل کر دیا اور اپنی مرضی سے اللہ تعالیٰ کے جائز کیے ہوئے رزق کو حرام قرار دیا۔
نیز فرمایا کہ جب فصلوں کی کٹائی کا دن آئے‘ اس دن اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کیا کرو۔ جب اللہ تعالیٰ ہر چیز عطا فرماتے ہیں تو اس کا حق بھی بروقت ادا ہونا چاہیے۔
اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے رزق کی ان چار بڑی اقسام کا بھی ذکر کیا‘ جو انسانوں پر حرام ہیں۔ پہلا رزق‘ جو انسانوں پر حرام ہے‘ وہ مردار ہے‘ اسی طرح جانور کو ذبح کرتے وقت جو خون بہتا ہے وہ خون بھی انسانوں پر حرام ہے‘ خنزیر کا گوشت بھی انسانوں پر حرام ہے اور اسی طرح غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ بھی انسانوں پر حرام ہے۔
🌿
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کے اس غلط عذر کو بھی رد کیا کہ وہ اپنے اور اپنے آبائو اجداد کے بارے میں کہیں گے‘ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم اور ہمارے آبائو اجداد ہرگز شرک نہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ اور ان سے پہلے لوگ بھی اسی طرح جھوٹ تراشتے رہے۔
لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَاۤ اَشۡرَکۡنَا: مشرکین اپنے شرک و کفر کی توجیہ پیش کرتے ہیں کہ ہم اللہ کی مشیت کے مطابق شرک کر رہے ہیں، ورنہ اگر اللہ ہم سے شرک نہ چاہتا تو ممکن نہ تھا کہ ہم شرک کا عمل انجام دیتے۔ لہٰذا ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ اللہ کی طرف سے ہے۔
۲۔ کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ تم سے پہلے کفر و شرک کرنے والے یہی طریقہ تکذیب اختیار کرتے رہے ہیں جو سراسر ظن و تخمین پر مبنی ہے۔ تم نے مشیت سے جبر مراد لیا ہے۔
اگر اللہ تربیت و تعلیم، استدلال و تعقل کا راستہ چھوڑ کر جبر کا راستہ اختیار فرماتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا، جیسے تمہارے جسمانی نظام کو قائم رکھنے کے لیے قلب و جگر کو ہدایت دے رکھی ہے لیکن مسلوب الاختیار ہدایت سے غرض خلقت اور مقصد شریعت پورا نہیں ہوتا۔
۳۔ قُلۡ ہَلۡ عِنۡدَکُمۡ مِّنۡ عِلۡمٍ: اللہ کی مشیت کو اس کی رضا مندی سے تعبیر کرنا ایک نہایت فحش غلطی ہے، جس میں کچھ اسلامی مذاہب بھی مبتلا ہیں۔
مرضی خدا اور مشیت خدا میں بڑا فرق ہے
مشیت الٰہی یہ ہے کہ انسان خود مختار اور اپنے ارادے میں آزاد ہے تاکہ اسے امتحان میں ڈالنا، مکلف بنانا اور اس کے اعمال کے لیے ثواب و عقاب مرتب کرنا درست رہ جائے۔
انسان اللہ کی اس عدم جبر کی مشیت کے تحت خود مختار ہے۔ اسی خود مختاری کے تحت گناہ بھی کرتا ہے اور ثواب کا کام بھی کرتا ہے۔ اچھے عمل کو اس نے پسند کیا اور گناہ کو ناپسند کیا ہے۔
🌾
اللہ تعالیٰ مزید کہتے ہیں کہ اے نبی! آپ ان کو کہہ دیجئے کہ (جو اللہ نے تحریر کیا ہے) کیا تم اس کو جانتے ہو؟
اگر جانتے ہو تو اس کو ہمارے سامنے پیش کرو۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ یہ ارشاد فرما رہے ہیں کہ لوگ غلطی تو خود کرتے ہیں‘ لیکن خواہ مخواہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔
🌿
آیت نمبر ۱۴۹ میں ارشاد ہوا
قل فللہ الحجۃ البالغہ
آیت نمبر ۱۴۹ سے پہلے والی
آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرک افراد بہت سے دیگر کناہگاروں کی طرح مسئلہ جبر کے سہارے اپنی ذمہ داریوں سے فرار چاہتے ہیں اور اپنی نافرمانیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
یہ بھی در اصل جبر کے معتقد تھے اور کہتے تھے: ہم جو بھی کام کرتے ہیں وہ الله کی مرضی سے اور اسی کے ارادہ کے مطابق ہے، وہ اگر نہ چاہتا تو یہ اعمال ہم سے سرزد نہ ہوتے، وہ در اصل یہ کہہ کر چاہتے تھے کہ اپنے آپ کو ان تمام گناہوں سے بَری کردیں، ورنہ ہر انسان کا ضمیر خود اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ انسان اپنے اعمال میں آزاد ہے مجبور نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص اس کے حق میں ظلم کرے تو وہ ناراحت ہوتا ہے اور اس سے مواخذہ کرتا ہے اور صاحب اقتدار ہونے کی صورت میں اس سے انتقام بھی لے سکتا ہے، یہ تمام چیزیں اس بات کی مظہر ہیں کہ وہ مجرم کو اس کے عمل میں آزاد اور بااختیار کروادیا ہے اس جرم کی سزا دینے سے چشم پوشی نہیں کرتا (اس بات پر غور کرنا چاہیے)
لیکن یہ احتمال بھی اس آیت کے معنی میں ہے کہ وہ (مشرک) اس بات کے مدعی تھے کہ بُت پرستی اورتحریم حیوانات کے مقابلہ میں خدا کا سکوت اس کی رضا مندی کی دلیل ہے کیونکہ اگر وہ راضی نہ ہوتا تو کسی بھی طریقہ سے ہمیں اس برے عمل سے روک سکتا تھا۔
”وَلَاآبَاؤُنَا “ کہہ کر انھوں نے یہ چاہا ہے کہ اپنے غلط عقائد کو قدامت ودوام کا رنگ دیں اور کہیں کہ یہ کوئی نئی بات ہے بلکہ گذشتہ قوموں میں سے اور لوگ بھی جھوٹی باتوں کے قائل تھے، لیکن ان کا نتیجہ کیا ہوا؟ وہ بھی آخر کاراپنی بدکرداریوں کے نتائج میں گرفتار ہوئے اور انھوں نے ہماری سزا کا مزہ چکھا۔
، دراصل دعوت انبیاء خود اس بات کی ایک اہم دلیل ہے کہ انسان اپنے ارادہ میّں خود مختار ہے۔
آخر میں مزید فرماتا ہے: ”تم یقینی طور پر کوئی دلیل اپنے اس دعوے کو ثابت کرنے لئے نہیں رکھتے صرف اپنے خام خیالات کی پیروی کرتے ہو“
🌿
اس کے بعد کی آیت میں مشرکوں کے دعوے کوباطل کرنے کے لئے ایک اور دلیل کا ذکر فرماتا ہے: کہو: خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے بھی اور عقل بشری کے ذریعے بھی توحید اور اپنی یکتائی پر اسی طرح حلال وحرام کے احکام کے بارے میں صحیح اور روشن دلیلیں بیان کی ہیں اور یہ دلیلیں اس طرح کی ہیں کہ ان کے بعد کسی کو عذر کی گنجائش باقی نہ رہ جاتی (قُلْ فَلِلّٰہِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ)۔
بنابریں وہ لوگ یہ دعویٰ ہرگز نہیں کرسکتے کہ خدا نے اپنے سکوت سے ان کے ناروا عقائد واعمال پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے نہ ہی وہ یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ وہ اپنے اعمال میں مجبور ہیں کیونکہ اگر مجبور ہوتے تو دلیل قائم کرنا، پیغمبروں کا بھیجنا اور ان کی دعوتیں اور تبلیغیں یہ سب بیکار ہوجاتی ہیں، دلیل کا قائم کرنا خود آزادیٴ ارادہ کی دلیل ہے۔
خدائے تعالیٰ نے تمام انسانوں کے لئے عقل ونقل کے ذریعے، علم وذہن کے ذریعے اور اسی طرح رسولوں اور آئمہ معصومین کے ذریعے ہر حیثیت سے روشن اور ہر ذہن میں اتر جانے والے دلائل پیش کئے ہیں تاکہ لوگوں کے لئے کسی تردید کی گنجائش باقی نہ رہ جائے،
اس بناپر خدا نے اپنے پیغمبروں کو ہر طرح کے گناہ واشتباہ سے معصوم قرار دیا ہے تاکہ ان کے لائے ہوئے پیغاموں سے ہر طرح کے شک وشبہ کو دور کرے
بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے قدرت ومشیّتِ الٰہی کو ”مذہب جبر“ اختیار کرنے کا ایک بہانہ بنالیا تھا حالانکہ الله کی مشیت وقدرت دونوں برحق ہیں لیکن ان کا لازمہ جبر نہیں ہے، وہ چاہتا ہے کہ ہم آزاد رہیں اور حق کا راستہ اپنے اختیار سے طے کریں۔
کتاب کافی میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:
”انّ الله علی النّاس حجّتین حجةٌ ظاہرة وحجة باطنة) فامّا الظاہرة فالرسل والانبیاء والائمة، وامّا الباطنة فالعقول“
”خداوندکریم نے لوگوں کے لئے اپنی دوحجتیں قرار دی ہیں، ایک حجت ظاری دوسری باطنی حجت انبیاء ورسل وآئمہ ہیں اور باطنی حجت انسان کی عقل ہے“
یہ بات بدیہی ہے کہ مذکورہ بالا روایت کا یہ مقصد نہیں کہ حجت بالغہ سے صرف یہی گفتگو مراد ہے جو قیامت میں خدا اپنے بندوں سے کرے گا، خدائے متعال کی بہت سی حجتہائے بالغہ ہیں جن میں سے ایک کا مصداق وہی ہے جس کا ذکر حدیث فوق میں آیا ہے کیونکہ الله کی حجت بالغہ بہت وسیع ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی
🌿
آیت نمبر ۱۳۵ ظالموں کے لیے کوئی فلاح نہیں:
کہدیجئے: اے میری قوم! تم اپنی جگہ عمل کرتے جاؤ میں بھی عمل کرتا ہوں، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کا انجام کار اچھا ہوتا ہے
ناقابل ہدایت مشرکین کے لیے آخری حجت یہ ہے کہ اگر تم راہ راست پر نہیں آتے تو اپنی بد اعمالیوں میں مگن رہو،
اِنِّیۡ عَامِلٌ میں بھی اپنی تبلیغ رسالت کا کام جاری رکھتا ہوں،۔۔۔۔۔ عنقریب تمہیں خبر ہو گی کہ کس کا انجام کیا ہو گا۔ بہرحال یہ تو طے ہے کہ ظالموں کا انجام برا ہو گا
🌿
آیت 151 سے 153 تک
ایسی چیزوں کا ذکر ہے جس کے بارے میں خدا نے دستور حیات بیان کیا ہے:
🌾کسی کو اسکا شریک نہ بناؤ
🌾والدین پر احسان کرو
🌾مفلسی کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو
🌾کسی طور پر بھی بے حیائی کے قریب نہ جاؤ
🌾ناحق قتل نہ کرو
🌾اور یتیم کے مال کے نزدیک نہ جاؤ
🌾ناپ تول انصاف کے ساتھ پورا کرو
🌾ہم کسی پر اسکی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتے۔۔
🌾بات کرو تو عدل کے ساتھ
🌾 اللہ سے کیا ہوا عہد پورا کرو
صراط مستقیم کی اتباع کرو
🌾یہ ساری ہدایتیں اس لئے دی ہیں تاکہ تقوی الہیٰ اختیار کرو۔
🌿
( آیت 155)
اور یہ ایک مبارک کتاب ہے جو ہم نے نازل کی پس اس کی پیروی کرو اور تقویٰ اختیار کرو پھر تم پر رحم ممکن ہو گا
مبارک یعنی اس میں زندگی کی تمام الجھنوں کا حل ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاتے جائیں، ختم ہونے والا نہیں ہے۔
🌿
کیا یہ لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا آپ کا رب خود آئے یا آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آجائیں؟ جس روز آپ کے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں گی تو کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہیں دے گا جو (نشانی کے آنے سے) پہلے ایمان نہ لا چکا ہو یا حالت ایمان میں اس نے کوئی کارخیر انجام نہ دیا ہو، کہدیجئے:انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں
امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے:
یَوۡمَ یَاۡتِیۡ بَعۡضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ، تمہارے رب کی کچھ نشانیاں آئیں، سے مراد سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع کرنا ہے (یعنی امام زمانہ کا ظہور)
۔اس دن ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ (تفسیر القمی، ۱: ۱۲۲، سورۃ الانعام)
آیت 162
میری نماز ،میرے مناسک، میرا جینا اور مرنا فقط اللہ کے لئے ہے
آیت 165
اللہ نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا۔
بعض کے درجات بعض پر بلند کئے اور
انھیں جو عطا کیا ہے وہ امتحان و آزمائش کے لئے ہے۔
سوره اعراف۔۔
نزول قرآن مجید کا مقصد: لوگوں کو تنبیہ
اھل ایمان کی نصیحت کے لئے ہے۔
دوسروں کے بجائے قرآن کی اتباع کرے۔
اس دن (اعمال کا) تولا جانا برحق ہے،
پھر جن (کے اعمال) کا پلڑا بھاری ہو گا پس وہی فلاح پائیں گے ۔
🌿
آیت 38–53
اہل جنت و اہل جہنم کے آپس میں اور خدا کے ساتھ مکالمے
جب بھی کوئی جماعت جہنم میں داخل ہو گی اپنی ہم خیال جماعت کے لئے کہے گی کہ خدایا انہوں نے ہمیں ہمیں گمراہ کیا سو ان کو دگنا عذاب دے
اللّہ فرمائے گا : سب کو دوگنا عذاب ملے گا لیکن تم نہیں جانتے
متکبرین اور خدا کی آیات کو جھٹلانے والوں کے لئے جنت میں جانا اسی طرح محال ہو گا جس طرح سوئی کے ناکے سے اونٹ کا گزرنا
اہل جنت ایمان اور نیک اعمال کے سبب
جنت کے وارث بنائے جائیں گے
اہل جنت اہل جہنم کو پکار کر کہیں گے ہم سے جو وعدے ہمارے رب نے کیے انہیں سچا پایا
اصحاب اعراف وہ لوگ جو جنت و جہنم کے درمیان بلند مقام پر ہوں گے۔۔
اور اہل جنت اور اہل جہنم دونوں کو انکی شکلوں سے پہچان لیں گے اور اھل جہنم کہیں گے
تھوڑا پانی ہم پر انڈیل دو
فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ:
اس موقع پر ایک اذان دینے والے نے اذان دی۔ یعنی اعلان کیا۔
یہ موذن کون ہو گا
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے کوفہ میں ایک خطبہ میں فرمایا :
انا المؤذن فی الدنیا والآخرۃ قال اللہ تعالیٰ: فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیۡنَہُمۡ اَنۡ لَّعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ انا ذلک المؤذن و قال: وَاَذَانٌ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖٓ انا ذلک المؤذن۔
(بحار الانوار ۲۳: ۲۸۲)
ابن عباس سے روایت کی ہے کہ یہ مؤذن علی علیہ السلام ہیں)میں دنیا و آخرت دونوں کا مؤذن ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیۡنَہُمۡ اَنۡ لَّعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ میں ہی وہ مؤذن ہوں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَاَذَانٌ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖٓ۔ یہاں بھی میں مؤذن ہوں۔
سورہ اعراف کی آیت 59 سے 87
پانچ قوموں کے قصے:
حضرت نوح ع
حضرت ھودع
آیت 65 سے 72
قوم ثمود
حضرت صالح ع
آیت 73 سے 79
حضرت لوط ع
آیت 80 سے 84
شعیب اھل مدین
( آیت 85 سے 87)
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآنِ پاک پڑھنے‘ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے، آمین!
سائل در اھل البیت علیہم السلام،
کوثر عباس قمی الحیدری
Be the first to comment on "کلمات اللہ ہستیوں کی راہنمائی میں پاروں کی ترتیب کے ساتھ قرآنی مفاہیم کا اردو میں خلاصہ تفسیر علیین🌾آٹھویں پارے کا خلاصہ🥀"