کشمیر جل رہا ہے😔استعفی یا آئینی ایمرجنسیAn article by s.tasawur naqvi

کشمیر جل رہا ہے
😔
استعفی یا آئینی ایمرجنسی
An article by s.tasawur naqvi
آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال نہایت تشویشناک اور سنگین شکل اختیار کر چکی ہے۔ آئینی و انتظامی ادارے مکمل طور پر مفلوج ہو گئے ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رٹ ختم ہوتی جا رہی ہے اور انارکی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ عام شہریوں اور سرکاری اہلکاروں پر پرتشدد حملے ہو رہے ہیں جن کے نتیجے میں متعدد افراد شہید اور بڑی تعداد میں زخمی ہو رہے ہیں۔ بے گناہوں کا خون سرِ عام بہایا جا رہا ہے۔
ریاست پاکستان اور پاکستانی اداروں کے خلاف باتیں کی جارہی ہیں اور لوگوں کے جذبات کو ابھارا جا رہا ہے۔اوورسیز کے لوگوں میں بھی کافی اشتعال ہے۔

اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین 1974ء کے مطابق عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری حکومتِ پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔ آئینِ پاکستان 1973ء بھی اس ذمہ داری کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا حکومتِ پاکستان پر لازم ہے کہ عوام، سرکاری اہلکاروں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر آئینی اقدامات اٹھائے اور اپنی آئینی و قانونی ذمہ دارایاں پوری کرنے میں دیر نہ کرے۔

اس بدترین بحران کی ذمہ داری آزاد کشمیر کے حکومتی اتحاد میں شامل تمام جماعتوں پر عائد ہوتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اپوزیشن کے نام پر کوئی قوت موجود نہیں جو عوام کے زخموں پر مرہم رکھ سکے یا حکومتی پالیسیوں سے ناراض لوگوں کو ایک متبادل راستہ فراہم کر سکے۔ جب تمام جماعتیں اقتدار کا حصہ ہوں اور یہ بھی جانتی ہوں کہ حکومت بدعنوانی اور نااہلی کی بدترین مثال بن چکی ہے اور عوام کا اعتماد اس سے اٹھ چکا ہے، پھر بھی اقتدار سے چمٹے رہنا اور نااہل وزیراعظم کی حکومت کو سہارا دینا دراصل عوامی اضطراب کو مزید بڑھاتا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ سیاسی نظام پر عوام کا اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ لوگ اس طرز سیاست و حکومت کو گالی سمجھنے لگے ہیں اور اس سے بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔ جب شدید بد انتظامی ہو، وزیروں اور مشیروں کی ایک فوج ہو جو پبلک فنڈز اپنی عیاشیوں پر خرچ کریں تو ایسی صورت میں احتجاج اور انارکی فطری ردِعمل ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ حکومتی اتحاد فوری طور پر مستعفی ہو، وزیرِاعظم انوار الحق جو پہلے ہی غیر مقبول ہیں، جنکی نہ تو اپنی کوئی پارٹی ہے اور نہ وہ کسی کو جوابدہ ہیں، وہ استعفیٰ دے کر عوام سے معافی مانگیں۔

اس کے بعد ذمہ داران، تمام سیاسی جماعتوں اور آئینی اداروں کو چاہیے کہ عوامی مطالبات کے تحت ایک غیرجانبدار کمیٹی تشکیل دیں جس میں آئینی و سیاسی ماہرین شامل ہوں تاکہ ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ ساتھ ہی فوری عام انتخابات کی تاریخ دی جائے تاکہ عوام نئے مینڈیٹ کے ذریعے اپنی پسند کی حکومت منتخب کریں اور وہ حکومت اپنی آئینی و سیاسی ذمہ داریاں پوری کرے۔۔۔!!

آزاد کشمیر کے حالات گہرے غور و فکر اور مسلسل گفت و شنید کے ذریعے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ یہ حالات اچانک پیدا نہیں ہوئے بلکہ وقت کے ساتھ زوال پذیر ہوئے ہیں مگر کسی نے سننے کی زحمت نہیں کی۔ اب بھی راستہ موجود ہے۔ تشدد، محاصرے، جلاؤ گھیراؤ، لاک ڈاؤن یا طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ نقصان کو بڑھاتا ہے۔ لہٰذا وفاقی حکومت، حکومتِ آزادکشمیر، تمام سیاسی جماعتیں، قائدین اور ایکشن کمیٹیاں مل کر فوری اور باقاعدہ مذاکرات شروع کریں۔مذاکرات ہی واحد رستہ جنکے ذریعے مسائل کا حل ممکن ہے۔ یہ اندرونی لڑائی کسی کے مفاد میں نہیں؛ نہ یہاں کے عام لوگ فائدہ اٹھائیں گے اور نہ ہی کشمیر کے اصل مطالبات یا تحریکِ آزادی کو بلکہ سب کو سنگین نقصان پہنچے گا۔ تحمل، سمجھوتہ اور آئینی طریقہ کار اپنانا واحد حکمتِ عملی ہے جس سے مسائل کا حل ممکن ہے۔

اس ساری صورتحال میں جو لوگ ریاست پاکستان، ریاستی اداروں اور بالخصوص مسلح افواج پاکستان کے خلاف اپنا بغض نکال رہے ہیں انکا یہ کردار انتہائی شرمناک، اور گھٹیا ہے
جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔پاکستان کی کسی حکومت سے سیاسی اختلاف ہو سکتے ہیں، کسی پالیسی سے اختلاف ممکن ہے اور کسی لیڈر نے مایوس بھی کیا ہوگا، مگر پاکستان کی سول سوسائٹی، ادارے، مسلح افواج اور اہلِ وطن ہمیشہ سے کشمیریوں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور کبھی انہیں مایوس نہیں کیا۔ پاکستان کشمیریوں کے ایمان کا حصہ ہے اور اس کی مٹی سے انہیں گہری محبت ہے۔ حکومت یا کسی پالیسی پر اعتراض ممکن ہے، مگر ریاستِ پاکستان اور اسکے پرچم سے نفرت ناقابلِ قبول ہے۔

آزاد کشمیر میں چلنے والی عوامی تحریک، جو بنیادی حقوق کے تقاضے کے تحت شروع ہوئی اور عوام کی حمایت پائی۔ عوام کے منصفانہ مطالبات پورے ہونے چاہئیں۔ بوسیدہ نظام میں اصلاحات لازم ہیں تاکہ لوگوں کا معیار زندگی بلند ہو، صحت و تعلیم میسر آئیں، روزگار کے مساوی مواقع ہوں، میرٹ قائم رہے، ترقی ہو اور لوٹ مار رکے۔ یہ تمام مطالبات بالکل درست اور جائز ہیں۔

تاہم آئینی نوعیت کے مطالبات وسیع البنیاد مشاورت کے متقاضی ہیں۔ آئینی تبدیلی کا تعلق ریاستِ پاکستان کے ساتھ ساتھ مقبوضہ اور آزاد دونوں جانب، اور بین الاقوامی، بشمول اقوامِ متحدہ اور اسکی قراردادوں سے جڑا ہے ۔ اس لیے ان معاملات کو مل بیٹھ کر، سنجیدگی سے اور مرحلہ وار طے کرنا ضروری ہے۔ جذباتی انداز میں کی گئی آئینی تبدیلی نئے ابہامات اور شکوک کو جنم دے سکتی ہے اور مسائل کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ اگر آج طاقت کا راستہ اپنایا گیا تو کل بھی کوئی دوسرا گروہ اسی اصول پر سڑکوں پر نکل کر اپنی من چاہی تبدیلی کا مطالبہ کرے گا۔ آئینی اصلاحات کا معاملہ پارلیمنٹ اور عوامی نمائندوں کے ذریعے ہی ہموار ہو سکتا ہے، اور اس میں آزاد جموں و کشمیر کی تمام سیاسی قیادت، سول سوسائٹی اور عوامی رائے بھی شامل ہونی ہے۔

حالات کو سنجیدگی سے لینا اشد ضروری ہے اور ایک درمیانی، قابلِ عمل حل تلاش کرنا ہوگا۔ مطالبات کے پسِ پردہ ریاستِ پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانا، اداروں پر بلاجواز تنقید اور الزامات لگانا قابلِ قبول نہیں۔ اس سے عوامی جذبات مجروح ہوتے ہیں اور خدانخواستہ لوگ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ سکتے ہیں، جیسا کہ مظفرآباد میں امن مارچ اور احتجاجی تحریک کے دوران دیکھا گیا۔ ہمیں تحمل، بات چیت اور آئینی طریق کار کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

Be the first to comment on "کشمیر جل رہا ہے😔استعفی یا آئینی ایمرجنسیAn article by s.tasawur naqvi"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*