پاروں کی ترتیب کے ساتھ قرآنی مفاہیم کا اردو میں خلاصہ تفسیر علیین

بیسویں پارے کا خلاصہ

پاروں کی ترتیب کے ساتھ قرآنی مفاہیم کا اردو میں خلاصہ
تفسیر علیین
🌾
جمع آوری مفاہیم✍️
کوثر عباس قمی
🌾
بیسویں پارے کا خلاصہ
🌾
بیسویں پارے کے بنیادی موضوعات
1۔ گناہوں کے باعث قوموں کی ہلاکت
2۔ شکر اور نعمت
3۔ علم الکتاب اور اہل بیتؑ کا مقام
4۔ قیامت کی نشانیاں
5۔ فرعون کا ظلم
6۔ مستضعفین کی نصرت
7۔ امام مہدیؑ کی حکومت
8۔ دعا اور توکل

🌿
بیسویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ استفہامی انداز میں اپنی جلالت و قدرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کو کس نے پیدا کیا‘ آسمان سے بارش برسا کر بارونق باغات کس نے اگائے‘ زمین کو کس نے مقامِ قرار بنایا اور اس کے بیچ دریا جاری کیے اور لنگر کی صورت میں مضبوط پہاڑ گاڑ دیے‘ مبتلائے مصیبت کی فریاد کوکون سنتا ہے اور اس کے دکھوں کا مداوا کون کرتا ہے‘ خشکی اور سمندر کی ظلمتوں میں راہ کون دکھاتا ہے‘ بارش کی نوید بنا کر ٹھنڈی ہوائیں کون چلاتا ہے‘ ابتداً مخلوق کو کون پیدا کرتا ہے اور دوبارہ کون زندہ کرے گا‘ زمین و آسمان کی مخلوق کو روزی کون دیتا ہے؟
🌱
زمین میں خلفاء کون مقرر کرتا ہے؟ اللہ

اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَ یَجۡعَلُکُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ ۶۲۔
یا وہ بہتر ہے جو مضطرب کی فریاد سنتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور اس کی تکلیف دور کرتا ہے اور تمہیں زمین میں جانشین بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ تم لوگ بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔
🌾
مضطر کون ہے ؟
اگرچہ خداوند عالم ہرایک کی دعا کوقبول فرماتا ہے: لیکن مندرجہ بالا آیات میں “مضطر” کو خاص طور پر بیان کیا گیا ہے کیونکہ قبولیت دعا کی شرائط میں

سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ انسان اپنی آنکھیں مکمل طور عالم اسباب سے ہٹاکر اپنے دل وجان کو پوری طرح خدا کے اختیارمیں دے دے۔ سب کچھ اسی کی طرف سے جانے اور ہرمشکل کا حل
اسی کی طرف سے سمجھے اور یہ سب اضطرار کی حالت میں حاصل ہوتاہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ یہ دنیا عالم اسباب ہے اور مومن شخص اس بارے میں اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے کار لاتا ہے لیکن کسی بھی صورت میں عالم اسباب میں کھو نہیں جاتا ۔ بلکہ عالم
اسباب کے وسائل و ذرائع کو بھی اسی کا عطیہ سمجھتا ہے اوراسباب کے پس پردہ “مسبب الاسباب” کی ذات کو دیکھتا ہے اور سب کچھ اسی سے طلب کرتا ہے۔

آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی تفسیر نمونہ میں اس آیت کی تفسیر میں بحوالہ تفسير نورالثقلین (جلد 4 ص 94)
لکھتے ہیں کہ
یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ بعض روایات میں اس آیت کی تفسیر حضرت مہدی (صلوات الله وسلامہ علیہ) کے ظہور سے کی گئی ہے چناچہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے
مروی ایک روایت میں ہے :
و الله لكاني انظر الى القائم وقد أسند ظهره الى الحجرثم ینشد الله حقه …. قال هو و الله المضطر في كتاب الله في قوله ، امن یجیب المضطر اذا دعاه و يكشف السوء ويجعلکم خلفاء الارض
خدا کی قسم ! میں مہدی کو دیکھ رہا ہوں کہ حجراسود سے ٹیک لگائے خدا کو اپنے حق کی قسم دے کر دعا مانگ رہے ہیں۔
پھر آپ نے فرمایا :
خدا کی قسم ! قرآن مجید کی آیت ” امن یجیب المضطر………….” میں “مضطر” سے مراد بھی وہی ہیں“۔
حضرت امام جعفرصادق علیہ اسلام کی ایک اور حدیث میں ہے: ۔
نزلت في القائم من آل محمد علیهم السلام هو و الله المضطر اذا صلي في المقام رکعتین و دعا الى الله عز و جل فاجابه و یكشف السوء و يجعله خليفة في الارض
یہ آیت مهدی آل محمد کے بارے میں نازل ہوئی ہے ،خدا کی قسم وہی مضطر بے ، جب وہ
مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز بجا لائے گا اور خدا کی بارگاہ میں دست بہ دعا ہو کر اس سے سوال کرے گا تو خدا اس کی دعا کو قبول فرمائے گا۔ اس کی مشکلات کو دور کرکے اسے زمین کا
خلیفہ بنائے گا۔
جیسا کہ اور مقامات پر بھی اس قسم کی تفسیر بیان ہوئی ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ آیت حضرت مهدی کے وجود ذی الجود میں منحصر ہے بلکہ آیت کا مفہوم وسیع ہے کہ جس کا ایک واضح مصداق حضرت مهدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کا وجود گرامی بھی ہے کہ اس دورمیں جبکہ ہرطرف فتنہ و فساد پھیل چکا ہوگا ، امیدوں کے تمام دروازے بند ہوچکے ہوں گے انسانی مصیبتیں انتہا کو پہنچ
چکی ہوں گی ، بشریت چلارہی ہوگی تمام کائنات پر اضطرار کی حکومت ہوگی تو ایسی حالت میں وہ روئے زمین کے مقدس ترین حصے پر دعا کے لیے ہاتھ بلند کرکے مشکلات کے دور ہونے کی دعا کریں گے اور خداوند عالم ان کی اس دعا کو مقدس عالمی انقلاب کا پیش خیمہ قرار دے گا۔ “ويجعلکم خلفاء الارض ” کے مصداق انھیں اور ان کے یاروانصار کوروئے زمین کا وارث اور خلیفہ بنائے گا۔
🌿
یہ سارے سوالات اٹھانے کے بعد اللہ عزوجل انسان کی عقلِ سلیم سے سوال کرتا ہے کہ کیا اللہ معبودِ برحق کے سوا یہ سب کام کرنے والا کوئی اور ہے اور اس سوال کو قرآن بار بار دہراتا ہے تاکہ عقل کے اندھے انسانوں کا ضمیر جاگ اٹھے اور وہ حق تبارک و تعالیٰ کی جلالتِ قدرت کو تسلیم کر لیں۔ اس مقام پر بھی قرآنِ مجید فرماتا ہے کہ اے انسان! زمین پر چل پھر کر دیکھ لو باغی قومیں کس انجام سے دوچار ہوئیں۔
یہ بھی فرمایا کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ بھی مستور ہے‘ سب لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔
🌾
آیت 80 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”بے شک آپ مُردوں کو نہیں سناتے اور نہ ہی بہروں کو (اپنی) پکار سناتے ہیں‘ جب وہ پیٹھ پھیر کر جا رہے ہوں‘‘۔
🌿

آیت نمبر ۸۲ دابۃ کون ہے

وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآيَاتِنَا لَا يُوقِنُونَ ﴿٨٢﴾ سورة النمل
۔ اور جب ان پر وعدہ (عذاب) پورا ہونے والا ہو گا تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک چلنے پھرنے والا نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا کہ درحقیقت لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے

دابة الارض ایک باشعور انسان ہے جس کی تفسیر بعض روایات میں امیر المومنین ؑسے اور بعض میں حضرت امام مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) سے کی گئی ہے ،مختلف اوقات میں معصومین سے یہ پوچھا گیا کہ آخر وہ کونسی مخلوق ہے جس کو اس کام کیلئے معین کیا گیا ہے تو فرمایا کہ وہ صاحب لحیہ ہے
حضرت علی علیہ السلام سے اس دَآبَّۃً کے بارے میں سوال ہوا تو آپؑ نے فرمایا:
اما و اللہ ما لھا ذنب و ان لھا للحیۃ۔ (بحار ۶:۳۰۰)
(اس سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ باطل سے بیزاری کا اعلان کوئی ڈاڑھی والا ہی کر سکتا ہے، ڈاڑھی منڈوں کو یہ شرف بھی حاصل نہیں ہوسکتا ہے اور نہ ان کے اعلان کا کوئی اعتبار ہے)

ایک اور روایت ہے
تخرج دابۃ الارض و معھا عصا موسی و خاتم سلیمان علیھما السلام فتخطم انف الکافر بالعصا و تجلی وجہ المؤمن بالخاتم۔ (مسند احمد۔ ۲:۲۵۹۔۴۹۱، سنن ابن ماجۃ کتاب الفتن)دابۃ الارض زمین سے نکلے گا ان کے ساتھ موسیٰ کا عصا اور سلیمان کی انگوٹھی ہو گی وہ عصا سے کافر کی ناک کاٹے گا اور انگوٹھی سے مؤمن کا چہرہ چمکا دے گا
🌾
سورۃ القصص: آیت نمبر ۵
حکومت الہیہ کا حکمران
مہدی

وَ نُرِیۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ نَجۡعَلَہُمۡ اَئِمَّۃً وَّ نَجۡعَلَہُمُ الۡوٰرِثِیۡنَ ۙ *۵۔
اور ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ جنہیں زمین میں بے بس کر دیا گیا ہے ہم ان پر احسان کریں اور ہم انہیں پیشوا بنائیں اور ہم انہی کو وارث بنائیں۔
وَ نُمَکِّنَ لَہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ نُرِیَ فِرۡعَوۡنَ وَ ہَامٰنَ وَ جُنُوۡدَہُمَا مِنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَحۡذَرُوۡنَ۶۔
اور ہم زمین میں انہیں اقتدار دیں اور ان کے ذریعے ہم فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ کچھ دکھا دیں جس کا انہیں ڈر تھا
🌾
علامہ حسکانی نے شواھد التنزیل میں متعدد طرق سے حضرت علی علیہ السلام کا یہ فرمان نقل کیا ہے:

لَتَعْطِفَنَّ الدُّنْیَا عَلَیْنَا بَعْدَ شَمَاسِھَا عَطْفَ الضَّرُوسِ عَلَی وَلَدِھَا۔۔۔۔یہ دنیا اپنی دشمنی دکھانے کے بعد پھر ہماری طرف جھکے گی جس طرح کاٹنے والی اونٹنی اپنے بچے کی طرف جھکتی ہے۔
اس کے بعد آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ (نہج البلاغۃ حکمت: ۲۰۹)

دوسری روایات میں حضرت علی علیہ السلام اور ائمہ علیہم السلام نے فرمایا: المستضعفین ہم ہیں۔

جابر بن عبداللہ انصاری راوی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

یا بنی ھاشم انتم المستضعفون المقہورون المستذلون۔ (حسکانی۔ شواھد التنزیل ذیل آیت)اے بنی ہاشم! میرے بعد تم مستضعف (بے بس) مغلوب اور ناقابل احترام ہوں گے۔
🌾
سورۃ القصص میں ایک بار پھر موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا ذکر ہے‘ یہاں اس مرحلے کا بیان ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام اللہ کی تدبیر سے فرعون کے دربار میں پہنچے۔ فرعون نے اپنی زوجہ (آسیہ) کے کہنے پر انہیں اپنا بیٹا بنا لیا اور اپنی غیر محسوس تدبیر کے ذریعے انہیں ان کی والدہ سے ملا دیا۔ خدا کی شان موسیٰ علیہ السلام فرعون کے محل میں اپنی والدہ کے دودھ پر پرورش پانے لگے‘
پھرجب وہ جوانی کی عمر کو پہنچے تو ایک مظلوم کے بچاؤ کیلئے اُنہوں نے ظالم کو مکا مارا اور وہ ہلاک ہو گیا۔
وَ دَخَلَ الۡمَدِیۡنَۃَ عَلٰی حِیۡنِ غَفۡلَۃٍ مِّنۡ اَہۡلِہَا فَوَجَدَ فِیۡہَا رَجُلَیۡنِ یَقۡتَتِلٰنِ ٭۫ ہٰذَا مِنۡ شِیۡعَتِہٖ وَ ہٰذَا مِنۡ عَدُوِّہٖ ۚ فَاسۡتَغَاثَہُ الَّذِیۡ مِنۡ شِیۡعَتِہٖ عَلَی الَّذِیۡ مِنۡ عَدُوِّہٖ ۙ فَوَکَزَہٗ مُوۡسٰی فَقَضٰی عَلَیۡہِ ٭۫ قَالَ ہٰذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیۡنٌ ۱۵۔
اور موسیٰ شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب شہر والے بے خبر تھے، پس وہاں دو آدمیوں کو لڑتے پایا، ایک ان کی قوم میں سے تھا اور دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا تو جو ان کی قوم میں سے تھا اس نے اپنے دشمن کے مقابلے کے لیے موسیٰ کو مدد کے لیے پکارا تو موسیٰ نے اس (دوسرے) کو گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا، پھر موسیٰ نے کہا: یہ (لڑائی ) تو شیطانی کام ہے، بے شک وہ صریح گمراہ کن دشمن ہے۔
🌱
فَوَجَدَ فِیۡہَا رَجُلَیۡنِ یَقۡتَتِلٰنِ: دیکھا دو شخص آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ان دونوں میں سے ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام کا شیعہ تھا۔ مِنۡ شِیۡعَتِہٖ یعنی ممن شایعۃ علی دینہ اپنے دین میں ان کی پیروی کرنے والا تھا۔ دوسرا حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دشمن تھا۔ ان دونوں لڑنے والوں میں سے ایک اسرائیلی تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم و ملت سے ہے اور دوسرا قبطی فرعونی تھا۔ کہتے ہیں یہ فرعون کے قصر کا نانبائی تھا اور اسرائیلی کو لکڑیاں اٹھانے پر مجبور کر رہا تھا۔

اس اسرائیلی کو موسیٰ علیہ السلام کا شیعہ قرار دینے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مصر میں اسرائیلی موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قوم و ملت کے ایک راہنما کے طور پر جانتے تھے۔ بنی اسرائیل اگرچہ مصریوں کے ساتھ بت پرستی کرتے تھے تاہم وہ اپنے آبا و اجداد کی طرف منسوب تھے۔ دین ابراہیمی کو مانتے تھے۔
🌾
موسیٰ علیہ السلام نے اس ترک اولی’ پر اللہ سے معافی مانگی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا۔
🌾
آیت20 میں بتایا کہ شہر کے دور والے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اُس نے کہا ”فرعون کے لوگ آپ کے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں‘ میں آپ کا خیرخواہ ہوں‘ آپ یہاں سے نکل جائیے‘‘۔ موسیٰ علیہ السلام وہاں سے مَدین کی طرف روانہ ہو گئے اور اللہ کی حکمت سے مدین بستی کے پیغمبر حضرت شعیب علیہ السلام تک رسائی ہوئی۔
شعیب علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا: میں اپنی دو بیٹیوں میں سے ایک کا آپ کے ساتھ اس شرط پر نکاح کردوں گا کہ آپ آٹھ سال تک اجرت پر میرا کام کریں اور اگر آپ دس سال پورے کر دیں تو یہ آپ کی طرف سے احسان ہو گا۔
موسیٰ علیہ السلام نے یہ پیشکش قبول کر لی۔
آیت 29 میں فرمایا کہ جب مقررہ میعاد پوری ہو گئی تو موسیٰ علیہ السلام اپنی اہلیہ کو لے کر مصرکی طرف روانہ ہوئے۔ اس سفر کے دوران آگ کی تلاش میں اُن کے کوہِ طور پر جانے‘ مبارک سرزمین پر اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہونے کا ذکر ہے۔ وہاں آپ علیہ السلام کو نبوت عطا ہوئی‘ عصا اور یَدِ بیضا کے معجزے عطا ہوئے اور ہارون علیہ السلام کو رسالت کے مشن میں ان کی درخواست پر ان کا مددگار بنایا گیا۔
آیت 38 سے اللہ تعالیٰ نے اُن سے اپنی نصرت کا وعدہ فرمایا۔ آیت57 سے کفارِ مکہ نے رسول اللہﷺ سے کہا: ”اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو ہم اپنے ملک سے اُچک لیے جائیں گے‘‘ یعنی وہ فوائد سے محروم ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”کیا ہم نے ان کو اپنے حرم میں آباد نہیں کیا‘ جو امن والا ہے‘ اُس کی طرف ہمارے دیے ہوئے ہر قسم کے پھل لائے جاتے ہیں‘ لیکن ان میں سے (اکثر لوگ) نہیں جانتے‘ یعنی اسلام کی برکت سے دنیاوی نعمتیں چھن نہیں جائیں گی بلکہ ان میں اضافہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے بہت سی ان بستیوں کو ہلاک کر دیا‘ جن کے رہنے والے اپنی خوشحالی پر اتراتے تھے‘ یعنی ماضی کی خوشحال سرکش قوموں کے کھنڈرات نشانِ عبرت ہیں۔ ان آیات میں یہ بھی بتایا گیا کہ بستیوں والوں کو اُس وقت تک ہلاک نہیں کیا جاتا جب تک کہ رسول بھیج کر اُن پر اتمامِ حجت نہیں کر دیا جاتا۔

آیت 76 سے قارون کا ذکر ہے یہ قومِ موسیٰ کا ایک سرکش شخص تھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے اُسے اتنے خزانے عطا کیے تھے کہ ایک طاقتور جماعت تھی‘ جو اُس کی چابیوں کو اٹھا نہ پاتی۔ اُس کی قوم نے اُس سے کہا ”اتراؤ نہیں‘ بے شک اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو پسند نہیں فرماتا‘‘۔ اس نعمتِ دولت کے بدلے میں آخرت کو تلاش کرو اور جس طرح اللہ نے تم پر احسان کیا ہے‘ تم بھی لوگوں کے ساتھ احسان کرو اور زمین میں فساد برپا نہ کرو‘ یعنی مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ اُس نے کہا: یہ مال مجھے میرے علم کی وجہ سے دیا گیا ہے‘ یعنی اُس نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے اپنے علم اور مہارت پر ناز کیا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس سے پہلی قوموں میں اس سے بھی زیادہ طاقتور اور بڑے مالداروں کو ہلاک کر دیا گیا
🌾
۔ آیت21 میں فرمایا: (اُس کی سرکشی کی سزا کے طور پر) ہم نے اُسے اور اُس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تھا‘ پھر اللہ کے مقابل اُس کا کوئی مددگار نہ تھا۔ قرآن نے بتایا کہ اُس کے کَرّوفر کو دیکھ کر جو لوگ اُس جیسا دولت مند ہونے کی تمنا کر رہے تھے‘ اُس کے انجام کو دیکھ کر انہوں نے کہا کہ: ہم بھول گئے تھے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کیلئے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کیلئے چاہتا ہے تنگ فرما دیتا ہے (یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ دولت و طاقتِ دنیا ہرصورت میں اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبولیت کی دلیل ہے)۔ اُنہوں نے کہا: (اُس جیسی دولت کا نہ ہونا ہمارے حق میں اچھا ثابت ہوا) اگر اللہ ہم پر احسان نہ فرماتا تو ہم بھی دھنسا دیے جاتے۔

آیت 83 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے مقدر کرتے ہیں‘ جو زمین میں نہ تو تکبر کرتے ہیں اور نہ ہی فساد‘ اچھا انجام صرف پرہیز گاروں کے لیے ہوتا ہے‘‘۔

اگلی آیت کا مفہوم ہے کہ ہر ایک اپنے اچھے یا برے اعمال کی جزا یا سزا پائے گا۔
🌾
سورۃ العنکبوت: اس سورت کے شروع میں قرآنِ مجید نے متوجہ کیا کہ قطعی نجات کیلئے صرف ایمان کا دعویٰ کافی نہیں ہے بلکہ آزمائش بھی ہو سکتی ہے‘ جیسا کہ پچھلی امتوں کے لوگوں کو کڑی آزمائش سے گزرنا پڑا اور ابتلا سے گزرنے کے بعد ہی سچے مومن اور جھوٹے کا فرق واضح ہوتا ہے۔

آیت 8 میں اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو‘ اور اگر وہ تمہیں شرک پر مائل کرنا چاہیں تو گناہ کے کاموں میں ماں باپ کی اطاعت واجب نہیں ہے۔ حدیث میں بھی ہے کہ کسی بھی ایسے مسئلے میں مخلوق (خواہ وہ کوئی بھی ہو) کی اطاعت لازم نہیں ہے‘ جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی لازم آتی ہو۔

آیت 14 سے ایک بار پھر حضرت نوح علیہ السلام کی ساڑھے نو سو سالہ تبلیغی زندگی اور اُن کی قوم پر عذاب کا ذکر ہوا۔
آیت 16سے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی قوم کا ذکر ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے قوم کو متوجہ کیا کہ اللہ کو چھوڑکر بے بس بتوں کی عبادت نہ کرو‘ صرف اللہ وحدہٗ لاشریک کی عبادت کرو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کو سن کر قوم نے کہا: اسے قتل کر دو یا جلا ڈالو‘ تو اللہ نے اُنہیں آگ سے بچا لیا۔

آیت 26 سے حضرت لوط‘ حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہما السلام کا ذکر ہے کہ ہم نے انہیں نبوت اور کتاب عطا کی۔ لوط علیہ السلام کی قوم کی انتہائی سرکشی کا ذکرہے کہ وہ غیر فطری طریقے سے اپنی جنسی خواہش کو پورا کرتے اور ڈاکے ڈالتے اور انتہا یہ ہے کہ کھلے بندوں بے حیائی کے کام کرتے تھے اور لوط علیہ السلام سے نزولِ عذاب کا مطالبہ کرتے تھے یعنی یہ اُن کی سرکشی کی انتہا تھی۔ اِن آیات میں بتایا کہ بالآخر اللہ تعالیٰ نے لوط علیہ السلام اور اُن کے اہل کو بچا لیا اور قوم کے ساتھ قوم کی برائیوں کو پسند کرنے والی ان کی بیوی سمیت ساری بستی کو ہلاک کر دیا۔ پھر مدین کی سرزمین پر حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کی سرکشی کا ذکر ہوا‘ اللہ تعالیٰ نے نبی کی تکذیب کے جرم میں ان کو بھی تباہ و برباد کر دیا۔

قرآن مجید نے اہلِ مکہ کو مخاطب کرکے بیان کیا: تم اپنے تجارتی سفر کے دوران شیطان کے بہکاوے میں آنے والے عاد و ثمود کی بستیوں سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہو‘ یہ لوگ سمجھدار ہونے کے باوجود شیطان کے نرغے میں آکر راہِ راست سے ہٹ گئے۔

آیت 41 میں فرمایا کہ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر باطل معبودوں کو اپنا مددگار بناتے ہیں‘ اُن کے عقائد کے بودے پن کی مثال مکڑی کے جالے جیسی ہے اور سب سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم حق کو ثابت کرنے کیلئے لوگوں کیلئے مثالیں بیان کرتے ہیں‘ لیکن صرف اہلِ عقل و خرد ہی اِن سے نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
🌾

Be the first to comment on "پاروں کی ترتیب کے ساتھ قرآنی مفاہیم کا اردو میں خلاصہ تفسیر علیین"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*