*منتقم خون حسین و حق زہراء*

*منتقم خون حسین و حق زہراء*
امام زماننا ھذا حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف کے القابات میں سے ایک لقب ‘‘ *منتقم* ’’ ہے.اس نام کی طرف رسول خدا (ص) نے خطبہ غدیریہ میں امام زمانہ ؑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاہے
*الا انہ المنتقم من الظالمین*
یعنی امام مہدی عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف ظالموں سے انتقام لیں گے اس کے بعد آئمہ علیہم السلام نے اس لقب کو بیان کیا جیسے امام محمد باقر ع ، امام جعفر صادق ع اور امام رضا علیہم السلام کی روایات میں ذکر ہوا کہ آپ کربلا کے شہداء کے قاتلوں اور ظالموں سے انتقام لیں گے۔
عبد اللہ بن صالح ہروی امام رضا علیہ السلام سے عرض کرتے ہیں کہ آیا امام صادق علیہ السلام سے منسوب یہ روایت درست ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ امام مہدی ع قاتلین کربلا سے انتقام لیں گے تو کس سے لیں گے؟
امام رضا ع نے جواب دیا ان قاتلوں کی نسلوں سے لیں گے۔تو راوی کہتا ہے کہ یہ تو قرآن کی صریح آیت کے خلاف ہے کیونکہ قرآن میں موجود ہے کہ:وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ اُخْرَی کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا تو امام فرماتے ہیں کہ ہاں یہ درست ہے لیکن کربلا میں موجود ظالمین کی نسلیں چونکہ اس دور میں اپنے آباء و اجداد کے فعل پر راضی ہوں گی اور اس ظلم پر اظہار فخر کریں گی اور یہ کہیں گی کہ انہوں نے ٹھیک کیا ہے اور اگر ہم اس وقت ہوتے تو یہی کرتے ۔!!
تو جو کسی کے فعل پر راضی ہو تو  گویا اس میں شریک ہے ان کے شریک ہونے کی وجہ سے ان سے انتقام لیا جائے گا کیونکہ اگر مشرق میں کوئی قتل ہو اور مغرب میں موجود شخص اس قتل پر راضی ہو تو وہ بھی قاتل ہی شمار ہوگا۔
اس حوالے سے مزید تحقیق کی گئی تو کچھ ایسی روایات سامنے آئیں جن کی رو سے واضح ہوتا ہے کہ امام مہدی عج کے زمانہ ظہور میں مدمقابل مکتب جوکہ بنی امیہ کے ظلم کا مدافع ہے ان کے فقہاء و مجتہدین جب دیکھیں گے امام مہدی عج انکے فتاوی و مکتب کے مطابق عمل نہیں کررہے ہیں تو یہ لوگ امام زمانہ(عج) کے خلاف قتل کا فتوی دیں گے اور ان کے خلاف محاذ آرائی کریں گے تو اس طرح یہ ظالموں کی نسلیں انتقام کی مستحق ہوں گی۔
جیسے آج بھی ہم طالبان یا القاعدہ و داعش کی شکل میں یزیدیت کی درندگی بارھا دیکھ چکے ہیں کس طرح مکتب اہلبیت علیہم السلام کے ماننے والوں پر ظلم ڈھایا جاتا ہے۔ یہ روایت کچھ کتابوں میں موجود ہے جیسے یوم الخلاص، الزام الناصب ، مستدرک بحار ، انوار النعمانیہ وغیرہ

جابر بن منذر روایت کرتا ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا:جب شب معراج مجھے آسمان  پرلے جایا گیاتو خدا وند عالم نے مجھ پر وحی کی . اے میرے رسول  !مجھ سے پوچھوکہ  پہلے والے رسول کس  وجہ سے خلق کیے گئے ؟
میں نےسوال کیا .کس بنا پر ان کو خلق کیا گیا ؟
آواز قدرت آئی :تیری نبوت اور تیرے وصی علی بن ابی طالب ؑ اور اس کے بعد باقی آئمہ ؑ کی ولایت کو قبول کرنے کی وجہ سے ان تمام انبیاء کو خلق کیا گیا . پھر مجھ پر وحی نازل ہوئی. اے رسول ! اپنے داہنےطرف دیکھیئے جب میں نے دیکھا تو حضرت علی ؑ ٬حسنؑ ٬حسینؑ ٬علی بن حسین ؑ٬محمد بن علی ؑ٬جعفر بن محمد ؑ ٬موسی بن جعفر ؑ٬علی بن موسی ؑ٬محمد بن علی ؑ٬علی بن محمد ؑ٬حسن بن علی ؑ ٬اور مہدیؑ جو ایک نور کے محل میں نماز پڑھ رہے تھے تو اس وقت آواز قدرت آئی یہ اولیاء خدا پر  میری حجت ہیں اور یہ مہدی ؑ (منتقم ) ہیں  میرے دشمنوں سے بدلہ لے گا.
کتاب کمال دین میں  مرقوم ہے کہ امام زمانہ ؑ نے 30 سال کی عمر میں احمد بن اسحاق سے فرمایا :انا بقیۃ اللہ فی ارضہ و المنتقم من اعدائہ ؛
میں خدا کی زمین پر بقیہ اللہ ہوں اور اس کے دشمنوں سے انتقام لینے والا

شیعہ سنی عقائد کی روایات میں امام مہدی علیہ السلام کے انتقام کا مفہوم تاریخی افراد کے ذاتی قتل سے زیادہ ظلم کے نظام اور فکری تسلسل کے خاتمے سے متعلق ہے۔

ظلمِ فاطمیؑ کے ذمہ دار
اور ان کے طریقے، فکر، نظام اور اثرات ان سب کا خاتمہ ہے۔
روایات میں ہے کہ
امام مہدیؑ فاطمہؑ کے حق کے ساتھ قیام کریں گے
يَخْرُجُ الْقَائِمُ… يَطْلُبُ بِثَأْرِ فَاطِمَةَ
حوالہ:
 دلائل الإمامة، محمد بن جرير الطبري الشيعي، ص 455
امام مہدیؑ قیام کریں گے اور حضرت فاطمہؑ کے حق کے ساتھ انصاف کریں گے۔

بی بی فاطمہؑ مظلومہ شہیدہ ہیں – اور ان کے حق کا مطالبہ ہوگا

قال الإمام الصادق عليه السلام:
إِنَّ فَاطِمَةَ صِدِّيقَةٌ شَهِيدَةٌ
حوالہ:
 الكافي، ج 1، ص 458
یہی شہادت اُن مظالم کا ثبوت ہے جن کے حق کا ظہور امام مہدیؑ کے دور میں ہوگا۔
امام مہدیؑ ظالموں کے آثار و افکار کا خاتمہ کریں گے
قال أمير المؤمنين عليه السلام:
يُظْهِرُ الْقَائِمُ أَثَرَ آلِ مُحَمَّدٍ وَيُبِيدُ أَعْدَاءَهُمْ
حوالہ:
 الغيبة للنعماني، ص 239
یعنی اہلِ بیتؑ کے حقوق اور مظلومیت کو ظاہر کریں گے۔

ظلمِ فاطمیؑ کے اثرات کو مٹانا  حقیقی انتقام
قال الإمام الباقر عليه السلام:
إِذَا قَامَ الْقَائِمُ… رَدَّ كُلَّ حَقٍّ إِلَى أَهْلِهِ
حوالہ:
 الكافي، ج 8، ص 58
 الاحتجاج للطبرسي

اس میں فدک، خلافتِ حقہ، اور حضرت فاطمہؑ کے غصب شدہ حقوق شامل ہیں۔

رجعت کی روایات – ظالمین کی دنیاوی سزا

قال الإمام الصادق عليه السلام:
لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِكَرَّتِنَا
حوالہ:
 بحار الأنوار، ج 53، ص 123

رجعت میں بعض بڑے ظالم دوبارہ دنیا میں لا کر سزا پائیں گے
یہ وہ روایات ہیں جنہیں   “انتقامِ فاطمہؑ” کے مفہوم میں شمار کیا جاتا ہے۔

. فاطمہؑ روزِ محشر شکایت کریں گی
قال رسول الله صلى الله عليه وآله:
تَقِفُ فَاطِمَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ… وَتَقُولُ: يَا رَبِّ! احْكُمْ بَيْنِي وَبَيْنَ قَاتِلِيَّ
حوالہ:
 بحار الأنوار، ج 29، ص 222
یہ قیامت میں عدلِ الٰہی کا ظہور ہے۔

فدک کے غصب کا فیصلہ مہدیؑ کریں گے
عن الإمام الصادق عليه السلام:
أَوَّلُ مَا يَظْهَرُهُ الْقَائِمُ… رَدُّ فَدَكٍ
حوالہ:
 البحار، ج 53، ص 105
 تفسير القمي

*یہ ظاہر کرتا ہے کہ امام مہدیؑ بی بیؑ کے حقوق کے مسئلے کو سب سے پہلے نمایاں کریں گے
خلاصہ یہ کہ
*امام مہدیؑ حضرت فاطمہؑ کے غصب شدہ حقوق واپس کریں گے*

*اُن مظالم کے تاریخی اثرات و نظام کو ختم کریں گے*

*عدلِ فاطمیؑ کو دنیا میں ظاہر کریں گے*

*اور رجعت میں بڑے ظالموں کو سزا ملے گی*

*حق کی بحالی،باطل کا خاتمہ، اور عدل کا قیام یہی ہے “انتقام” کا اصل مفہوم*

*Published by*
*الۡبَیِّنَۃ انسٹیٹیوٹ*
تحریری، تقریری اور تدریسی ذرائع سے تعلمیات قرآن و اھل البیت علیہم السلام کے فروغ کے لئے
(زیر انتظام المعصومین ٹرسٹ رجسٹرڈ)
راولپنڈی/اسلام آباد
00923335721286
00923460721286

Be the first to comment on "*منتقم خون حسین و حق زہراء*"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*