*معدن وفا*
*مبلغہ عزاءحسین واعوان و انصار الحسین*
*علوی سادات کی جدہ*
*حضرت فاطمہ بنت حزام المعروف بہ اُمّ البَنین سلام اللہ علیہا*
*استخراج وترتیب و تدوین*
*✍کوثر عباس قمی*
حضرت ام البنین امیرالمؤمنینؑ حضرت علی علیہ السلام کی زوجات میں سے تھیں۔
آپ قابل احترام شخصیات میں سے ایک ہیں۔
حضرت ام البنین کے والد گرامی ابوالمجْل حزام بن خالد قبیلہ بنی کلاب سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی مادر گرامی ثمامہ بنت سہیل بن عامر بن مالک تھیں۔
(حضرت فاطمہ زہراؑ سلام اللہ علیہا نے چونکہ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کو فاطمہ بنت حزام سے شادی کی وصیت کی تھی اس لیے سیدہ کونین کے ارتحال کے بعد اس حوالے سے )حضرت علیؑ نے اپنے بھائی حضرت عقیل جو نسب شناسی میں مشہور تھے، سے اس نجیب خاندان سے بہادر، شجاع اور جنگجو اولاد جنم دینے والی زوجہ کے انتخاب کے بارے میں مشورہ کیا (کہ آپ یہ رشتہ لینے ان کے والد گرامی کے پاس جائیں )
حزّام ، چونکہ ایک مہمان نواز شخص تھے، اس لئے انہوں نے حضرت عقیل کی مکمل طور پر خاطر مدارات کی اور دل کھول کر ان کا خیر مقدم کیا اور ان کے لئے قربانی کی۔ عربوں کی رسم یہ تھی کہ مہمان کی تین دن تک مہمان نوازی کرتے تھے اور تیسرے دن ان کی حاجت کے بارے میں سوال کرتے تھے اور ان کی تشریف آوری کی وجہ کے بارے میں پوچھتے تھے۔ چونکہ ام البنین کا خاندان مدینہ سے باہر زندگی گزارتا تھا، اس لئے انہوں نے بھی اسی رسم و رواج پر عمل کیا۔ چوتھےدن حضرت عقیل کی تشریف آوری کی وجہ کے بارے میں سوال کیا اور حضرت عقیل نے جواب میں کہا : میں دینی پیشوا اور اعظم اوصیاء ،امیرالمومنین علی بن ابیطالب کی طرف سے آپ کی بیٹی فاطمہ کی خواستگاری کے لئے آیا ہوں۔ حزام ، قدرے متحیّرہوئے کیونکہ یہ بات غیر متوقع طور پہ سامنے آئی تھی، پھر خوشی سے کہا علی ابن ابی طالب بلا شبہ کس قدر شریف نسل اور عظمت والے خاندان سے ہیں ! لیکن اے عقیل جب تک اس حوالے سے میں اپنی بیٹی کی رضا نہ جان لوں حتمی جواب نہیں دے سکتا
حضرت حزام نےحضرت عقیل سے مہلت چاہی تاکہ بیٹی کی ماں ثمامہ بنت سہیل اور خود بیٹی سے پوچھ لیں کیونکہ عورتیں اپنی بیٹیوں کے جذبات اور حالات سے زیادہ واقف ہوتی ہیں اور ان کی مصلحتوں کے بارے میں زیادہ جانتی ہیں۔”
ام البنین کے باپ جب اپنی بیوی اور بیٹی کے پاس گئے، تودیکھا کہ ان کی بیوی، ام البنین کے بالوں میں کنگھی کر رہی تھیں۔حزام بن خالد کمرے میں داخل ہوئے اور ان سے علی علیہ السلام کے رشتے کو قبول کرنے کے بارے میں سوال کیا اور کہا:”کیا تم ہماری بیٹی کو امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شریک حیات بننے کے لائق جانتی ہو؟ جان لو کہ ان کا گھر مرکز وحی و نبوت ہے اور علم و حکمت اور آداب کا گھر ہے اگر تم اپنی بیٹی کو اس گھر کی خادمہ بننے کے لائق جانتی ہو تو ہم اس رشتہ کو قبول کرلیں گے اور اگر اس کے لائق نہیں جانتی ہو تو انکار کردیں ؟
ان کی بیوی نے جواب میں کہا:” اے حزام! خدا کی قسم میں نے اس کی بہتر صورت میں تربیت کی ہے اور خداوند متعال و قدیرسے دعا کی ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں سعادتمند ہو جائے اور میرے مولا امیرالمؤمنین ( علیہ السلام) کی خدمت کےلائق اور صالح ہو، پس آپ اسے میرے مولا امیرالمؤمنین علی بن ابیطالب کے ازدواج میں قرار دیجئے۔”
حضرت عقیل نے ام البنین کی اجازت سے ان دو بزرگ شخصیتوں کے درمیان نکاح پڑھا۔ ان کا مہر، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق قرار دیا جو آپ (ص) نے اپنی بیٹیوں اور ہمسروں کے لئے معین کیا تھا اور وہ پانچ سو درہم تھے، جبکہ ام البنین کے باپ کہتے تھے:
” وہ ایک تحفہ ہے، ہماری طرف سے، رسول خدا (ص) کے چچیرے بھائی کی خدمت میں اور مال و دولت کی ہمیں کوئی لالچ نہیں ہے۔”
فاطمہ کلابیہ، شرافت، نجابت، پاک دامنی اور اخلاص کا مجسمہ تھیں۔ علی (ع) کے گھر میں قدم رکھنے کے وقت کہا: ” جب تک نہ فاطمہ زہراء(س) کی بڑی بیٹی اجازت دیں، میں اس گھر میں قدم نہیں رکھوں گی۔”
یہ خاندان رسالت کے تئیں ان کا انتہائی ادب و احترام کا مظاہرہ تھا۔ جس دن حضرت ام البنین نے علی علیہ السلام کے گھر میں پہلی بار قدم رکھا، امام حسن اور امام حسین علیھما السلام بیمار تھے اور صاحب فراش تھے۔ ابو طالب کی بہو گھر میں داخل ہوتے ہی عالم ہستی کے ان دو عزیزوں اوراہل بہشت کےجوانوں کے سرداروں کےسراھنے پر پہنچیں۔اور ایک ہمدرد ماں کے مانند ان کی تیمارداری کرنے لگیں اور مسلسل یہ کہتی تھیں کہ:” میں فاطمہ زہراء (س) کی اولاد کی کنیز ہوں
اس شادی کا ثمرہ خدا نے چار بیٹوں کی صورت میں عطا کیا جن کے نام عباس، عبداللہ، جعفر اور عثمان ہیں۔
چونکہ آپ کے بطن سے کوئی بیٹی پیدا نہیں ہوئی اور آپ کے یہ چار بیٹے شجاعت اور دلیری میں اپنی مثال آپ تھے اس وجہ سے آپ کو ام البنین [ بہادر بیٹوں کی ماں] کہا جاتا تھا۔
آپ کے یہ چار کے چار بیٹے کربلا میں اپنے بھائی اور امام، امام حسینؑ کے رکاب میں شہادت کے عظیم درجے پر فائز ہوئے۔
یہ حضرت ام البنین کی تربیت کا ہی اثر تھا کہ جب
شب عاشور عباس، ابا عبداللہ الحسین(ع) کے پاس بیٹھے تھے اسی دوران دشمنوں کا ایک سردار آتا ہے اور بلند آواز سے کہتا ہے:
” عباس بن علی اور ان کے بھائیوں سے کہدو کہ ہمارے پاس آجائیں۔ عباس اس آواز کو سنتے ہیں لیکن سننے کے باوجود ان سنی کرتے ہیں، اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے
۔ امام حسین (ع) کے سامنے اس طرح با ادب بیٹھے ہیں کہ امام نے ان سے مخاطب ہوکر فرمایا: ” اس کا جواب دیدو، اگر چہ وہ فاسق ہے”۔ حضرت عباس آگے بڑھ کر دیکھتے ہیں کہ شمر ذی الجوشن ہے۔
شمر، حضرت ابوالفضل العباس کے ساتھ ان کی ماں کی طرف سے ایک دور دراز رشتہ کے پیش نظر کہ دونوں ایک ہی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے، کوفہ سے آتے وقت حضرت ابوالفضل العباس اور ان کے بھائیوں کے لئے اپنے خیال خام میں امان نامہ لے کر آیا تھا اور اسے اپنے خیال میں ان کے حق میں ایک خدمت جانتا تھا۔
جب شمر نے اپنی بات ختم کی، حضرت عباس(ع) غیض و غضب میں اس کی طرف رخ کرکے بولے:” خدا تمہیں اور اس امان نامہ کو تیرے ہاتھ میں دینے والے پر لعنت کرے، تم نے مجھے کیا سمجھا ہے؟ میرے بارے میں کیا خیال کیا ہے؟ کیا تم نے یہ سمجھا ہے کہ میں ایک ایسا انسان ہوں جو اپنی جان بچانے کے لئے، اپنے امام اور بھائی امام حسین (ع) کو تنہا چھوڑ کر تیرے پیچھے آجاوں گا؟
جس دامن میں ہم نے پرورش پائی ہے اور جس سینے سے ہم نے دودھ پیا ہے، اس نے ہمیں اس طرح تربیت نہیں دی ہے کہ ہم اپنے امام اور بھائی کے ساتھ بے وفائی کریں۔”
فاطمہ کلابیہ نے، حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ ایک مختصر مدت کی مشترکہ زندگی کے بعد امیرالمؤمنین کی خدمت میں یہ تجویز پیش کی کہ انھیں ” فاطمہ” کے بجائے ” ام البنین” خطاب کریں تاکہ” فاطمہ” (س)اور ” کنیز فاطمہ” کے درمیان فرق مشخص ہوجائے اور یہ فرق محفوظ رہے۔
حضرت ام البنین واقعہ کربلا کے وقت وہاں موجود نہیں تھیں۔ جب اسیران کربلا کا قافلہ مدینہ پہنچا تو آپ کو کسی نے آپ کے بیٹوں کی شہادت کی خبر سنائی لیکن آپ نے کہا: امام حسینؑ کے بارے میں بتاو جب آپ کو بتایا گیا کہ امام حسینؑ آپ کے چار بیٹوں کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے ہیں تو اس وقت آپ نے کہا: اے کاش میرے بیٹے اور جو کچھ زمین اور آسمان کے درمیان ہے میرے حسینؑ پر فدا ہوجاتے مگر حسین ابن علی زندہ بچ جاتے۔
آپ کے یہ جملے، امام حسینؑ اور اہل بیتؑ کے ساتھ آپ کی سچی اور با اخلاص محبت کی عکاسی کرتی ہے۔
تاریخی کتب میں ہے کہ حضرت زینب(س) مدینہ پہنچنے کے بعد “ام البنین” سے ملنے گئیں اور انہیں ان کے بیٹوں کی شہادت کے حوالے سے تعزیت و تسلیت پیش کی۔
حضرت ام البنین اپنے بیٹوں کی شہادت سے باخبر ہونے کے بعد ہر روز اپنے پوتے عبیداللہ (فرزند حضرت عباس ع) کے ساتھ قبرستان بقیع جایا کرتی تھی اور وہاں پر نوحہ پڑھا کرتی تھیں اور نہایت دلسوز انداز میں گریہ کرتی تھیں۔ اہل مدینہ ان کے ارد گرد جمع ہوجاتے اور ان کے ساتھ گریہ کرنا شروع کرتے تھے۔ یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ مروان بن حکم جو اہل بیت کا سخت دشمن سمجھا جاتا تھا بھی آپ کے ساتھ گریہ و بکا کرنے پر مجبور ہوجاتا
آپ مرثیے کے یہ اشعار پڑھتیں
یا مَنْ رَأَی العباس کَ
رَّ علی جماهیر النَّقَدْ
وَ وَرَاهُ مِنْ ابناءِ حَیْ
دَرِ کلٌّ لَیْثَ ذی لُبَدْ
اُنْبِئْتُ اَنَّ اْبنی اُصِیبَ
بِرَأْسِه مقطوعُ یَدْ
وَیْلی علی شِبْلی اَما
لَ بَرَأْسِهِ ضَرْبُ العَمد
لَوْ کَانَ سَیْفُهُ فِی یَدَیْهِ
لما دَنَا مِنْهُ اَحَدْ
لاَ تدَعُوَنِّی وَیکَ ام البنین
تُذکِّرینی بلیوث العرین
کانت بنونَ لی اُدْعَی بِهِمْ
و الْیَوْمَ اَصْبَحْتُ وَ لاَ مِنْ بَنِین
اَرْبعَهٌ مِثْلَ نُسُورُ الرّبی
قَدْ وَاصَلُوا المَوْتَ بِقَطْعِ الْوَتِینِ
تَنَازَعُ الْحِرْصانَ اَشلاَئَهُمْ
فَکُلّهُمْ اَمْسُوا صَرِیعا طَعینِ
یا لَیْت شِعْری اَکَما اَخبَروا
بِاَنَّ عبَّاسا مَقْطُوعَ الیَدَیْنِ
” اے وہ شخص جس نے میرے لال عباسؑ کو بڑے لشکر پر اس وقت حملہ کرتے دیکھا جب اس کے پیچھے حیدری شیر اور بھی تھے،
مجھے خبر دی گئی ہے کہ میرے لال کے سر پر اس وقت ضربت لگی جب اسکے ہاتھ قطع ہو چکے تھے، اس ضربت نے میرے لال کو گھوڑے سے گرا دیا
” اے میری بہنوں مجھے ام البنین نہ کہو ، مجھے میرے بیٹے یاد آ جاتے ہیں ، کبھی میرے بیٹے ذندہ تھے تو میں ام البنین تھی، اب تو ان میں سے کوئی ذندہ بھی نہی رہ گیا ،
ہائے میرے چار شیر ، سب ہی گلا کٹائے پڑے ہوئے ہیں، یہ اس وقت شہید ہوئے جب بھوک اور پیاس نے انکے جوڑ بند تک خشک کر دئے تھے،
کاش مجھے معلوم ہوتا،
کیا یہ خبر صحیح ہے کہ میرے عباسؑ کے بازو قلم کر دئے گئے تھے”…
زین الدین عاملی ( شہید ثانی) حضرت ام البنینؑ کے بارے میں لکھتے ہیں: ام البنین با معرفت اور با فضیلت خواتین میں سے تھیں۔خاندان نبوت سے خاص محبت اور شدید و خالص دلبستگی رکھتی تھی اور اپنے آپ کو ان کی خدمت کیلئے وقف کی ہوئی تھی۔ خاندان نبوت کے ہاں بھی آپ کو ایک اعلی مقام حاصل تھا اور آپ کا خصوصی احترام کرتے تھے۔ عید کے ایام میں ان کی خدمت میں تشرییف لے جاتے تھے اور ان کا خاص احترام کرتے تھے۔
سید محمود حسینی شاہرودی لکھتے ہیں:
میں مشکل اوقات میں حضرت ابوالفضل العباسؑ کی ماں ام البنین(س) کیلئے 100 مرتبہ صلوات ہدیہ کرتا ہوں اور اپنی مشکلات سے باہر آتا ہوں۔
مقرم لکھتے ہیں:
ام البنین کابا فضیلت خواتین میں شمار ہوتی تھی آپ اہل بیت کی حقانیت سے خوب واقف تھیں اور ان کی محبت اور دوستی میں خالص تھیں متقابلا خود بھی اہل بیت کے ہاں ایک خاص مقام رکھتی تھیں۔
علی محمد علی دُخَیل عصر حاضر کے عرب لکھاری اس عظیم خاتون کے بارے میں لکھتے ہیں:
اس خاتون (ام البنین) کی عظمت وہاں آشکار ہوتی ہے جب انکے بیٹوں کی شہادت کی خبر آتی ہے تو اس پر کوئی توجہ نہیں دیتی بلکہ امام حسینؑ کی سلامتی کے بارے میں سوال کرتی ہے گویا امام حسینؑ ان کے فرزند ہیں نہ اپنے بیٹے
باقر شریف قرشی؛ کتاب عباس بن علی میں آپ کی فضیلت کے بارے میں لکھتے ہیں: تاریخ میں نہیں دیکھا گیا کہ کسی عورت نے اپنی سوکن کے فرزندان سے خالص محبت کی ہو اور ان کو اپنے فرزندوں پر مقدم رکھا ہو سوای اس با عظمت خاتون یعنی ام البنین (س)کے
ام البنین کی مہر و محبت اور عزا و بکا اور درس وفا والی زندگی آخری لمحات میں تھی، ام البنین کی زندگی کی آخری رات تھی۔ خادمہ فضہ نے اس مودّب خاتون سے مخاطب ہوکردرخواست کی کہ ان آخری لمحات میں اسے ایک بہترین جملہ سکھائے ۔ حضرت ام البنین نے ایک تبسم کے بعد فرمایا:” السلام علیک یا ابا عبداللہ الحسین”
اس کے فورا بعد فضہ نے حضرت ام البنین کو احتضار کی حالت میں پایا اور دوڑ کے علی علیہ السلام اور حسین علیہ السلام کی اولاد کو بلایا۔
تھوڑی ہی دیر بعد اماں! اماں ! کی آواز مدینہ میں گونج اٹھی۔
حضرت فاطمہ زہراء (س)کے بیٹے اور نواسے ام البنین کو ماں کہہ کر پکارتے تھے اور یہ خاتون انھیں منع نہیں کرتی تھیں، شائد اب اس میں یہ کہنے کی طاقت باقی نہ رہی تھی کہ:” میں فاطمہ (س) کی کنیز ہوں۔”
آپ 13 جمادی الثانی سنہ 64 ہجری اس دار فنا سے دار بقا کی طرف منتقل ہو گئیں
حضرت ام البنین (ع) کو جنت البقیع میں، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو پھپھیوں : صفیہ و عاتکہ کے پاس امام حسن علیہ السلام اور فاطمہ بنت اسد علیہا السلام کی قبروں کے قریب سپرد خاک کیا گیا۔
بارگاہ ایزدی میں دعا ہے کہ خداوند متعال ہماری خواتین کو سیرت حضرت ام البنین عطا فرمائیں اور ہماری اولادوں کو سیرت اولاد حضرت ام البنین عطا ہو
آمین یا رب العالمین
بحق محمد و،آلہ الطاہرین 爐
السلام علیک یا مشارکۃ الزہرا بمصابہا
السلام علیک یا زوجة ولی اللہ،
السلام علیک یا زوجة امیرالمؤمنین،
السلام علیک یا ام البنین،
السلام علیک یا ام العباس
ابن امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام،
رضی اللہ تعالی عنک وجعل منزلک وماو’ک الجنہ ورحمت اللہ و برکاتہ۔ ۔ ۔
حوالہ جات
طبری، تاریخ، ج۴، ص۱۱۸.
مقتل الحسین، ص۱۷۴.
ابن عنبہ، عمدۃ الطالب، ص۳۵۷.
مقاتل الطالبیین، ص۸۲ -۸۴؛ ابن عنبہ،
عمدۃ الطالب، ص۳۵۶؛ حسّون، اعلام النساء المؤمنات، ص۴۹۶.
ریاحین الشریعہ، ج۳، ص۲۹۳.
قمر بنیهاشم، ص۱۶.
تنقیح المقال، ج۳، ص۷۰
ستارہ درخشان مدینہ حضرت ام البنین، ص۷.
چہرہ درخشان قمر بنی ہاشم ابوالفضل العباسؑ، ج۱، ص۴۶۴.
العباسؑ، ص۱۸.
Be the first to comment on "*معدن وفا**مبلغہ عزاءحسین واعوان و انصار الحسین**علوی سادات کی جدہ**حضرت فاطمہ بنت حزام المعروف بہ اُمّ البَنین سلام اللہ علیہا* "