عید میلاد کی خاص تحریر احسن تقویم

بسم اللہ الرحمن الرحیم
احسن تقویم
یعنی خدا کی سب سے بہترین اور عمدہ تخلیق۔
حضرت محمد مصطفی! صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
واحسن منک لم تر قط عینی
واجمل منک لم تلد النساء
خلقت مبرءا” من عیب
کانک قد خلقت کما تشاء
نہ دیکھا میری آنکھوں نے
کوئی تم ساحسیں جاناں
صدف نے تم سا اگلا ہی
نہیں در ثمیں جاناں
تمہیں پیدا کیا ہر عیب سے
یوں پاک فرما کر
کہ جیسے اپنی مرضی سے
بنیں ہو نازنیں جاناں
تحریر✍️
کوثر عباس قمی الحیدری
☘️
ثنائے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت مشکل ہے
اس لئے کہ کسی کی تعریف اس وقت کی جاسکتی ہے جب انسان اسے جانتا ہو
اس کی معرفت رکھتا ہو
ہماری حیثیت تو سمندر کے مقابلے میں قطرے جتنی بھی نہیں اور روئے زمین پر پڑے ہوئے مٹی کے ذرات میں سے ایک ذرے کے برابر بھی نہیں

اس رحمت عالم کا قصیدہ کہوں کیسے؟

جو مہرِ عنایت بھی ہو ابرِ کرم بھی

کیا اس کے لیے نذر کروں جس کی ثنا میں

سجدے میں الفاظ بھی سطریں بھی قلم بھی

کتاب احتجاج طبرسی میں معصوم سے منقول ایک روایت ہے آپ نے فرمایا

  • عربی عبارت کا ترجمہ-
    ہم کلمات اللہ ہیں
    ہمارے فضائل کا ادراک نہیں ہو سکتا
    اور کلمات اللہ کے بارے قرآن کریم میں سورہ لقمان کی آیت نمبر ٢٧ میں ارشاد ہورہا ہے
    (ترجمہ)
    اور اگر زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور سمندر کے ساتھ مزید سات سمندر مل (کر سیاہی بن) جائیں تب بھی اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے، یقینا اللہ بڑا غالب آنے والا، حکمت والا ہے۔
    اور
    بقول شاعر کہ
    مدح سرکار کا سامان کہاں سے لاؤں
    اور مصطفی سا کوئی عنوان کہاں سے لاؤں
    کب سے ہے کون ہے کیسا ہے کہاں ہےکیا ہے
    کیسے سوچوں تیرا وجدان کہاں سے لاؤں
    اور نعت کہنے پر اگر ٹھہر بھی جائے میرا دل
    میں بھلا جراءت یزدان کہاں سے لاوں
    دل کا دل ہے کہ کروں دل سے ثناء سرور
    کیا کروں اور وسعت قرآن کہاں سے لاؤں

  • مگر ماتیسر من القرآن کے مصداق بن کے
    لاعلم لنا الا ماعلمتنا کہہ کے اپنی کم علمی اور کم مائیگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہ مجھ گنہ گار کو
    ثناخوانان مصطفیٰ کی صف میں کھڑے ہونے کا اعزاز مل جائے، کہ شاید یہی سامان شفاعت بن جائے
    الفاظ کی بے کراں وادی سے کچھ لفظ چن کے لفظوں کی ایک مالا بنانے کی کوشش کی ہے
    🌿
    بات چاہے 12ربیع لاول کی ہو یا سترہ کی
    تو نہ بارہ کی نہ 17 کی
    نور یزداں ،
    حضرت محمد مصطفی’
    صلی الله عليه وآلہ وسلم
    کی تخلیق اس وقت کی بات ہے جب “وقت” ہی پیدا نہیں ہوا تھا
    تب کی بات ہے جب لفظ تب بھی نہیں بنا تھا
    یعنی جب لفظ “جب” اور “تب” کا وجود بھی نہ تھا
    کیونکہ زمانہ یعنی دن اور رات بنتے ہیں سورج چاند ستاروں کی گردش نظام شمسی سے، تو یہ تو اس وقت کی بات ہے جب
    سماء مبنیہ ، ارض مدحیہ قمر منیر ، شمس مضیہ بحر جاریہ، فلک ساریہ ، بھی نہ تھے
    آسمان تھا نہ اس کی زینت ستارے
    سورج تھا نہ اس کے گرد گھومنے والے سیارے
    زمین تھی نا اس پر رہنے والی مخلوقات اور آبشاریں

حضرت داود کے اس سوال کے جواب میں کہ یا اللہ تو نے یہ نظام ھستی کیوں بنایا تو فرمایا
کنت کنزا” خفیا” فاحببت ان اعرف فخلقت الخلق۔۔
میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا میں نے چاہا کہ اپنی معرفت کراوں،
تو میں نے ایک خاص مخلوق خلق کی
خاص اس لیے کہ
ایسی مخلوق جو میری صفات کا مظہر ہو،
لوگ دیکھیں انہیں اور پہچانیں مجھے
لا محالہ، جب وہ مخلوق خدا کی پہچان کا ذریعہ بننی ہے تو جس طرح رب کائنات خالق ہونے کی حیثیت سے افضل واکمل ہے وہ مخلوق بھی ، مخلوق ہونے کی حیثیت سے کامل واکمل ہونی چاہیے
کسی زاویے سے بھی کسی سے کم نہ ہو
اس کی وضاحت خود نبی کریم نے کر دی ، فرمایا
اول ماخلق اللہ نوری
کہ خدا نے سب سے پہلے میرا نور خلق کیا

قرآن میں حضرت عیسی علی’ نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں ارشاد کہ
سلام علی یوم ولدت
مجھ پہ اس دن کا سلام جس دن میری ولادت ہوئی
مگر اپنے حبیب کی تخلیق کے بارے میں قرآن میں کہیں لفظ یوم اور ولادت استعمال نہیں کیا
بلکہ جہاں بھی اپنے حبیب کی بات کی تو
یا تو کہا
جاء۔ ۔۔
یا کہا ارسل
یا کہا بعث ۔۔۔
کیونکہ بات عالم اجسام کی نہیں

عالم ارواح میں تخلیق نور محمد مصطفی’ کی بات ہے

جسے قرآن نےسورہ احزاب کی آیت نمبر 7 اور سورہ اعراف کی آیت نمبر 172 میں یوں بیان کیا

وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّيْنَ مِيْثَاقَهُـمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْـرَاهِيْـمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَـمَ ۖ وَاَخَذْنَا مِنْـهُـمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا

ترجمہ
(7) اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے پیغمبروں سے عہد لیا اور تجھ سے اور نوح، ابراہیم . موسٰی اور عیسٰی بن مریم سے اور ان سب سے ہم نے محکم پیمان لیا

اور سورہ اعراف کی آیت ۱۷۲ میں ارشاد ہوا
وَإِذْ اٴَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِی آدَمَ مِنْ ظُھُورِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَاٴَشْھَدَھُمْ عَلیٰ اٴَنفُسِھِمْ اٴَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلیٰ شَھِدْنَا اٴَنْ تَقُولُوا یَوْمَ الْقِیَامَةِ إِنَّا کُنَّا عَنْ ھٰذَا غَافِلِینَ.
ترجمہ
۱۷۲۔ اُ س وقت کو یاد کرو جب تمھارے پروردگار نے اولادِ آدم کی صلب سے ان کی ذریت کو نکالا اور اُنھیں اُن کے اپنے نفسوں پر گواہ بنایا (اور پھر اُن سے سوال کیا) کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ۔ اُنھوں نے کہا ہاں ہم گواہی دیتے ہیں ۔

اسی طرح علامہ سید امداد کاظمی سورة صافات کی آیت نمبر 65/66
وَ إِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ ۔
وَ إِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ
کی تفسیر میں بحوالہ تفسیر قمی تفسیر صافی سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ ہم عالم نور میں عرش کے گرداگرد صف باندھ کر تسبیح کیا کرتے تھے پس اھل آسمان ہماری تسبیح سے تسبیح کرنا سیکھے
بعد میں اللہ تعالی نے ہمیں زمین پر بھیجا ہم نے یہاں بھی تسبیح کی اور اہل زمین نے بھی ہماری تسبیح سے تسبیح کرنا سیکھی
صف باندھ کر کھڑے ہونے والے بھی ہم ہیں اور تسبیح کرنے والے بھی ہم ہیں
نور محمدی ص کی تخلیق کے بعد
ثم استوی’ علی العرش
پھر عرش خلق کیا اور ان انوار کو اپنے خاص عرش پہ جگہ دے کر
عند ذی العرش مکین کا مصداق
“عرش کا مکیں بنایا

کتاب الدمعۃ الساکبہ میں خصال اور معانی الاخبار سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ ذات احدیت نے نور سرور انبیاء کو تخلیق کائنات سے چار لاکھ چوبیس ہزار برس پہلے پیدا کیا

پھر بارہ حجاب خلق کیئے

1-حجاب قدرت، ۲-حجاب عظمت، ۳ حجاب منت ۴-حجاب رحمت، ۵-حجاب سعادت، ۶-حجاب کرامت، ۷-حجاب منزلت ۸-حجاب ھدایت ۹-حجاب نبوت ۱۰-حجاب رفعت۱۱-حجاب مشیت۱۲-حجاب شفاعت
اور کئی سالوں تک ان حجابوں میں رکھا
خدا نے لوح و قلم بنائے
پھر ملائکی تخلیق کی

پھر خداوند متعال
زمین و آسمان پہاڑ دریا سورج چاند ستارے بنائے
یہاں تک کہ اعلان کیا انی خالق بشرا” من طین
میں مٹی سے ایک بشر بنانے لگا ہوں
سورة ص کی آیت نمبر ٧١ میں ارشاد ہوا

اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ اِنِّيْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِيْنٍ فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِيْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِيْنَ

اس وقت کو یاد کر جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے کہا : میں گیلی مٹی سے ایک بشر پیدا کروں گا۔
جس وقت میں اسے درست اورمنظم کرلوں اور اپنی روح میں سے اس میں پھونک دوں تو سب کے سب اس کے لیے سجدہ کرنا۔

سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا
خدا نے کہا استکبرت ام کنت من العالین ؟
تیرے سجدہ نہ کرنے کی وجہ تکبر ہے یا تو عالین میں سے ہے_؟

الرّسول (صلی الله علیه و آله)- عن أَبِی‌سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ کُنَّا جُلُوساً عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ (صلی الله علیه و آله) إِذْ أَقْبَلَ إِلَیْهِ رَجُلٌ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّهِ (صلی الله علیه و آله) أَخْبِرْنِی عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عزّوجلّ لِإِبْلِیسَ أَسْتَکْبَرْتَ أَمْ کُنْتَ مِنَ الْعالِینَ مَنْ هُمْ یَا رَسُولَ اللَّهِ (صلی الله علیه و آله) الَّذِینَ هُمْ أَعْلَی مِنَ الْمَلَائِکَهًِْ الْمُقَرَّبِینَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (صلی الله علیه و آله) أَنَا وَ عَلِیٌّ وَ فَاطِمَهًُْ وَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَیْنُ (علیهم السلام) کُنَّا فِی سُرَادِقِ الْعَرْشِ نُسَبِّحُ اللَّهَ فَسَبَّحَتِ الْمَلَائِکَهًُْ بِتَسْبِیحِنَا قَبْلَ أَنْ یَخْلُقَ اللَّهُ عزّوجلّ آدَمَ (علیه السلام) بِأَلْفَیْ عَامٍ فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ عزّوجلّ آدَمَ (صلی الله علیه و آله) أَمَرَ الْمَلَائِکَهًَْ أَنْ یَسْجُدُوا وَ لَمْ یُؤْمَرُوا بِالسُّجُودِ إِلَّا لِأَجْلِنَا فَسَجَدَتِ الْمَلَائِکَهًُْ کُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ إِلَّا إِبْلِیسَ أَبَی أَنْ یَسْجُدَ فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَ تَعَالَی لَهُ یا إِبْلِیسُ ما مَنَعَکَ أَنْ تَسْجُدَ لِما خَلَقْتُ بِیَدَیَّ أَسْتَکْبَرْتَ أَمْ کُنْتَ مِنَ الْعالِینَ أَیْ مِنْ هَؤُلَاءِ الْخَمْسَهًِْ الْمَکْتُوبَهًِْ أَسْمَاؤُهُمْ فِی سُرَادِقِ الْعَرْشِ فَنَحْنُ بَابُ اللَّهِ الَّذِی یُؤْتَی مِنْهُ وَ بِنَا یَهْتَدِی الْمُهْتَدُونَ فَمَنْ أَحَبَّنَا أَحَبَّهُ اللَّهُ وَ مَنْ أَبْغَضَنَا أَبْغَضَهُ اللَّهُ وَ أَسْکَنَهُ نَارَهُ وَ لَا یُحِبُّنَا إِلَّا مَنْ طَابَ مَوْلِدُهُ.

حضرت ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص آیا اور نبی کریم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ یہ جو فرمان الہی ہے کہ استکبرت ام کنت من العالین کہ اے ابلیس تو نے سجدہ کیوں نہیں کیا؟ تیرے سجدہ نہ کرنے کا سبب تکبر ہے یا تو عالین میں سے ہے؟
یارسول اللہ یہ عالین کون ہیں؟
جن کی قدر و منزلت ملائکہ مقربین سے بھی بڑھ کے ہے
(جن پہ سجدہ کا حکم لاگو نہیں ہوا!)
آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ عالین ہم ہیں
میں ، علی ، زہرا ، حسن ، حسین (علیہم السلام)
ہمارے نور کو تخلیق کرنے کے بعد خدا نے ہمیں ساق عرش پہ رکھا ، ہم اس کی تسبیح و تقدیس کرتے تھے ملائکہ نے ہماری تسبیح و تقدیس سے تسبیح سیکھی
یہ حضرت آدم کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے کی بات ہے
پھر خداوند متعال نے حضرت آدم علیہ السلام کو خلق کیا اور ملائکہ کو سجدہ کا حکم دیا
سجدہ کا یہ حکم ہماری وجہ سے تھا
سب نے سجدہ کیا ، ابلیس نے نہیں کیا تو خداوند متعال نے پوچھا تو نے سجدہ کیوں نہیں کیا کیا تو عالین میں سے ہے؟
یعنی ان 5 میں سے ہے جن کے اسماء ساق عرش پہ لکھے ہیں؟؟
پھر نبی کریم نے فرمایا
ہم ہی اللہ کا وہ دروازہ ہیں جس میں سے داخل ہو کے خدا تک پہنچا جا سکتا ہے
خدا اس سے محبت رکھتا ہے جو ہم سے محبت رکھے اور ہم سے دشمنی خدا سے دشمنی ہے
خدا کا یہ وعدہ برحق ہے کہ ہم سے دشمنی رکھنے والے کو جہنم کی آگ میں جلائے گا
اور ہم سے محبت وہی رکھتا یے جس کا شجرہ پاکیزہ ہو
🌿
پھر تقلب فی الساجدین کے مطابق
نور نبوی مختلف انبیاء اور سجدہ کرنے والی جبینوں سے منتقل ہوتے ہوئے جبین حضرت ہاشم و عبد المطلب تک پہنچا
سورہ شعراء کی آیت نمبر 218 اور 219 میں ارشاد ہوا

الَّذِیۡ یَرٰىکَ حِیۡنَ تَقُوۡمُ﴿۲۱۸﴾ۙ۲۱۸۔ جو آپ کو قیام کے وقت بھی دیکھ رہا تھا
وَ تَقَلُّبَکَ فِی السّٰجِدِیۡنَ﴿۲۱۹﴾۲۱۹۔ اور تیرا سجدہ کرنے والوں (کی صلب ) میں منقل ہونا بھی
علامہ سید امداد کاظمی
تفسیر صافی سے
بحوالہ مجمع البیان لکھتے ہیں
کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو انبیاء علیہ السلام کے سلاسل میں منتقل کرتا رہا
ایک نبی سے دوسرے نبی تک آپ کا نور باقاعدہ حلال طریقے یعنی نکاح کے ذریعے پہنچا
حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آخر تک اس نور کے حاملین سےکوئی بات خلاف امر خدا سرزد نہیں ہوئی
کیوں نہ ہو اس شجرہ کو تو خود خدا شجرہ طیبہ کہتا ہے

اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصۡلُہَا ثَابِتٌ وَّ فَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِ سورہ ابراہیم۲۴۔

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کیسی مثال پیش کی ہے کہ کلمہ طیبہ شجرہ طیبہ کی مانند ہے جس کی جڑ مضبوط گڑی ہوئی ہے اور اس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں!
تفسیر قرطبی اور الدر المنثور میں ابن عباس کی یہ روایت ہے:

ھی فی اصلاب الاباء آدم و نوح و ابراہیم حتی اخرجہ نبیاً۔
یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آباء آدم، نوح، ابراہیم علیہم السلام کے بارے میں ہے یہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی بنا کر (اپنے پدر کے صلب سے) پیدا کیا۔

ہمارے ہاں اس بات پر اجماع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آباء و اجداد سب مومن اور موحد تھے
بہرحال
آپ کا نور اقدس حضرت آدم کے ذریعے عرش سے فرش پہ منتقل کیا گیا اور سجدہ کرنے والی جبینوں سے سفر کرتا ہوا جبین حضرت عبد المطلب میں پہنچ کے دو حصوں میں تقسیم ہوا ایک جبین حضرت عبداللہ میں منتقل ہوا جو صدف عصمت حضرت آمنہ کے ذریعے ظہور پزیر ہوا اور محمد ص کہلایا دوسرا صدف عصمت
حضرت فاطمہ بنت اسد کے ذریعے جلوہ گر ہوا اور علی کہلایا
جب نور مصطفی جلوہ گر ہوا تو ایوان کسریٰ کے چودہ کنگرے گر گئے
ہزار سال سے جلنے والے آتش کدے بجھ گئے دریائے ساوہ خشک ہو گیا
بت خانوں میں بت اوندھے منہ گر گئے
جناب آمنہ بنت وہب نے آپ کے نور کے سبب کرہ ارض کا مشاہدہ کیا

لا شریک خدائے محمد و آل محمد نے ایسا معجزنما بدن تخلیق کیا جو اپنی مثال آپ تھا
جس کا سایہ نہیں تھا
جس کے بدن اطہر پر ہمیشہ بادل کا سائبان رہتا
آنکھیں ایسی حسین کہ جس طرح آگے دیکھ سکتی اسی طرح پیچھے بھی
کان ایسے حسین کہ جس طرح عالم بیداری میں سن سکتے اسی طرح عالم خواب میں بھی
زبان مبارک وحی کے سانچے میں ڈھلی ہوئی جو ہر زبان بول بولے اور سمجھ بھی لے
پشت مبارک پر نبوت کا زندہ معجزہ جس پر کلمہ طیبہ کندہ تھا یعنی “مہر نبوت”
پھر
قرآن کو اپنے حبیب کا قصیدہ بنا کے نازل کرتا رہا
زبان کے متعلق بات کی تو فرمایا
وماینطق عن الھوی’
ان ہو الا وحی یوحی’
کانوں کے متعلق بات کی تو فرمایا
اذن خیر لکم
سینے کے متعلق بات کی تو فرمایا
الم نشرح لک صدرک
دل کے متعلق بات کی تو فرمایا
نزل بہ الروح الامین علی’ قلبک
ہاتھوں کے متعلق بات کی تو فرمایا
ید اللہ فوق ایدیہم
بدن اقدس کے متعلق بات ہوئی تو فرمایا
وما ارسلناک الا رحمة للعالمین
سور نساء کی آیت نمبر 136
میں ارشاد فرمایا
یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا آمِنُوا
اے ایمان والو
ایمان لے آو
کیا مطلب ؟
یعنی جس طرح اللہ چاہتا ہے میرے نبی کو اس طرح مانو
یسلمو تسلیما

میرے نبی “کو” بھی مانو اور

میرے نبی “کی” بھی مانو

میں نے جو عظمتیں ، جو فضیلتیں اور جو اختیارات اپنے نبی کو عطا کیے ہیں ان کا اقرار بھی کرو اور ان کو بیان بھی کرو
واما بنعمة ربک فحدث
اس لیے کہ میرے حبیب سے بڑھ کے تمہارے لیے بڑی نعمت کوئی نہیں
یاایُّہَا الَّذینَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّہِ وَ رَسُولِہِ وَ الْکِتابِ الَّذی نَزَّلَ عَلی رَسُولِہِ وَ الْکِتابِ الَّذی اٴَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ وَ مَنْ یَکْفُرْ بِاللَّہِ وَ مَلائِکَتِہِ وَ کُتُبِہِ وَ رُسُلِہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالاً بَعیداً۔
ترجمہ
۱۳۶۔ اے ایمان لانے والو! ( واقعی ) ایمان لے آوٴ خدا پر ، اس کے پیغمبر پر ، اس کی کتاب پر جو اس پر نازل ہوئی اور ان ( آسمانی) کتب پر جو اس سے پہلے بھیجی گئی ہیں اور جو شخص خدا، اس کے ملائکہ اس کی کتب ، اس کے رسل اور روزِ آخرت کا انکار کرے وہ بہت دور کی گمراہی میں مبتلا ہے ۔
یا اللہ تمہارے نبی کو کیا مانیں ؟
فرمایا
قد جاء کم من اللہ نور و کتاب مبین
میرے نبی کو نور مانو

میرے نبی کو چیف جسٹس مانو
فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَ یُسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا
سورہ نساء آیت نمبر ۶۵۔
(اے رسول) تمہارے رب کی قسم یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے باہمی تنازعات میں آپ کو منصف نہ بنائیں پھر آپ کے فیصلے پر ان کے دلوں میں کوئی رنجش نہ آئے بلکہ وہ (اسے) بخوشی تسلیم کریں

میرے نبی کو خود سے بھی اولی’ مانو
اَلنَّبِیُّ اَوۡلٰی بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِہِمۡ
سورہ احزاب آیت نمبر ۶
نبی کریم ص مومنین کی جانوں پر خود ان سے بھی زیادہ حق تصرف رکھتے ہیں

میرے نبی کو شاھد یعنی اپنے اعمال پر گواہ مانو

فَکَیۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍۭ بِشَہِیۡدٍ وَّ جِئۡنَا بِکَ عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ شَہِیۡدًا
سورہ نساء آیت نمبر۴۱۔
پس (اس دن) کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور (اے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو ان لوگوں پر بطور گواہ پیش کریں گے۔
(اورگواہ وہی ہوتا ہے جس نے وقوعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو ! )

میرے نبی کے دماغ کو ہر وقت حاضر مانو!
مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمۡ وَ مَا غَوٰی
سورہ النجم۲۔
تمہارا ساتھی نہ کبھی گمراہ ہوا ہے اور نہ کبھی بہکا

میرے نبی کو رسول “کریم”۔ مانو
انہ لقول رسول کریم
ذی قوہ مانو
عند ذی العرش مکین
مانو
مطاع ثم امیں مانو
اور

ماآتاکم الرسول فخذوہ
جو رسول دے لے لو
جس سے منع کردے اس سے رک جاو
(اس کا مطلب ہوا رسول آج بھی عطا کرسکتے ہیں)

میرے نبی سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ۱۔
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے۔

اور نہ ہی میرے نبی کی آواز سے اپنی آواز بلند نہ کرنا ورنہ؟
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَکُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجۡہَرُوۡا لَہٗ بِالۡقَوۡلِ کَجَہۡرِ بَعۡضِکُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ
حجرات۲۔
اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور نبی کے ساتھ اونچی آواز سے بات نہ کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے اونچی آواز میں بات کرتے ہو کہیں تمہارے اعمال حبط ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔
میرے رسول کی عطا پہ اعتراض نہ کرو
وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّلۡمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ ۚ فَاِنۡ اُعۡطُوۡا مِنۡہَا رَضُوۡا وَ اِنۡ لَّمۡ یُعۡطَوۡا مِنۡہَاۤ اِذَا ہُمۡ یَسۡخَطُوۡنَ
سورہ توبہ آیت نمبر۵۸۔
اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو صدقات(کی تقسیم)میں آپ کو طعنہ دیتے ہیں پھر اگر اس میں سے انہیں کچھ دے دیا جائے تو خوش ہو جاتے ہیں اور اگر اس میں سے کچھ نہ دیا جائے تو بگڑ جاتے ہیں۔

میرے نبی کو اذیت نہ دینا

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا مُّہِیۡنًا۵۷۔
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت کی ہے اور اس نے ان کے لیے ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔

زندگی چاہیے ؟
تو میرے نبی کی آواز پہ لبیک کہو
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَجِیۡبُوۡا لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحۡیِیۡکُمۡ ۚ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوۡلُ بَیۡنَ الۡمَرۡءِ وَ قَلۡبِہٖ وَ اَنَّہٗۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ۲۴۔
اے ایمان والو! اللہ اور رسول کو لبیک کہو جب وہ تمہیں حیات آفرین باتوں کی طرف بلائیں اور جان لو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور یہ بھی کہ تم سب اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے

میرے نبی کی نصرت کرنا

کیونکہ
جو ان پر ایمان لاتے ہیں ان کی حمایت اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کی پیروی کرتے ہیں جو ان کے ساتھ نازل کیا گیا ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں
(مولا علی ع اور آپ کے بابا حضرت ابوطالب
اور نبی کریم کی زوجہ طاہرہ حضرت خدیجہ سے بڑھ کے نصرت رسول خدا کس نے کی؟ )
اس نور کی بھی پیروی کرنا جو میں نے نبی کے ساتھ نازل کیا
(سوچنے کی بات ہے نبی کریم کے ساتھ کون سا نور نازل ہوا؟ ؟)

اَلَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِیَّ الۡاُمِّیَّ الَّذِیۡ یَجِدُوۡنَہٗ مَکۡتُوۡبًا عِنۡدَہُمۡ فِی التَّوۡرٰىۃِ وَ الۡاِنۡجِیۡلِ ۫ یَاۡمُرُہُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہٰہُمۡ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیۡہِمُ الۡخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنۡہُمۡ اِصۡرَہُمۡ وَ الۡاَغۡلٰلَ الَّتِیۡ کَانَتۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِہٖ وَ عَزَّرُوۡہُ وَ نَصَرُوۡہُ وَ اتَّبَعُوا النُّوۡرَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ مَعَہٗۤ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ
سورہ اعراف۱۵۷۔
(یہ رحمت ان مومنین کے شامل حال ہو گی)جو لوگ اس رسول کی پیروی کرتے ہیں جو نبی امی کہلاتے ہیں جن کا ذکر وہ اپنے ہاں توریت اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں وہ انہیں نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور پاکیزہ چیزیں ان کے لیے حلال اور ناپاک چیزیں ان پر حرام کرتے ہیں اور ان پر لدے ہوئے بوجھ اور (گلے کے) طوق اتارتے ہیں، پس جو ان پر ایمان لاتے ہیں ان کی حمایت اور ان کی مدد اور اس نور کی پیروی کرتے ہیں جو ان کے ساتھ نازل کیا گیا ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں
پھر
ان سب باتوں کا نتیجہ کیا ہو گا؟
فرمایا دنیا سے زیادہ تمہیں آخرت میں محمد مصطفی’ کی ضرورت پڑے گی
من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ
محمد مصطفی’ روز محشر ماذون شفاعت ہیں
لھذا اگر اس طرح محمد ص “کو” مانا اور ایمان لائےجیسے میں نے کہا
اور محمد مصطفی’ “کی” بھی مانی تو میرا وعدہ رہا

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۞
سورہ تحریم آیت نمبر ۸
خدا اس دن پیغمبر(ص) کو اوران کے ساتھ ایمان لانے والوں کورسوا نہیں کرے گا. ان کا نور ان کے آگے آگے اوران کے دائیں جانب چل رہاہوگا اوروہ کہہ رہے ہوں گے :
پروردگارا
!ہمارے نور کوکامل کردے اورہمیں بخش دے بیشک توہر چیز پر قدرت رکھتاہے ۔
اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا﴿۵۶﴾۵۶۔ اللہ اور اس کے فرشتے یقینا نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو جیسے سلام بھیجنے کا حق ہے
🤲
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَ اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَ اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْد ٌ ❤
🌿
Presented by
الۡبَیِّنَۃُ انسٹیٹیوٹ راولپنڈی

Be the first to comment on "عید میلاد کی خاص تحریر احسن تقویم"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*