سورہ نساء کے آغاز سے آیت 134 تک پانچویں پارے کے مفاہیم کا خلاصہ

کلمات اللہ ہستیوں کی تعلیمات کی روشنی میں پاروں کی ترتیب کے ساتھ قرآنی مفاہیم کا اردو میں خلاصہ

تفسیر علیین
🌾
سورہ نساء کے آغاز سے آیت 134 تک
پانچویں پارے کے مفاہیم کا خلاصہ
🌾
جمع آوری مفاہیم
✍️کوثر عباس قمی
🌾
سورہ نساء کی پہلی آیت میں بث منھما رجالا” کثیرا کی تفسیر کہ نسل آدم کیسے چلی،
خدا نے جنت سے دو حوریں بھیجیں ایک کا نام نزلہ اور ایک کا نام منزلہ تھا نزلہ کا نکاح بحکم خدا حضرت آدم نے اپنے بیٹے شیث سے کیا اور منزلہ کا نکاح حضرت یافث سے، حضرت شیث کے ہاں بیٹا ہوا اور حضرت یافث کے ہاں بیٹی جن کے جوان ہونے پہ حضرت آدم نے بحکم خدا ان کا نکاح کرا دیا اور یوں نسل آدم پھلی پھولی
🌿
اس کے بعد صلہ رحمی کا حکم دیا
🌿
اور تاکید کی کہ یتامی’ کے مال کی حفاظت کرو، ان کا مال ناحق مت کھاو ان کے مال کو اپنے گھٹیا مال سے مت بدلو
🌿
شرائط کے ساتھ 4 تک شادیوں کی اجازت
اور اس حوالے سے احکام کا بیان
🌿
مہر خوش دلی سے ادا کرو
🌿
یتیموں کا مال بے وقوفوں کے حوالے مت کرو
🌿
اولاد، ماں باپ بیوی، اور کلالہ کی وراثت میں حصوں کا بیان
🌿
محرم عورتوں (کہ جن کے ساتھ نکاح جائز نہیں) کا بیان
🌿
پانچویں پارے کی ابتداء نکاح موقت کے احکام سے ہوتی ہے
🌱
متعۃ النساء یا متعہ یا میعادی ازدواج یہ ہے کہ عورت خود یا اپنے وکیل کے ذریعے اپنے آپ کو معینہ مدت کے لئے اور معینہ مہر پر، کسی ایسے مرد کے حبالہ نکاح میں لائے جس کے ساتھ شادی میں کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو: یعنی یہ کہ عورت اور مرد نسب یا سبب یا رضاعت کے لحاظ سے ایک دوسرے کے محرم نہ ہوں؛ عورت کسی اور کے نکاح میں نہ ہو اور طلاق یا وفات کی عدت میں نہ ہو۔ متعہ میں جب معینہ مدت مکمل ہوجائے یا شوہر باقیماندہ مدت عورت کو بخش دے تو وہ اس مرد سے جدا ہو جائے گی اور اگر حق زوجیت کے طور پر مجامعت انجام پائی ہو تو عورت کو دو بار ماہواری کے برابر عدت رکھنا پڑے گی اور اگر خاتون یائسہ ہوئے بغیر ماہواری عادت نہ رکھتی ہو تو اس کو 45 دن تک انتظار کرنا پڑے گا۔ تاہم اگر مجامعت انجام نہ پائی ہو تو اس مطلقہ عورت کی طرح ہوگی جس سے مجامعت نہ ہوئی ہے اور اس پر عدت نہیں ہے۔ متعہ کی اولاد شرعی احکام کے مطابق دائمی نکاح کی اولاد کی مانند ہے۔کنواری خواتین کا متعہ والد کے اذن سے مشروط ہے
شیعہ اور سنی تاریخی مآخذ بخوبی واضح کرتے ہیں کہ رسول خداؐ کے زمانے میں بھی اور آپؐ کی رحلت کے بعد بھی ـ خلیفۂ اول کے زمانے میں بھی متعۃ النساء (خواتین کا متعہ) انجام دیا جاتا تھا؛ حتی کہ خلیفۂ دوئم کی خلافت کے زمانے میں بھی اس قسم کی شادی انجام پاتی تھی لیکن انھوں نے اپنی خلافت کے زمانے میں ایک واقعے کے بعد اس قسم کے ازدواج کو حرام قرار دیا! اور دھمکی دی کہ اگر کسی نے یہ “حکم” سننے کے بعد اس طرح کی شادی کا “ارتکاب” کیا تو اس کو سنگسار کیا جائے گا
خلیفۂ دوئم نے اس ماحول اور اس عصر کے تفاضوں اور خاص مصلحتوں کی بنا پر اپنی رائے کے مطابق متعہ پر پابندی لگا دی اور یہ پابندی “قانونی اور عرفی” تھی اور “شرعی اور دینی” تحریم نہ تھی۔ چنانچہ یہ جملہ تواتر کے ساتھ ان سے منقول ہے:

“مُتعَتان کانَتا عَلی عَهدِ رَسولِ اللهِ واَنا اُحَرِّمُهُما واُعاقِبُ عَلَیهِما”
ترجمہ: دو متعے رسول خداؐ کے زمانے میں حلال تھے اور میں ان پر پابندی لگاتا ہوں اور جو خلاف ورزی کرے گا اس کو سزا دونگا: 1) متعۂ نساء 2) متعۂ حج۔ جیسا کہ عبارت سے واضح ہے خلیفۂ دوئم نے اس پابندی کو رسول اللہؐ سے نسبت نہیں دی ہے بلکہ کہا ہے کہ “میں اس پر پابندی لگاتا ہوں اور جو مخالفت کرے گا اس کو سزا دونگا”؛ یہ نہیں کہتے کہ “مخالفت کرنے والے کو خدا سزا دے گا”۔

قدر مسلّم یہ ہے کہ اس قسم کی شادی کا جواز رسول اللہؐ کے دور میں قطعی اور یقینی ہے اور اس کی منسوخی کے بارے میں کوئی بھی قابل اعتماد اور ناقابل انکار دلیل دستیاب نہیں ہے۔ چنانچہ علم اصول میں مسلّمہ قانون کے مطابق اس حکم کی بقاء کا حکم دینا پڑے گا۔

عمر سے منقولہ مشہور جملہ بھی اس حقیقت کی واضح دلیل ہے کہ یہ حکم پیغمبرؐ کے زمانے میں ہرگز منسوخ نہیں ہوا ہے۔
🌿
اس کے بعد زنا کی سزا بیان ہوئی
پھر یہ اصول بیان کیا کہ سنن انبیاء و صالحین کے طرز زندگانی پہ چل کے توجہات الہی کا سزاوار بنا جاسکتا ہے
🌱
پھر انسانی فطری خواھشات کو پورے کرنے کے جائز طریقے بتائے جس سے خواھشات بھی پوری ہوں اور نسل انسانی بھی محفوظ اور بڑھتی رہے
اللہ نے ان خواھشات کو روکنے کا حکم نہیں دیا
🌱
اس کے بعد باطل کے ذیعے مال کھانے سے منع کیا
جیسے جھوٹ کے ساتھ یا سود اور جوئے کے ذریعے یا کسی کا حق مار کے یا ناجائز منافع خوری اور ناپ تول میں کمی کر کے جو مال حاصل کیا جائے وہ باطل کہلاتا ہے
🌱
پھر اس بات کا بیان ہے کہ گناہان کبیرہ سے پرہیز کرو گے تو ہم (دنیا میں بھی) اس کا تمہیں کیا اجر دیں گے
گناہان کبیرہ کی تعریف اور تعداد
جس گناہ پر شریعت میں مخصوص سزا مقرر ہے یا لعنت آئی ہے یا جہنم کی وعید وارد ہوئی ہے وہ گناہ کبیرہ ہے اور جس گناہ پر مخصوص سزا، لعنت یا وعید نہیں آئی ہے صرف ممانعت وارد ہوئی ہے وہ صغیرہ ہے، بعض مرتبہ گناہ صغیرہ پر اصرار اور بے باکی کی وجہ سے وہ گناہ کبیرہ بن جاتا ہے،
قطعی اور مسلم گناہان کبیرہ کی فہرست
(۱) شرک بخدا اور ریاکاری (۲) رحمت خدا سے مایوسی(۳) خدا سے قنوط اور بدگمانی (۴) خداپوشیدہ اوراچانک قہرسے نہ ڈرنا(۵)انسان کا قتل کرنا(۶)والدین کا عاق (۷) قطع رحم (۸) یتیم کا مال کھانا (۹) سودخوری (۱۰) زنا کرنا (۱۱) لواط کرنا(۱۲)قذف(۱۳)شراب خوری (۱۴) جوا کھیلنا(۱۵) موسیقی کے آلات سے سرگرمی (۱۶) غنا گانے گانا (۱۷) جھوٹ بولنا (۱۸)جھوٹی قسم کھانا (۱۹) جھوٹی گواہی دینا (۲۰) گواہی نہ دینا (۲۱) وعدہ خلافی کرنا (۲۲)امانت میں خیانت کرنا (۲۳) چوری ڈکیتی کرنا (۲۴) کم بیچنا (۲۵)حرامخوری (۲۶)حقوق کا غصب کرنا (۲۷)جہاد سے فرار (۲۸)ہجرت کے بعد دار الکفر پلٹنا(۲۹)ظالموں کی مدد کرنا (۳۰)مظلوموں کی مدد نہ کرنا (۳۱)جادو ٹونہ(۳۲) اسراف (۳۳)تکبر کرنا (۳۴)مسلمانوں سے جنگ کرنا (۳۵)مردار اور سور کا گوشت کھانا (۳۶)عمداًنماز ترک کرنا (۳۷)زکوٰة نہ دینا (۳۸)حج کو نا چیز سمجھنا (۳۹)واجبات الہٰی میں سے کسی ایک کا ترک کرنا جیسا کہ شیخ حرآملی کی کتاب بدایة النہایہ میں کل واجبات ایک ہزار پانچ سو پینتیس شمار کئے گئے ہیں (۴۰)گناہ پر اصرار اور اسے معمولی سمجھنا (۴۱)وصیت کے ذریعہ کسی وارث کو محروم کرنا (۴۲)غیبت کرنا (۴۳)چلغوری کرنا (۴۴)مومن کا مذاق اڑانا (۴۵)دشنام اور طعنہ دینا (۴۶)مومن کو ذلیل کرنا (۴۷)مومن کی سرزنش اور رسوا کرنا (۴۸)شعر یا نثر کی ہجو کرنا (۴۹)مومن کو اذیت دینا (۵۰)ہمسایہ کو ستانا (۵۱)فریب اور دھوکہ دینا (۵۲)دوغلاپن (۵۳)اشیاء خوردنی کی ذخیرہ اندورزی کرنا (۵۴)حسدکرنا (۵۵)مومن سے دشمنی کرنا (۵۶)مساحقہ (عورتوں کا ایک دوسرے سے بد فعلی کرنا) (۵۷)قیادت دلالی اور دیاثت اپنی بیوی کو زنا پر آمادہ کرنا (۵۸)نطفہ خارج کرنا استمناء (۵۹)بدعت (۶۰)حکم ناحق نافذ کرنا (۶۱)محترم مہینوں میں جنگ کرنا (۶۲)راہ خدا سے روکنا (۶۳)کفران ناشکری نعمت (۶۴)فتنہ پردزی (۶۵) کفار کو اسلحہ فروخت کرنا(۶۶)بہتان اور بد گمانی(۶۷)ہتک حرمت قرآن (۶۸)ہتک حرمت کعبہ(۶۹)ہتک حرمت مساجد(۷۰)مزار معصومین (علیہم السلام) اور تربت حسنینی کی ہتک حرمت کرنا۔

درج ذ یل گناہان کے بھی کبیرہ ہونے کا احتمال ہے
(۱)نجس اشیاء کا کھانا پینا(۲)جہاں نیک وبد و تمیز کرنے والا ناظر محترم موجود ہو وہاں شرمگاہوں سے پردہ ہٹانا(۳)کسی ہم جنس یا غیر ہم جنس(عورت دوسری عورت یا ایک مرد دوسرے مرد یا شوہر اور بیوی کے علاوہ کسی مرد عورت یا عورت مرد کے)شرمگاہوں پر نگاہ ڈالنا(۴)قبلہ کی جانب رخ یا پشت کر کے پیشاب یا پاخانہ کرنا(۵)حیض،نفاس یا جنابت کی حالت میں مسجد کے اندر توقت کرنا(۶) مردوں کے لئے خالص ریشمی لباس اور سونا استعمال کرنا اگرچہ انگوٹھی بھی ہو(۷)مردوں اور عورتوں کا ایک دوسرے کی شکل و شباہت میں ظاہر کرنا(۸) بیوی اور شوہر کے علاوہ کسی دوسرے پر شک و شبہ شہوت سے دیکھنا خواہ یہ نگاہ عورت پر ہو یا مرد پر(۹)کسی دوسرے کے خط اس کی مرضی کے بغیر دیکھنا(۱۰)گھر والوں کی مرضی کے خلاف کسی کے گھر میں نظر کرنا(۱۱)گمراہ کن کتب اور مجلے محفوظ رکھنا ایسی کتب اور مجلے تلف کرنا واجب ہے (۱۲)مجسمہ سازی (۱۳)اجنبی کے بدن کو مس کرنا(۱۴)تقیہ کے سوا کسی ظالم کی تعریف کرنا اور کلی طور کسی ایسے کی مدح کرنا جو مدح کا سزاوار نہ ہو اور کسی ایسے کی مذمت کرنا جو قابل مذمت نہ ہو(۱۵)کسی معصیت کی مجلس میں ٹھہرنا(۱۶)سونے اور چاندی کے برتنوں کا استعمال(۱۷)نماز جماعت کو اہمیت نہ دیتے ہوئے شرکت نہ کرنا۔(۱۸)نما زجماعت میں (انکار کے طور پر )شرکت سے روگردانی۔بلکہ بعض فقہاء عظام واضح طور پر فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں جماعت میں حاضرنہ ہونا گنا کبیرہ ہے کبیرہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ جماعت سے روگردانی اور اہمیت نہ دینے والے شخص کی گواہی شرعاً قابل قبول نہیں۔(۱۹)مراجع عظام کے رسائل عملیہ میں ظہارت،نماز روزہ وغیرہ کے ابواب میں جن محرمات کا ذکر کیا گیا ہے ان کا ترک کرنا واجب ہے۔اسی طرح وضو،غسل ،تیمم ،نماز،روزہ حج ،خمس اور زکوٰة کے واجبات کی ادائیگی میں بھی غفلت برتنا حرام ہے۔
نزی معاملات کے ابواب میں خرید و فروخت،کرایہ ،ہبہ،اجارہ،غصب وغیرہ کے احکام جاننا اور ان کے محرمات ترک کرنا واجب ہے۔یہاں تک اگر کسی سے کوئی چیز لینا چاہو اور اس کا مالک شرمندگی یا مجبوری میں اس کی اجازت بھی دے تو اس پر تصرت حرام ہے کیونکہ اس پر غصب کا حکم لاگو ہوتا ہے۔اس نکتے کو ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ غصب گناہان مستمرہ(مسلسل)میں سے ایک ہے جب تک غصب کردہ مال اس کے مالک کو واپش نہیں کرے گا تب تک ہر آن ایک نئے گناہ میں اضافہ ہوتا رہے گا۔
اسی طرح نکاح وطلاق،کھانے اور پینے والی چیزوں کے محرمات مکمل طور پر جاننا اور ان کو ترک کرنا واجب ہے اور خلاف ورزی گناہ ہے جبکہ مجتہدین کے عملی رسائل میں ان امور کا تفصیلی بیان موجود ہے

🌱
پھر مردوں کے عورتوں پر فضیلت کے پہلو بیان فرمائے
اور یہ کہ زوجین کے اختلاف کا حل طرفین سے منصف (ثالث) کا تقرر ہے
🌱
اس کے بعد
والدین، رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، پڑوسیوں اور ان مسافروں کہ جن کا راستے میں زاد راہ ختم ہو گیا ہو اور ماتحت ملازمین سے نیکی کا حکم دیا
اور بخیل (جو استحقاق رکھنے والوں پہ خرچ نہیں کرتا) اور ریاکارکی مذمت ہے
🌱
سورہ نساء کی آیت نمبر نمبر ۴۱ میں نبی کریم کی دوسری امتوں کے خلاف گواہی کو بیان فرمایا
تفسیر صافی میں ہے کہ (ہمارے) ہر زمانے کا امام امت کے اعمال و افعال کی گواہی دے گا
🌱
پھر حالت جنابت میں مساجد سے گذرنے کا حکم بیان کیا کہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے علاوہ عام مساجد سے حالت جنابت میں گذرا جا سکتا ہے (ٹھہرا نہیں جا سکتا)
یہی وجہ ہے کہ تمام اصحاب پیغمبر کے وہ دروازے جو مسجد نبوی کی طرف کھلتے تھے بند کرا دیئے گئے سوائے در علی ورسول کے
اسی طرح نشہ کی حالت میں نماز سے بھی منع کیا گیا (شراب کی حرمت کا حکم تدریجا” آیا شاید اس وقت شراب کی حرمت کا حکم نہ آیا ہو اور کچھ لوگ نشے کی حالت میں مسجد میں آجاتے ہوں)
🌱
پھر بیان ہوا کہ جب پانی نہ ملے، یا بیماری کی وجہ سے نقصان دے یا وقت بہت کم رہ گیا ہو اور تم وضو نہ کرسکتے ہو تو نماز کے لیے تیمم کر لو
(یعنی پاک خاک پہ ہاتھ مار کے چہرے اور ہاتھوں کی پشت پر مل لو)
🌱
اس کے بعد یہودیوں کی شرارت کو بیان کر کے مسلمانوں کو بھی منع کیا گیا کہ یہودی جو ذو معنی الفاظ بولتے ہیں کہ سمعنا و عصینا یا واسمع غیر مسمع
یا راعنا یہ طعن فی الدین ہے
لھذا یوں کہو کہ سمعنا واطعنا ، واسمع اور انظرنا
🌱
اس کے بعد صاحبان کتاب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ایمان لے آو قبل اس کے کہ ہم تمہارے چہرے بگاڑ دیں
🌱
پھر فرمایا کہ شرک (یعنی تدبیر کائنات میں اللہ کے سوا کسی اور کو شریک سمجھنا یا ماننا) خدا کے دائرہ رحمت میں نہیں آتا
علامہ سید امداد کاظمی تفسیر قرآن مبین میں تفسیر صافی صفحہ 111 سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس آیت میں شرک کے علاوہ ہر گناہ کی بخشش کی امید دلائی گئی ہے خاص کر نبی کریم کی حدیث کے مطابق علی ع کے محبوں اور پیروکاروں کو
🌱
سورہ نساء کی آیت نمبر ۵۱ میں ارشاد ہوا
اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡجِبۡتِ وَ الطَّاغُوۡتِ
کیا آپ نے ان لوگوں کا حال نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا ہے؟ جو غیر اللہ معبود اور طاغوت پر ایمان رکھتے ہیں
تو یہ جبت اور طاغوت کیا ہیں ؟
استاد معظم شیخ محسن علی نجفی لکھتے ہیں کہ جبت سے مراد وہ چیزیں جو حقیقت پر مبنی نہیں بے بنیاد اور بے اصل چیزیں
جیسے بت، جادو، اوہام پرستی بد شگونی وغیرہ
جبکہ طاغوت سے مراد وہ قوتیں جو حدود اللہ اور احکام شریعت کے مقابلے میں کھڑی ہو جاتی ہیں
پس جبت اور طاغوت پہ ایمان رکھنے والوں پر خدا نے لعنت کی ہے
🌱
آیت نمبر ۵۳ از سورہ نساء
ام لہم نصیب من الملک۔۔
تفسیر مبین میں کافی سے امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس آیت میں ملک سے مراد امامت اور خلافت (الہیہ) ہے اور الناس سے مراد ہم ہیں
🌱
اسی طرح اس سے اگلی آیت نمبر ۵۴ میں ارشاد ہوا
ام یحسدون الناس۔۔۔۔
جن کو کتاب وحکمت اور ملک عظیم عطا ہوا وہ آل محمد ہیں
🌱
تفسیر نمونہ میں آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
( ام لھم نصیب من الملک)۔ کی تفسیر میں لکھتے ہیں
کہ یہودی (دشمنان محمد و،آل محمد) کوئی مادی ،روحانی ، معنوی اور باطنی طورپر لوگوں پرحکومت کرنے کی لیاقت و قابلیت نہیں رکھتے۔ کیونکہ ان میں دوسروں پر بھروسہ کرنے کی روح ہی نہیں ۔ اگر انہیں یہ حیثیت مل بھی جائے تو وہ کسی شخص کو کوئی حق دینے کے لئے تیار نہ ہوں گے بلکہ تمام اختیارات اور خصائص اپنے ساتھ مخصوص کرلیں گے ۔ (فاذا ً لایوٴتون الناس نقیراً
اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ یہودیوں کا جذبہ انصاف ایسا ہے کہ وہ ہمیشہ یا تو اپنے حق میں فیصلہ دیتے ہیں یا پھر ان کے حق میں جو ان کی راہ پر گامزن ہوں ، اس لئے مسلمان کبھی اس قسم کی باتوں سے پریشان نہ ہوں ۔
اس قسم کے غلط فیصلے پیغمبر اکرم (ص) کے خاندان سے حسد کی بناپر ہیں ۔
اس وجہ سے ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے ۔ وہ کفران نعمت اور ظلم و ستم کی وجہ سے مقام نبوت وحکومت اپنے ہاتھ سے کھوبیٹھے ہیں ۔
اس لئے وہ نہیں چاہتے کہ یہ الہٰی منصب کسی کے سپرد کیا جائے ۔
اس لئے وہ پیغمبر اسلام اور ان کے خاندان سے جنہیں اس نعمت الہٰی سے نوازا گیا ہے حسد کرتے ہیں اور اس قسم کے بے بنیاد فیصلوں سے اپنی حسد کی آگ پر پانی چھڑکتے ہیں (ام یحسدون الناس علی مااٰتٰھم اللہ من فضلہ)۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ پیغمبر اسلام اور خاندان بنی ہاشم کو یہ منصب ملنے پر کیوں تعجب کرتے ہیں ، پریشان ہوتے ہیں اور حسد کرتے ہیں جبکہ خدا وند عالم نے آلِ ابراہیم کو آسمانی کتاب ، حکمت و دانش اور وسیع حکومت
(حضرت موسیٰ (ع) ، سلیمان(ع) اور داوٴد (ع) کو ) دی ۔ لیکن افسوس کہ تم ناخلف لوگوں نے وہ قیمتی معنوی اورمادی سر مائے شرارت اور قساوت و بےو بے رحمی کے ہاتھوں ضائع کردئیے ( فَقَدْ آتَیْنا آلَ إِبْراہیمَ الْکِتابَ وَ الْحِکْمَةَ وَ آتَیْناہُمْ مُلْکاً عَظیماً )۔
جو کچھ ہم تحریر کر چکے ہیں اس سے واضح ہوگیا ہے کہ ” ام یحسدون الناس“ میں ” ناس“ سے مراد پیغمبر اکرم (ص) اور ان کا خاندا ن ہے ۔ کیونکہ ناس کے معنی ہیں ” لوگوں کی ایک جماعت “ اور اس کا اطلاق صرف ایک شخص ( پیغمبر اسلام ) پر جب تک کوئی قرینہ موجود نہ ہو جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ لفظ ” ناس“ جمع ہے اورجمع کی ضمیر جو اس آیت میں اس لفظ کی طرف پلٹ رہی ہے وہ بھی اس معنی کی تائید کرتی ہے ۔ علاوہ ازیں لفظ آلِ ابراہیم ( ابراہیم (ع) کا خاندان) دوسرا قرینہ ہے کہ ” ناس “ سے مراد حضرت رسول اکرم اور آپ کے اہل بیت (ع) ہیں ۔ کیو نکہ مقابلہ سے ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر ہم نے خاندان بنی ہاشم کو اس قسم کی عظمت و بر تری دی ہے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ ہم حضرت ابراہیم (ع) کے خاندان کو اس کی لیاقت کی بناپر معنوی اور مادی مرتبہ اور حیثیت بخش چکے ہیں ۔ بہت سی روایتیں جو اہل سنت اور شیعہ کتب میں آئی ہیں ان میں یہ وضاحت موجود ہے کہ ” ناس“ سے مراد خاندانِ پیغمبر ہے ۔
حضرت محمد باقر علیہ السلام کے خاندان میں رسول ، انبیاء اور پیشوا بنائے ہیں ( اس کے بعد خدا وند عالم یہودیوں کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے ) تم اس کا تو اعتراف کرتے ہو لیکن آلِ محمد کے بارے میں انکارکرتے ہو
دوسری حدیث میں ہے کہ اس آیت کے بارے میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:
نحن المحسودون
ہم ہیں کہ جن پر دشمنوں نے حسدکیا
تفسیر در منثور نے ابن منذر سے اور طبرانی نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ وہ اس آیت کے بارے میں کہتے تھے : اس آیت میں ” ناس“ سے مراد ہم ہیں نہ کہ اور لوگ۔
🌿
اس کے بعد آیت نمبر 58 میں امانت اور عدل کے تقاضے بتائے کہ جس کی امانت ہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم اسے ادا کرنی چاہیے اور اسی طرح فیصلوں میں انصاف ملنا چاہیے خواب مسلم ہو یا غیر مسلم
🌿
آیت نمبر 59 میں ارشاد ہوا
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحۡسَنُ تَاۡوِیۡلًا﴿٪۵۹﴾۵۹۔ اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات میں نزاع ہو جائے تو اس سلسلے میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی بھلائی ہے اور اس کا انجام بھی بہتر ہو گا۔
مستند روایات میں یہ بات موجود ہے کہ اولی الامر سے مراد بارہ معصومین ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے اپنی اطاعت کے ساتھ نبی کریم کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور نبی کریم کی اطاعت کے ساتھ اولی الامر کی اطاعت کا اور خدا کبھی بھی کسی غیر معصوم گنہگار شخص کی اطاعت کا حکم نہیں دے سکتا
نبی کریم نے اپنی ایک حدیث میں ان ائمہ معصومین علیہم السلام کے نام بھی صریحا”
بیان فرمائے ہیں
🌿
اس کے بعد یہ بیان فرمایا کہ کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے باہمی جھگڑوں میں نبی کریم کو اپنا منصف نہ تسلیم کرے
پھر بیان فرمایا کہ جو لوگ اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں وہ خدا کی بارگاہ میں نبی کریم کو وسیلہ بنا کر استغفار کریں
🌿
آیت نمبر 69 درحقیقت صراط الذین انعمت علیہم کی تفسیر ہے اس میں ان ہستیوں کو بیان کیا گیا ہے کہ جن پر اللہ تعالی نے انعام کیا
حدیث کے مطابق نبیین سے حضرت رسول اکرم اور صدیقین سے حضرت علی ابن ابی طالب اور شہداء سے حضرات حسنین علیہ السلام اور صالحین سے باقی ائمہ مراد ہیں
🌿
اس کے بعد جہاد کی بات شروع ہوئی سب سے پہلے تو یہ بیان فرمایا کہ مسلمان سامان حرب تیار رکھیں
اسی ضمن میں ضعیف الایمان لوگوں کے خیالات کو بھی بیان کیا گیا
پھر شہید کے فضائل بیان کئے گئے
اور ارشاد فرمایا کہ اطاعت خدا کرتے ہوئے اپنا دفاع کرو
🌿
آیت نمبر 77 میں ارشاد ہوا
اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ قِیۡلَ لَہُمۡ کُفُّوۡۤا اَیۡدِیَکُمۡ وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ ۚ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیۡہِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ یَخۡشَوۡنَ النَّاسَ کَخَشۡیَۃِ اللّٰہِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡیَۃً ۚ وَ قَالُوۡا رَبَّنَا لِمَ کَتَبۡتَ عَلَیۡنَا الۡقِتَالَ ۚ لَوۡ لَاۤ اَخَّرۡتَنَاۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ؕ قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡیَا قَلِیۡلٌ ۚ وَ الۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰی ۟ وَ لَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِیۡلًا﴿۷۷﴾۷۷۔ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا تھا: اپنا ہاتھ روکے رکھو ، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیا کرو؟ پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں سے کچھ تو لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرا جاتا ہے یا اس سے بھی بڑھ کر اور کہنے لگے: ہمارے رب! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کیا ؟ ہمیں تھوڑی مہلت کیوں نہ دی؟ ان سے کہدیجئے: دنیا کا سرمایہ بہت تھوڑا ہے اور متقی (انسان) کے لیے نجات اخروی زیادہ بہتر ہے اور تم پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
🌿
اس آیت کی تفسیر میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ کفو ایدیکم مع الحسن اور کتب علیہم القتال مع الحسین مراد ہے یعنی جناب امام حسن علیہ السلام کی معیت میں جو لوگ تھے ان کو یہ حکم تھا کہ اپنے ہاتھ روک لو اور جناب امام حسین علیہ السلام کی معیت میں جو لوگ تھے ان پر قتال واجب تھا
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اجل قریب سے اس آیت میں قائم آل محمد کے خروج کا زمانہ مراد ہے کیوں کہ آپ کے ساتھ فتح وابستہ ہے
🌿
آیت نمبر 80 میں ارشاد ہوا
مَنۡ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ ۚ وَ مَنۡ تَوَلّٰی فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ حَفِیۡظًا ﴿ؕ۸۰﴾۸۰۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے منہ پھیر لیا تو ہم نے آپ کو ان کا نگہبان بنا کر تو نہیں بھیجا ۔

اس آیت کی تفسیر میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ چوٹی کی بات اور معاملات کی کنجی اور تمام اشیاء کا دروازہ اور خدا کی رضا مندی یہ ہے کہ امام کو پہچان کر اس کی اطاعت کی جائے اس لیے کہ خدا فرماتا ہے من یطع الرسول فقداطاع اللہ اور وجہ یہ ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس چیز کی پہچاننے والے ہے امام اس کی اشاعت کرنے والا ہوتا ہے
🌿
وَ یَقُوۡلُوۡنَ طَاعَۃٌ ۫ فَاِذَا بَرَزُوۡا مِنۡ عِنۡدِکَ بَیَّتَ طَآئِفَۃٌ مِّنۡہُمۡ غَیۡرَ الَّذِیۡ تَقُوۡلُ ؕ وَ اللّٰہُ یَکۡتُبُ مَا یُبَیِّتُوۡنَ ۚ فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا﴿۸۱﴾۸۱۔ اور یہ لوگ (منہ پر تو) کہتے ہیں: اطاعت کے لیے حاضر (ہیں) لیکن جب آپ کے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ آپ کی باتوں کے خلاف رات کو مشورہ کرتا ہے، یہ لوگ راتوں کو جو مشورہ کرتے ہیں اللہ اسے لکھ رہا ہے۔ پس (اے رسول) آپ ان کی پرواہ نہ کریں اور اللہ پر بھروسا کریں اور کارسازی کے لیے اللہ کافی ہے

آیت نمبر 80 میں کچھ خاص لوگوں کا تذکرہ ہے جو نبی کریم سے جب ملتے تھے تو کہتے تھے کہ آپ کے حکم کی تعمیل ہو گی
لیکن جب نبی کریم سے نکل جاتے تو ایک گروہ آپ کی کہی ہوئی باتوں کے برخلاف راتوں کو بیٹھ کے باہم مشورہ کرتے
(یہ منافقین جب نبی کریم کو قتل کرنے کی سازشوں میں کامیاب نہیں ہوئے تو پھر آل رسول کو قتل کر کے بدر و احد و حنین کے بدلے لے لیے)
🌿
آیت نمبر 86 میں ایک دفعہ پھر اولی الامر کی طرف رجوع کرنے کا حکم ہوا
امام علی رضا علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہاں مراد آل محمد ہیں جو قرآن مجید سے استنباط کرتے ہیں اور حلال اور حرام کو پہچانتے ہیں اور وہی اللہ تعالی کی مخلوق پر حجت ہیں
اکمال الدین میں جناب امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ جس نے خدا کی ولایت اور اللہ تعالی کے علم سے استنباط کرنے والوں کو انبیاء کے گھروں کے سوا کسی اور جگہ قرار دیا اس نے اللہ عزوجل کے حکم کی مخالفت کی
اور جاہلوں کو اولی الامر سمجھا جو خود ھدایت یافتہ نہیں ہیں ان کو ھادی سمجھا اور گمان کرلیا کہ علم خدا سے استنباط کرنے والے ہیں تو انہوں نے خدا پہ بہتان باندھا اور حکم خدا اور اطاعت خدا سے دور ہوئے اور فضل خدا کو جہاں خدا نے مقرر فرمایا تھا وہاں قائم نہ رکھا نتیجہ یہ ہوا کہ خود بھی گمراہ ہوئے اور اپنے ماننے والوں کو بھی گمراہ کیا قیامت کے دن خدا کے سامنے ان کی کوئی حجت نہ چل سکے گی
🌿
آیت نمبر 86 میں سلام کے آداب بتائے اور یہ بتایا کہ سلام کا جواب سلام سے بھی بہتر طریقے سے دیا کرو
🌿
پھر منافقین کی مختلف قسمیں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ منافق رعایت کے قابل نہیں ہے
🌿
اس کے بعد مومن کے قتل سے منع فرمایا اور اگر خطا سے کوئی مومن قتل ہو جائے تو اس کی دیت اور کفارہ بیان کیا
🌿
آیت نمبر 94 میں ارشاد فرمایا کہ جو شخص خود کو مسلمان کہے یا سلام کہے تمہیں حق حاصل نہیں ہے کہ تم اسے کہو کہ تو مسلمان یا مومن نہیں ہے
🌿
آیت نمبر 96 اللہ یتوفی الانفس۔ ۔۔
کے ضمن میں حضرت امیر المومنین سے منقول ہے کہ آپ سے اللہ تعالی کے ان اقوال کے متعلق دریافت کیا گیا کہ بعض آیات میں یہ ہے کہ اللہ یتوفی الانفس اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت اٹھا لیتا ہے
پھر بعض آیات میں یہ ہے کہ یتوفاکم ملک الموت کہہ دو کہ ملک الموت تمہیں اٹھا لیتا ہے
اسی طرح بعض آیات میں ہے کہ ملک الموت تمہیں اٹھا لیتا ہے
تو ان چاروں میں کہیں تو اللہ نے اس فعل کو اپنی ذات کی طرف نسبت دی ہے اور کہیں ملک الموت سے کہیں رسولوں سے اور کہیں فرشتوں سے آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی اس بات سے بزرگ اور برتر ہے کہ وہ اس فعل کو خود انجام دے اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں کا فعل خود اس کا فعل ہے اس لیے کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں اسی کے حکم سے ہی کرتے ہیں پس وہ اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان رسول اور سفیر منتخب کرتا ہے اور وہی ہیں جن کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے
اللہ یصطفی من الملائکہ رسلا ومن الناس
اللہ تعالی فرشتوں اور آدمیوں میں سے رسول منتخب فرماتا ہے پس وہ فرمانبردار بندے ہیں ان کی روح قبض کرنے کا انتظام رحمت کے فرشتوں کے سپرد ہے اور جو نافرمان بندے ہیں ان کی روح کو عذاب کے فرشتے قبض کرتے ہیں
🌿
آیت نمبر 96 میں مستضعفین سے قبر میں ہونے والے مکالمے کو بیان کیا گیا ہے کہ اگر کسی جگہ پر دین کے مطابق زندگی گزارنا ممکن نہ ہو اور انسان اپنے دین اور مذہب کا تحفظ نہ کر سکے تو اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے ایسی سرزمین پہ ہجرت کر جانا چاہیے کہ جہاں دین مبین اسلام کے احکام کے مطابق بہتر زندگی گزاری جا سکے
🌿
پھر سفر میں نماز خوف اور قصر کو بیان فرمایا

آیت نمبر 105 میں فرمایا کہ فیصلہ کرنے کا حق رسول خدا اور ائمہ کو ہے
🌿
آیت نمبر ایک سو تیرہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت کو بیان کیا گیا اور پھر یہ بیان کیا گیا کہ نبی کریم کی حیثیت ایک عام انسان کی سی نہیں ہے

آیت نمبر 119 میں ایک انتہائی اہم موضوع بیان ہوا ہے جس پہ آج کل بحث ہو رہی ہے اور وہ ہے جنس کی تبدیلی
یا اپنی فطری جنس میں تغیر پیدا کرنا
بیان فرمایا کہ یہ ان لوگوں کا کام ہے جنہوں نے شیطان کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے
🌿

آیت نمبر 130 میں فرمایا کہ مومن کی مصیبت اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے
🌿
اس کے بعد آیت نمبر 124 میں فرمایا کہ ایمان اور عمل میں مرد اور عورت دونوں برابر ہیں
آیت نمبر 125 میں حضرت ابراہیم کو خلیل قرار دینے کی وجہ بیان فرمائی
آیت نمبر 127 سے عورتوں کے حقوق کے بارے میں بیان فرمایا اور باہمی مصالحت کی تاکید کی نیز کمزور اور یتیم بچے بچیوں کے حقوق کو بھی بیان فرمایا
اور یہ کہ اگر بیویاں زیادہ ہیں تو ان کے درمیان عدل قائم رکھو
اور بیویوں کو معلقہ قرار دینے سے منع کیا
اور حقوق زوجیت ادا کرنے کی تاکید فرمائی
🌿
آیت نمبر 133 میں ارشاد ہوا
اِنۡ یَّشَاۡ یُذۡہِبۡکُمۡ اَیُّہَا النَّاسُ وَ یَاۡتِ بِاٰخَرِیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی ذٰلِکَ قَدِیۡرًا۱۳۳۔
اے لوگو! اگر اللہ چاہے تو تم سب کو فنا کر کے تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے اور اس بات پر تو اللہ خوب قدرت رکھتا ہے
روایت میں ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی کی پشت پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ آخری زمانے سے مراد اس کی قوم ہے یعنی ایرانی
🌿
آیت نمبر134 میں ثواب دنیا و الآخرہ کے ضمن میں ارشاد ہوا کہ کچھ لوگ ایسے ہیں کہ دنیا ان کی طلب گار ہے اور بہت سے ایسے ہیں کہ وہ خود دنیا کے طلبگار ہیں بس جو دنیا کے طلبگار ہیں تو دنیا ان کے پیچھے پڑی ہے جب تک کہ ان کو دنیا سے نہ نکال دیے اور جو آخرت کے طلب گار ہیں خود دنیا ان کی طلب گار رہے گی جب تک کہ ان کا رزق ختم نہ ہو جائے
🌿
اس کے بعد ایک شخص کا واقعہ ہے جو بظاہر مسلمان مگر در حقیقت منافق تھا اس نے چوری کی اور الزام ایک یہودی پر لگادیا، نبی علیہ السلام تک یہ واقعہ پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہودی کے خلاف فیصلہ دینے ہی والے تھے کہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ چور وہ مسلمان نما منافق ہے، چنانچہ وہ چور مکہ بھاگا اور کھلا کافر بن گیا۔
🌿
قدیم زمانے کے حکماء اور فقہاء جب ایک دوسرے کو کچھ لکھتے تھے توتین ہی باتیں لکھتے تھے ان کے ساتھ چوتھی بات نہیں لگتے تھے

نمبر 1
جسے آخرت کی فکر ہوگی خدائے تعالیٰ اس کو دنیا کی فکر سے آزاد فرما دے گا

نمبر 2
جو شخص اپنے آپ کی اصلاح کرے گا اللہ تعالی اس کے دین کی اصلاح فرما دے گا

نمبر3
جو شخص اپنی ذمہ کے خدا کے حقوق کی اصلاح کرلے گا بندوں کے حقوق جو اس کے ذمہ ہوں گے خدا ان کی اصلاح فرما دےگا
خداوند متعال ہمیں قرآن مجید کی ان آیات میں بیان ہونے والے احکام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے
اور تھوڑے عمل کو بھی منظور و مقبول فرمائے آمین یا رب العالمین

Be the first to comment on "سورہ نساء کے آغاز سے آیت 134 تک پانچویں پارے کے مفاہیم کا خلاصہ"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*