حسین ابن علی ع کی شھادت کے بعد علی ابن الحسین زین العابدین علیہ السلام کا کردار
🌾
تحریر ✍️
کوثر عباس قمی الحیدری
🌾
کوفہ میں دربار ابن زیاد میں اور پھر بازارِ کوفہ میں اور پھر دمشق میں یزید کے سامنے سید سجاد علیہ السّلام اور دیگر اہلِ حرم کی دلیرانہ گفتگو، خطبے اور احتجاج وہ تھے جنہوں نے دنیا کو شہادت حسین علیہ السّلام کامقصد بتایا اور اس طرح امام زین العابدین علیہ السّلام نے اس مشن کوپورا کیا جسے امام حسین علیہ السّلام انجام دے رہے تھے۔
لوگوں کے یزید،
عمر ابن سعد،
اور شمر کا ساتھ دینے کی تین بنیادی وجوہات تھیں
1-شام کے لوگوں کی اکثریت اھل بیت علیھم السلام سے لاعلم تھی
2-بہت سے لوگوں نے انعام واکرام اور طمع ولالچ کی وجہ سے ظالموں کا ساتھ دیا
3- اور بہت سے لوگوں نے جان اور مال کے خوف سے
تو سید الساجدین نےشام کی قید سے رہائی کے بعد
جہالت کے خاتمے کے لیئے عزاداری قائم کی
اور
لوگوں کے دل سے لالچ اور ڈر کو نکالنے کے لیئے خدا سے مناجات کا سلیقہ سکھایا
آپ کی دعاؤں پہ مشتمل کتاب صحیفہ سجادیہ کو زبور آل محمد کہا جاتا ہے
آپ نے تلوار کے ساتھ جنگ (یا انتقام) کا راستہ نہیں اپنایا بلکہ آپ نے فکری اور نظریاتی انقلاب کی بنیادیں رکھی
کربلا اور شام کے واقعات کے بعد مدینہ میں یزید کے خلاف جذبات بھڑک چکے تھے
ان لوگوں نے کوشش کی کہ امام زین العابدین علیہ السّلام کو اپنے ساتھ شریک کریں مگر امام علیہ السّلام ان کی نیت اور ان کے ارادوں کو خوب جانتے تھے , آپ نے ان کا ساتھ دینا منظور نہیں فرمایا۔ اس لئے مدینہ پر جب یزید کی فوج نے چڑھائی کی تو امام زین العابدین علیہ السّلام کوبلاوجہ کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی گئی مگر آپ کے روحانی صدمہ کے لئے یہ کافی تھا کہ رسول الله کی مسجد میں تین روز تک گھوڑے بندھے رہے سینکڑوں مسلمان شہید ہوئے اور سینکڑوں شریف عورتوں کی فوج یزید کے ہاتھوں عصمت دری ہوئی , یہ مصیبت آپ کے لئے نہایت ناگوار تھی مگر آپ نے صبرواستقلال کو ہاتھ سے جانے نہ دیا , ایسے موقع پر جب کہ شہادتِ حسین علیہ السّلام کی وجہ سے ہر طرف انقلاب بپا تھا اور مختلف جماعتیں خون حسین علیہ السّلام کابدلہ لینے کے لئے کھڑی ہوئی تھیں , حضرت امام زین العابدین علیہ السّلام کاان سب سے الگ رہ کر صرف عبادت اور تعلیماتِ الٰہی کی اشاعت میں مصروف رہنا ضبطِ نفس کا ایک بہترین نمونہ تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سلیمان ابن صرد خزاعی یامختار ابن ابی عبیدہ ثقفی جنہوں نے قاتلانِ حسین علیہ السّلام سے انتقام لیا, امام زین العابدین علیہ السّلام کے دل میں ان کے ساتھ ہمدردی کاجذبہ موجود تھا۔ آپ نے مختار کے لئے دعائے خیر فرمائی ہے اور آپ نے برابر لوگوں سے دریافت فرمایا کہ کون کون قاتل حسین علیہ السّلام قتل کیئےگئے۔ مختار نے ان قاتلوں کو ان کے جرائم کی سزا دے کر سید سجاد علیہ السّلام کے زخمی دل پرا یک بڑا مرہم رکھا تھا مگر آپ کا طرزِ عمل اتنا محتاط رہا کہ آپ پر حکومت وقت کی طرف سے ان اقدامات کی کبھی کوئی ذمہ داری عائد نہ ہوسکی آپ کی پوری زندگی کادور الِ محمد اور ان کے شیعوں کے لئے پر اشوب رہا۔
یزیدکے تھوڑے ہی زمانہ کے بعد حجاج ابن یوسف ثقفی کے ذریعہ حکومت کاچُن چُن کر الِ رسول کے دوستوں کو قتل کرنا، حکومت کی طرف سے ہر ایک نقل وحرکت بلکہ گفتگو پر بھی خفیہ افراد کامقرر ہونا، اس صورت میں کہاں ممکن تھا کہ آپ ہدایت خلق کے فرائض کو آزادی کے ساتھ انجام دے سکتے مگر آپ اپنی خاموش زندگی سے دنیا کو رسول الله کی سیرت سے روشناس کرارہے تھے۔
واقعہ کربلا کے بعد کے ایام امام زین العابدین علیہ السّلام نے انتہائی ناگوار حالات میں بڑے صبروضبط اور استقلال سے گزارے۔ اس تمام مدت میں آپ دنیا کے شور وشین سے علٰیحدہ صرف دو کاموں میں ہی مصروف رہتے تھے۔ ایک عبادت خدا دوسرے شھداء کربلا خصوصا” امام حسین علیہ السلام پر گریہ , یہی آپ کی مجلسیں تھیں جو زندگی بھر حسینیت کی تبلیغ کے لیئے جاری رہیں۔ آپ جتنا اپنے والد بزرگوار کے مصائب کو یاد کرکے روئے ہیں دنیا میں اتنا کسی نے گریہ نہیں کیا ,
جب کھانا سامنے آتا تھا تب روتے تھے۔ جب پانی سامنے آتا تھا تب روتے تھے , حسین علیہ السّلام کی بھوک وپیاس یاد آجاتی تھی تو اکثر اس شدت سے گریہ وزاری فرماتے تھے اور اتنی دیر تک رونے میں مصروف رہتے تھے کہ گھر کے دوسرے لوگ گھبراجاتے تھے۔ اور انہیں آپ کی زندگی کے لئے خطرہ محسوس ہونے لگتا تھا۔ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ آخر کب تک رویئے گا تو آپ نے فرمایا کہ یعقوب نبی کے بارہ بیٹے تھے۔ ایک فرزند گم ہوگیا تو وہ اس قدر روئے کہ آنکھیں جاتی رہیں۔ میرے سامنے تو 27 عزیزواقارب جن کے مثل ونظیر دنیا میں موجود نہیں، قتل ہوگئے ہیں۔ میں کیسے نہ روؤں۔
یوں تو یہ رونا بالکل فطری تاثرات کی تحریک سے تھا مگر اس کے ضمن میں نہایت پر امن طریقہ سے حسین علیہ السّلام کی مظلومیت اور شہادت کاتذکرہ زندہ رہا اور امام زین العابدین علیہ السّلام کے غیر معمولی گریہ کے چرچے کے ساتھ شہادت حسین علیہ السّلام کے واقعات کاتذکرہ فطری طور سے لوگوں کی زبانوں پر آتا رہا جو دوسری صورت میں اس وقت حکومت ُ وقت کے مصالح کے خلاف ہونے کی بنا پر ممنوع قرار پاجاتا۔
اتنی پر امن زندگی کے باوجود حکومت شام کو اپنے مقاصد میں حضرت سجادعلیہ السّلام کی ذات سے نقصان پہنچنے کااندیشہ ہوا ابن مروان نے اپنی حکومت کے زمانے میں آپ کو گرفتار کراکے مدینہ سے شام کی طرف بلوایا۔ اور دوتین دن آپ دمشق میں قید رہے مگر خدا کی قدرت تھی اور آپ کی روحانیت کااعجاز جس سے عبدالملک خود پشیمان ہوا اور مجبوراً حضرت زین العابدین علیہ السلام کو مدینہ واپس ہوجانے دیا۔
پیغمبر خدا کی مبارک نسل کی یہ خصوصیت تھی کہ بارہ افرد لگاتار ایک ہی طرح کے انسانی کمالات اور بہترین اخلاق واوصاف کے حامل ہوتے رہے جن میں سے ہر ایک اپنے وقت میں نوعِ انسانی کے لئے بہتر ین نمونہ تھا، چنانچہ اس سلسلہ کی چوتھی کڑی سیّد سجاد علیہ السّلام تھے جو اخلاق واوصاف میں اپنے بزرگوں کی یاد گار تھے۔ اگر ایک طرف صبر وبرداشت کا جوہر وہ تھا جو کربلا کے آئینہ میں نظر ایا تو دوسری طرف حلم اور عفو کی صفت آپ کی انتہا درجہ پر تھی۔ آپ نے ان موقعوں پر اپنے خلاف سخت کلامی کرنے والوں سے جس طرح گفتگو فرمائی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کاحلم اس طرح نہ تھا جیسے کوئی کمزور نفس والا انسان ڈر کر اپنے کو مجبور سمجھ کر تحمل سے کام لے بلکہ آپ عفو اور درگزر کی فضیلت پر زور دیتے ہوئے اپنے عمل سے اس کی مثال پیش کرتے تھے۔ ایک شخص نے بڑی سخت کلامی کی اور بہت سے غلط الفاظ آپ کے لیئے استعمال کیے۔ حضرت علیہ السّلام نے فرمایا , جو کچہ تم نے کہا اگر وہ صحیح ہے تو خدا مجھے معاف کرے اور اگر غلط ہے تو خدا تمہیں معاف کر دے۔ اس بلند اخلاقی کے مظاہرے کاایسا اثر پڑا کہ مخالف نے سر جھکا دیا اور کہا حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ میں نے کہا وہ غلط ہی تھا۔ ایسے ہی دوسرے موقع پرا یک شخص نے آپ کی شان میں بہت ہی نازیبا لفظ استعمال کیا۔ حضرت نے اس طرح بے توجہی فرمائی کہ جیسے سنا ہی نہیں، اس نے پکار کے کہا کہ میں آپ کو کہہ رہا ہوں۔ یہ اشارہ تھا اس حکم قران کی طرف کہ “خذالعفووامربالمعروف واعرض عن الجاھلین” یعنی عفو کو اختیار کرو اچھے کاموں کی ہدایت کرو اور جاہلوں سے بے توجہی اختیار کرو۔
آپ کی فیاضی اور خدمت خلق کاجذبہ ایسا تھا کہ راتوں کو غلہ اور روٹیاں اپنی پشت پر رکھ کر غریبوں کے گھروں پر لے جاتے تھے اور تقسیم کرتے تھے۔ بہت سے لوگوں کو خبر بھی نہ ہوتی کہ وہ کہاں سے پاتے ہیں اور کون ان تک پہنچاتا ہے جب حضرت کی شھادت ہوئی اس وقت انہیں پتہ چلا کہ یہ امام زین العابدین علیہ السّلام تھے۔
عمل کی ان خوبیوں کے ساتھ علمی کمال بھی آپ کاایسا تھا جو دشمنوں کو بھی سرجھکانے پر مجبور کرتا تھا اور ان کو اقرار تھا کہ آپ کے زمانے میں فقہ اور علم دین کا کوئی عالم آپ سے بڑھ کر نہیں۔ ان تمام ذاتی بلندیوں کے ساتھ آپ دنیا کو یہ سبق بھی دیتے تھے کہ بلند خاندان سے ہونے پر ناز نہیں کرنا چاہیے۔
آپ کی مخصوص صفت جس سے آپ زین العابدین اور سیدالساجدین مشہور ہوئے وہ عبادت ہے۔باوجود یہ کہ آپ کربلا کے ایسے بڑے حادثے کو اپنی انکھوں سے دیکھ چکے تھے۔ باپ بھائیوں اور عزیزوں کے دردناک قتل کے مناظر برابر آپ کی آنکھوں میں پھرا کرتے تھے اس حالت میں کسی دوسرے خیال کاذہن پرغالب آنا عام انسانی فطرت کے لحاظ سے بہت مشکل ہے مگر باپ کے اس غم وصدمہ پر جس نے عمر بھر سید سجاد علیہ السّلام کو رلایا اگر کوئی چیز غالب آئی تو وہ خوف خدا اور عبادت میں محویت تھی۔ یہاں تک کہ اس وقت آپ کے تصورات کی دنیا بدل جاتی تھی ، چہرہ کارنگ متغیر ہوجاتا تھا اور جسم میں لرزہ پڑجاتا تھا کوئی سبب پوچھتا تو فرماتے تھے کہ خیال کرو , مجھے کس حقیقی سلطان کی خدمت میں حاضر ہونا ہے۔
اس دور میں کہ جب دنیا کے دل پر دنیوی بادشاہوں کی عظمت کااثر تھا اور خالق کو بالکل بھول چکی تھی، سیّد سجاد علیہ السّلام ہی تھے جن کی زندگی خالق کی عظمت کااحسا س پیدا کرتی تھی۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السّلام کو زمانہ اس کی اجازت نہیں دے سکتا تھا کہ وہ اپنے داداعلی ابن ابی طالب(ع) کی طرح خطبوں (تقریروں ) کے ذریعہ سے دُنیا کوعلوم ومعارف اور الٰہیات وغیرہ کی تعلیم دیں، نہ ان کے لئے اس کاموقع تھا کہ وہ اپنے بیٹے امام محمد باقر یااپنے پوتے جعفر صادق کی طرح شاگردوں کے مجمع میں علمی ودینی مسائل حل کریں اور دنیا کو اچھی باتوں کی تعلیم دیں۔ یہ سب باتیں وہ تھیں جو اس وقت کی فضا کے لحاظ سے غیر ممکن تھیں۔
اس لئے امام زین العابدین علیہ السّلام نے ایک تیسرا طریقہ اختیار کیا جو بالکل پر امن تھا اور جسے روکنے کادنیا کی کسی طاقت کو کوئی بہانہ نہیں مل سکتا تھا۔ وہ طریقہ یہ تھا کہ تمام دنیا والوں سے منہ موڑ کر وہ اپنے خالق سے مناجات کرتے اور دعائیں پڑھتے تھے۔
یا پھر ہمہ وقت عزاداری
اس کے باوجود امام علیہ السلام کا وجود امویوں کو خطرہ محسوس ہوتا تھا لھذا امام کو راستے سے ہٹانے کے لیئے اموی حکمران ولید بن عبد الملک اور ھشام بن عبد الملک نے آپ کو زہر دلوا دی
اور آپ 25 محرم الحرام کو اس زہر کے اثر سے شھید ہو گئے
الا لعنت اللہ علی القوم الظالمین
و سیعلم الذین ظلمو ای منقلب ینقلبون
Be the first to comment on "حسین ابن علی ع کی شھادت کے بعد علی ابن الحسین زین العابدین علیہ السلام کا کردار"