تسکین قلب حسین رقیہ (یعنی سکینہ) بنت الحسین علیہم السلام تحقیق و تحریر ✍️کوثر عباس قمی الحیدری

تسکین قلب حسین
رقیہ (یعنی سکینہ) بنت الحسین علیہم السلام
تحقیق و تحریر ✍️
کوثر عباس قمی الحیدری
🌾
سکینت ایک ایسی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو عطا کرتا ہے، تاکہ وہ دل کی بےچینی، گھبراہٹ اور اضطراب سے محفوظ رہیں۔ یہ دل کا اطمینان، راحت، اور روحانی سکون کا وہ مقام ہے جہاں بندہ خود کو اللہ کے قریب محسوس کرتا ہے۔ قرآن و حدیث میں سکینت کا مختلف مواقع پر ذکر آیا ہے، جو ہمیں اس کے اسباب اور اہمیت سے آگاہ کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَعَ إِيمَانِهِمْ ۗ
(الفتح: 4)
ترجمہ: “وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں سکون نازل فرمایا تاکہ وہ اپنے ایمان میں مزید اضافہ کریں
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ
سکینت ایک الہامی جذبہ ہے جسے اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے دلوں میں اتارتا ہے تاکہ ان کا ایمان مضبوط ہو اور وہ ہر حال میں ثابت قدم رہیں۔
اسی طرح ارشاد ہوا
ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ
(التوبہ: 26)
ترجمہ: “پھر اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول اور مومنین پر نازل فرمائی۔”
اللہ کی سکینت بندے کو گھبراہٹ اور خوف سے محفوظ اور ثابت قدم رکھتی ہے،
اسی طرح خدا نے گھر کو،
رات کے وقت کو نیند کو،
نیک بیوی اور اولاد کو
عبادت کو
نماز، ذکر، اور قرآن کو
سکون کا ذریعہ قرار دیا ہے
🌾
علامہ مہدی لکھنوی لکھتے ہیں
حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا واقعہ کربلا میں جس بلند حیثیت کی مالک ہیں وہ اس کمسنی میں کسی کو نصیب نہیں ہوا
اللہ اللہ اس بی بی کی عظمت کا کیا کہنا کہ جس کانام آسیہ و مریم جیسی عظیم عورتوں کے نام کے ساتھ زبانوں پر آئے
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے جاہل عرب بچی پیدا ہو تو زندہ دفن کر دیتے تھے خداوند متعال نے اذ المئودہ سئلت کہہ کے ان کے اس قبیح عمل پر اخروی عذاب کا وعدہ کیا اور دختر کشی کی قبیح رسم کا علاج یہ کیا کہ خاتم النبیین ، مرسل احمد کی طیب و طاہر نسل کو انا اعطیناک الکوثر کہہ کے نبی کی دختر فاطمہ ع سے جاری کرنے کا اہتمام کیا
اور صنف نازک کو اس قدر احترام بخشا کہ فرمایا
کہ کوئی گھر ایسا نہیں جس میں لڑکیاں ہوں مگر یہ کہ اس پر آسمان سے 12 طرح کی رحمت و برکت نازل ہوتی ہے ،
اور خدا کے فرشتے اس گھر کی زیارت کرتے ہیں اور ماں باپ کے لیئے شبانہ روز میں سال بھر کی عبادت کا ثواب لکھتے ہیں (بشرطیکہ بیٹیوں کی تربیت اور پردے کے حوالے سے گھر کا ماحول مخرب اخلاق نہ ہو)
🌾
حضرت امام حسین علیہ السلام نے دعا مانگی میرے اللہ مجھے ایک ایسی بیٹی عطا کر جو میرے دل کا سکون اور قرار ہو،
خداوندمتعال نے 20 رجب 56 ھجری کو بیٹی عطا کی حسین ابن علی علیہ السلام نے اس بیٹی کا نام رقیہ رکھا لیکن تسکین دل حسین کی وجہ سے سب اس بچی کو سکینہ کے نام سے پکارتے
حسین ابن علی جناب سکینہ کو دیکھ کے کہا کرتے تھے
سکینہ میری تہجد کی دعاوں کا ثمر ہے
حضرت امام حسین علیہ السلام کے حضور سیدہ سکینہ سلام اللہ علیہا کا خصوصی مقام تھا اور آپ جناب سیدہ سکینہ سلام اللہ علیہا سے انتہائی انس رکھتے تھے یہاں تک کہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے آپ کے بارے میں اور آپ کی والدہ محترمہ سلام اللہ علیہا کے بارے میں اشعارفرمائے جن میں فرمایا
لعمرک اننی لاحب دارا تحل بھا سکینہ والرباب
مجھے وہ گھر بہت اچھا لگتا ہے جس میں سکینہ اور رباب ہوں

اتنی لاڈلی بچی کو کربلا کیوں لے گئے؟

ایک بات ہمیشہ یاد رکھئے گا کہ جس طرح نبی کریم وما ینطق عن الھویٰ کا مصداق ہیں بغیر وحی کے کلام بھی نہیں کرتے اسی طرح امام بھی مشیت الہی کا تابع ہوتا ہے اور سورہ تکویر کی آیت 81 وما تشاون الا ان یشاء اللہ کا مصداق ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب امام حسین کو کہا گیا کہ آپ خواتین کو اپنے ہمراہ کربلا نہ لے جائیں تو آپ نے جواب دیا تھا کہ
یرید اللہ ان یراھن سبایا اللہ یہ چاہتا ہے کہ انہیں قیدی دیکھے
حکیم کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا
خداوندمتعال بھی حکیم
نبی کریم بھی حکیم
اور نبی کریم کا تیسرا جانشین حسین ابن علی بھی حکیم
خواتین کو اور خصوصی طور پر سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کو ہمراہ لے جانے کی حکمت کیا تھی؟؟
مکرو و مکراللہ واللہ خیرالماکرین
یزید اور یزیدیوں کی تمام تر کوششیں یہ تھی کہ نام و نشان و ذکر حسین ابن علی مٹا دیں ایک ایسی جگہ گھیر کے مارا کہ دائیں بائیں کسی کو خبر نہ ہو
شہدائے کربلا کے سروں کو کاٹ لینے کے بعد لاشوں پہ گھوڑے دوڑائے تاکہ کوئی پہچان نہ پائے کہ کون مارا گیا
جو خواتین بچے اور مرد زندہ باقی بچے ان کو اسیر بنا کے کوفہ و شام لے چلے کہ حسین ابن علی اور اصحاب حسین دفن بھی نہ ہونے پائیں اور قبر کا نشان بھی نہ ملے
مگر مشیت الہی کچھ اور تھی
اس کی تدبیر کچھ اور تھی
اس کا وعدہ
ورفعنا لک ذکرک تھا
کہ نام حسین
ذکر حسین
اور مقصد حسین ابن علی ہمیشہ اجاگر ہو

اتنی لاشوں کو بے گوروکفن چھوڑ کے یتیموں اور بیواؤں کا قیدی کاروان ساتھ رکھ کے خود بھی اسیر ہو کے سیدہ زینب سلام اللہ علیھا کے سوا مقصد شھادت حسین علیہ السلام کو اجاگر کرنے کا عظیم فریضہ کوئی اور ادا کر ہی نہیں سکتا تھا سوائے علی کی علی بیٹی سیدہ زینب عالیہ کے

یہ عظیم معرکہ کوئی اور سر کر ہی نہیں سکتا تھا
کوئی دوسرا یہ کارنامہ سر انجام دے ہی نہیں سکتا تھا

علی کے لہجے میں کوئی اور خطبہ دے ہی نہیں سکتا تھا

یہ صرف علی کی عالمہ غیر معلمہ اور فہیمہ غیر مفہمہ بیٹی ہی کر سکتی تھی

اور جہاں جہاں زینب
وہاں وہاں سکینہ

بابا کا پیاسا ذبح ہو جانے کی گواہ !

ہم تو عدالت کے کٹہرے میں نچلے درجے کے جج سے بھی صحیح طریقے سے بات نہیں کر سکتے مگر چھیالیس ملکوں کا مطلق العنان حکمران اور کربلا میں 72 سے زیادہ افراد کا اصل قاتل یزید بن معاویہ بن ابوسفیان اور سامنے نبی کی نواسیاں بظاہر ایک خاتون، اور ایک 4 سال کی بچی جو حالت اسیری میں ہے اور چادر چھن جانے کے باعث اپنا چہرہ بالوں سے ڈھانپا ہوا ہے

علی کی علی بیٹی نے علی بن کے بھرے دربار میں یزید کو اس کی اوقات یاد کرا دی

یا ابن الطلقاء

میرے بابا کے آزاد کردہ غلاموں کے بیٹے!!!!!

تو کہتا ہے کہ تجھے فتح اور ھمیں شکست؟؟
نہیں رسوا تو ھمارا غیر ھوا
حسین، عباس، اکبر، قاسم اور عون و محمد شہید کراکے بھی فتح زینب کی ہوئی کیونکہ قیامت تک جب بھی تمہارا اور تمہارے ساتھیوں اور خاندان کا نام لیا جائے گا لعنت کے ساتھ لیا جائے گا اور جب بھی میرے بھائیوں اور ان کے وفادار جانثار ساتھیوں کربلا کے شھدا کا کا نام لیا جائے گا درودوسلام کے ساتھ لیا جائے گا یہی زینب کی فتح ہے
السلام علی الحسین
و علی اولاد الحسین
وعلی اصحاب الحسین
اللھم العن قتلۃ الحسین
واصحاب الحسین
یزید یاد رکھ رب ذوالجلال کی قسم تو ہمارے ذکر کو کبھی بھی نہیں مٹا سکے گا
(کیونکہ یہ وعدہ الہی ہے)
اگر زینب نہ ہوتیں ام کلثوم نہ ہوتیں سکینہ نہ ہوتیں تو شاید واقعہ کربلا پر یہ لوگ پردہ ڈالنے میں کامیاب ہو جاتے

حسین کی قربانی نے دین بچایا ہے اور کربلا کو سیدہ زینب و ام کلثوم اور سکینہ نے بچایا

کربلا تا کوفہ
کوفہ تا شام
ہر گلی ہر محلے عزاداری کے ذریعے ذکر حسین اور مقصد حسین کو سیدہ زینب ، ام کلثوم ، سکینہ اور دیگر بیبیوں نے پہنچایا

مقصد حسین کو اجاگر کیا

تو مشیت الہی کی سمجھ آئی؟
گویا جناب سیدہ زینب سلام اللہ علیہا اور دیگر خواتین کو ساتھ لے جانے کی مشیت الہی اور مصلحت
، احیاء کربلا تھا

اسی لیئے حسین علیہ السلام نے جناب سکینہ کو فرمایا تھا
سیطول بعدی یا سکینة فاعلمی
منک البکاء اذا الحمام دهانی

لا تحرقی قلبی بدمعک حسرة مادام منی الروح فی جثمانی

فاذا قتلت فانت اولی بالذی تبکینه یا خیرة النسوان

ترجمہ:

اے سکینہ ! جان لو کہ میرے بعد تمہارا گریہ زیادہ طولانی ہو گا۔ پس جب تک تمہارے باپ کے جسم میں جان ہے، اپنی ان حسرت بھری آنکھوں کے آنسوؤں سے ان کا دل مت جلاؤ۔
اے خیر النساء ! میرے مرنے کے بعد اب رونا تمہارے لیے صحیح ہے
🌾
حضرت رقیہ بنت الحسین (ع) کا شام میں مزار تاحشر ذبح عظیم کا گواہ ہے ،گویا حضرت امام حسین (ع) نے سکینہ کو شام میں فتح کی یادگار کے طور پر رکھا ہے کہ لوگ خاندان عصمت و طہارت کے اسیرہونے اور دوسرے واقعات کا انکار نہ کر سکیں ،

یہ چھوٹی سی بچی ایک بڑی گواہی ہے کہ اسیروں کے درمیان چھوٹی چھوٹی بچیاں بھی تھیں جن پر یزید اور یزیدیوں نے ظلم کی انتہا کر دی ،

روز محشر حسین ابن علی علیہ السلام اپنا ایک ننھا گواہ اصغر لائیں گے اور ایک ننھی گواہ سکینہ
کہ
بای ذنب قتلت؟؟

یزیدی آج بھی اس کوشش میں ہیں کہ ذکر حسین کو مٹایا جائے
چھپایا جایے
دبایا جائے
جبکہ مشیت الہی یہ ہے کہ ذکر حسین سربلند ہو
مقصد حسین اجاگر ہو
جو لوگ محرم اور صفر میں عزاداری اور گلی کوچوں اور محلوں میں جلوس نکال رہے ہوتے ہیں وہ در اصل زینبی کام کررہے ہیں
حسینی مشن سر انجام دے رہے ہوتے ہیں یعنی ذکر حسین
اور مقصد حسین کا احیاء کر رہے ہوتے ہیں
پوری دنیا میں آج بھی مسلمان دو حصوں میں تقسیم ہیں ایک وہ ہیں جو کار زینبی انجام دیتے ہوئے عزاداری کے فروغ میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالتے ہیں
شعائر حسینی کی عظمت بتاتے ہیں اور اسی طرح چہلم کے موقع پر جلوسوں اور مجالس عزا کے ذریعے ہر گلی محلے میں پیام حسینی پہنچاتے ہیں اور پہنچاتے رہیں گے

جب کہ ایک طبقہ تو وہ ہے جو اس کوشش میں ہوتا ہے کہ کسی طریقے سے عزاداری کو روکا جائے
گویا شعائر اللہ کی حرمت کو پامال کرتے ہیں
وہ یہ چاھتے ہیں عزاداری پہ پابندی لگ جائے اور جلوسوں کو روکتے ہیں کہ جلوس نہ نکلنے پائے کیونکہ اس طرح کربلا اجاگر ہوتی ہے اور ان منافقین کے چہروں سے نقاب اترتا ہے جنہوں نے کربلا بپا کی تھی
لیکن
نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
Published by
Al.Bayyenah institute
Rawalpindi/Islamabad
Pakistan

Be the first to comment on "تسکین قلب حسین رقیہ (یعنی سکینہ) بنت الحسین علیہم السلام تحقیق و تحریر ✍️کوثر عباس قمی الحیدری"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*