اہلبیت النبی ص کی اسیری سے رہائی کے بعد مدینہ واپسی

اہل بیت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
اسیران شام کی مدینہ واپسی
ضبط تحریر ✍️
کوثر عباس قمی الحیدری
🌾
اللهوف کے مطابق
جب اہل بيت كے قافلے کی شام سے عراق واپسی ہوئی تو مخدرات عصمت نے مطالبہ کیا کہ انہیں کربلا کے راستے مدینہ واپس لے جایا جایے. تاکہ وہ اپنے شہیدوں کی قبروں پر جی بھر کر روئیں جن پر انہیں دم شہادت رونے نہیں دیا گیا

جب یہ قافلہ کربلا پہنچا تو صحابی رسول جناب جابر بن عبد اللہ انصاری رض پہلے سے وہاں اپنے غلام عطیہ کے ساتھ موجود تھے ان کے ساتھ بنی ہاشم کی ایک جماعت بھی موجود تھی. جو قبر حسین علیہ السلام کی زیارت کو آئے تھے . سب نے مل کر حسینؑ مظلوم پر شدید گریہ کیا
راوی کہتا ہے
جناب جابر نے جب قبر حسینؑ کودیکھا تو چیخیں مار کر روئے اور امام حسین علیہ السلام کے لئے بہترین کلمات خیر و خراج عقیدت الفاظ ادا کئے اور کہا
اے حسین ع بیشک آپؑ کی مصیبت نہ صرف ہم پر سخت ہے بلکہ یہ زمین و آسمان پر بھی سنگین ہے اور واقعی یہ کتنی عظیم مصیبت اور کتنا بڑا سانحہ ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ. ہم بھی اس جنگ میں آپؑ کے ہمراہی تھے اورہم نے آپؑ کا شانہ بشانہ ساتھ دیا

یہ سنا تو ان کے غلام عطیہ نے کہا ہم کیسے ان لوگوں کے زمرے میں شمار ہوسکتے ہیں جب کہ ہم نے نہ ان وادیوں کو طے کیا اور نہ ہی صحرا و بیابانوں کی خاک چھانی اور نہ ہم ان کے ہمراہ شہید ہوئے
جناب جابر نے جواب دیا
“میں نےاپنے محبوب رسولؐ اکرم سے سنا ہے کہ
جو کسی قوم سے محبت کرتا ہے وہ ان کے ساتھ محشور کیا جاۓ گا

اللہ کی قسم میں حسینؑ سے محبت کرتا ہوں اور امیدوار ہوں کہ ہم دنیا و آخرت میں انہی کے ساتھ محشور ہوں گے

جناب جابر کی بینائی چلی گئی تھی جس کے سبب وہ معرکہءِ کربلاء میں شریک نہ ہو سکے
ثقہ روایات کے مطابق ابا عبد اللہ الحسین ع کے سب سے پہلے زائر صحابیءِ رسولؐ جناب جابر بن عبد اللہ الانصاری رضوان اللہ علیہ تھے اس وجہ سے ان کی ایک عظیم قدر و منزلت ہے

یہ قافلہ بعض روایات کے مطابق تین دن تک یہاں رکا اور حسینؑ کا ماتم کیا. اس کے بعد بحکم امام سجاد علیہ السلام مدینہ کی طرف عازم ہوا

جب یہ قافلہ اہل بیت۴ مدینہ کے قریب ہہنچا تو امام نے بشیر بن جذلم سے فرمایا
“اللہ تم پر ر رحمت کرے تمہارا والد بہت اچھا شاعر تھا کیا تم بھی شعر کہتے ہو؟
اس نے کہا
جی اے فرزند رسولؐ میں بھی شاعر ہوں

فرمایا
“ہم سے پہلے مدینہ پہنچو اور لوگوں کو ابا عبد اللہ الحسین ع کی خبر شہادت اور ہماری آمد سے آگاہ کرو
بشیر تیز رفتاری سے مدینہ وارد ہوا اور یہاں پہنچ کر یہ اشعار پڑھے

يَـــــا أَهْلَ يَثْرِبَ لاَ مُقَامَ لَكُمْ بِهَا
قُــتِلَ الْحُسَيْنُ فَأَدْمُعِي مِدْرَارُ
الْجِـــــسْمُ مِنْهُ بِكَرْبَلاَءَ مُضَرَّجٌ
وِالـــرَّأْسُ مِنْهُ عَلَى الْقَنَاةِ يُدَارُ
“اے اہل یثرب اب مدینہ رہنےکے لائق نہیں رہا کیونکہ حسین اپنے اہلبیت واصحاب سمیت کربلا میں قتل کردیے گیے

ان کا جسم کربلا میں زخمی پڑا تھا جب کہ سر مظلوم نوک نیزہ پر گھمایا پھرایا جاتا تھا
لوگو! یہ علی ابن الحسین ہیں جو اپنی پھوپھیوں بہنوں کے ساتھ حدود مدینہ میں داخل ہو چکے ہیں

اور انھوں نے مجھے تمہاری طرف یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ میں تمہیں ان امور سے باخبر کردوں”

روای کہتا ہے
واللہ مدینہ میں کوئی گھر ایسا نہ تھا جو اس لٹے ہوئے قافلےکے استقبال کے لیے باہر نہ آیا ہو مرد و زن بچے اور حجاب میں رہنے والیاں تک اس دن اپنے گھروں سے نکل آئیں

ایک کنیز بلند آواز سے رو رہی تھی اور کہہ رہی تھی
“اے خبر لانے والے!
تمہاری خبر نے وہ زخم اور داغ ہمارے دلوں پر دیا ہے جو کبھی مندمل نہ ہو گا۔ تم کون ہو اللہ تم پر رحمت کرے

میں نے کہا
میں بشیربن جذلم ہوں مجھے علی ابن الحسین نے بھیجا ہے

یہ سن کر لوگ مسجد نبوی کی طرف دوڑ پڑے۔ کچھ گریہ و زاری کر رہے تھے، کچھ چیخ رہے تھے، سبھی بشر سے مزید خبر چاہتے تھے۔ انہوں نے اُس سے پوچھا: “کیا خبر ہے؟”
بشر نے کہا: “یہ علی بن الحسینؑ اپنی پھوپھیوں اور بہنوں کے ساتھ تمہارے دروازے پر آ گئے ہیں۔ میں ان کا نمائندہ ہوں تاکہ تمہیں ان کا مقام بتا سکوں۔”

یہ سنتے ہی لوگ آہ و بکا کرنے لگے اور تیزی سے آلِ رسول ﷺ کے استقبال کے لیے بڑھے۔ پورا مدینہ رونے لگا، عورتوں کی چیخ و پکار بلند ہو گئی۔ عورتیں علوی خواتین کے گرد جمع ہوئیں اور مرد امام زین العابدینؑ کے گرد حلقہ ڈالے کھڑے تھے، سب گریہ میں ڈوبے ہوئے۔ وہ دن ایسا لگ رہا تھا گویا پھر وہ دن لوٹ آیا ہو جب رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوا تھا۔

امام زین العابدینؑ نے ایک دردناک خطبہ دیا جس میں آپؑ نے اہلِ بیتؑ پر ڈھائے گئے ظلم، قتل، اسیری اور ذلت کا ذکر فرمایا۔ لیکن آپؑ کی بیماری اور زخموں کے باعث خطبہ دینا بھی آپؑ پر دشوار تھا۔ آپؑ نے اہلِ بیتؑ کے مصائب بیان کیے، وہ آزمائشیں جن سے پہاڑ بھی لرز اُٹھیں۔

“الحمد للہ تمام تعریفیں اس کے لیے ہیں جو قیامت کے دن کا مالک اور تمام مخلوقات کا خالق و پناہ گاہ ہے. جو بلند ہے تو ایسا کہ آسمانوں سے بھی ارفع و برتر ہے اور نزدیک ہے تو ایسا کہ شہ رگ سے بھی قریب ترین ہے۔ ہم ان عظیم مصیبتوں پر اللہ کی حمد کرتے ہیں جو گردش دوران سے ہمیں دیکھنا پڑا

یہ ایسی مصیبت تھی جس کا گھونٹ سخت کڑوا اور سانحات میں یہ عظیم ترین سانحہ تھا جس نے دلوں کو پگھلا دیا جگر کو زخمی کر دیا جس کی مثال سانحات میں نہیں ملتی
لوگو!
اللہ نے ہمیں عظیم مصیبتوں کے ذریعے آزمایا بلاشبہ اسلام کی دیوار میں ایک عظیم دراڑ آئی یعنی ابو عبد اللہ الحسین ع قتل کر دیئے گیے ان کی آل اسیر کر لی گئی ان کا سر نوک نیزہ پر پھرایا گیا۔ یہ
ایسی مصیبت تھی جس کی طرح کوئی مصیبت نہیں ہو سکتی. تم میں سے کون ایسا شخص ہو گا جو ان کی شہادت کے بعد خوشی مناۓ گا؟
اور کون سی ایسی آنکھ ہو گی جو ان کی شہادت پر اپنے آنسو روک پاۓ گی؟

بلاشبہ سات طبقاتِ زمین۔ آسمان و سمندروں اور اس کی موجوں آسمان اور اس کے ارکان زمین اور اس
کے ستونوں درختوں اور ان کی ٹہنیوں مچھلیوں، فرشتوں، جنات اور تمام اہل آسمان نے ابو عبد اللہ الحسین ع کی مظلومیت پر روئے

لوگو!
کون سا دل ایسا ہو گا جو ان کی شہادت پر غمزدہ نہ ہو گا اور کون سا دل ایسا ہو گا جو اس سانحہ عظیم پر نہ تڑپے گا اور کون سے کان ایسے ہوں گے جو اسے سننے کے بعد بہرا ہونا نہ چاہے گا تاکہ اسے نہ سن سکے

لوگو!
ہمیں در بدر، شہر بہ شہر, قریہ بہ قریہ گلی کوچوں میں اولاد ترک و بابل کی طرح گھمایا جاتا تھا جب کہ ہمارا کوئی جرم و خطا نہ تھی اور نہ ہم نے اسلام میں کوئی رخنہ ڈالا تھا اور نہ ہم نے اپنے اجداد سے ایسا سنا۔ بلاشبہ یہ سراسر ظلم تھا جو ہمارے حق میں روا رکھا گیا
واللہ!
اگر نبیۖ اکرم خود ہمارے خلاف قتال کا حکم دیتے تو ان سب امور و مظالم کی اجازت نہ دیتے جو ہم پر روا رکھا گیا جب کہ انہوں نے ہمارے متعلق تمہیں وصیت کی تھی اور ہمارے حق کی حفاظت و رعایت کے بارے میں تم کو بشدت و تاکید نصیحت فرمائی تھی
پس ہم ان عظیم مصائب پر جن سے ہمارا جگر زخموں سے چور اور دل و سینہ زخموں سے چھلنی اور آنکھیں شدت غم سے آنسو بہا رہی ہیں اس بارے میں اللہ سے حساب و بدلہ چاہتے ہیں. اور جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا اس کے لیے اللہ سے انتقام چاہتے ہیں بیشک اللہ زبردست انتقام لینے والا ہے”
امام کے اس خطاب کے بعد رونے کی شدت میں مزید اضافہ ہوا.
اسی دوران صعصعہ آگے بڑھا اور امامؑ سے معافی مانگی کہ وہ امام حسینؑ کی مدد نہ کر سکا۔ امامؑ نے اس کا عذر قبول کیا اور اس کے والد کے لیے دعائے رحمت فرمائی۔

اس کے بعد امام سجاد علیہ السلام مع اہل بیت علیہم السلام مدینہ میں داخل ہوئے۔ اپنے اقرباء کے گھروں اور اپنے قبیلہ کے مردوں پر نظر ڈالی، دیکھا تمام گھر اپنے زبان حال سے اپنے مردوں اور عزیزوں کے گم ہوجانے پر نوحہ کناں تھے آنسو بہا رہے تھے اور حضرت کے دل کے غم کی آگ کو اور بھڑکا رہے تھے۔ جناب ام کلثوم سلام اللہ علیھا مدینہ میں وارد ہوئی تو یہ اشعار پڑھے؛

” اے میرے نانا کے مدینے ہمیں قبول نہ کر کیونکہ ہم حسرتیں اور حزن و ملال لیکر آئے ہیں۔جب ہم نکلے تھے تو تمام اہل و عیال کے ساتھ نکلے تھے اور جب پلٹے ہیں تو نہ مردوں کا سایہ ہمارے سروں پر ہے نہ ہی ہماری گودیوں میں بچے ہیں”۔

جناب زینب سلام اللہ علیھا نے مسجد نبوی کے دروازے کی چوکھاٹوں کو پکڑ کر پکارا؛

“اے نانا جان صلواۃ و السلام علیک میں آپ کو اپنے بھائی حسین علیہ السلام کی شہادت کی خبر سنانے آئی ہوں”

پھر دختر امام حسین علیہ السلام نے یوں فریاد کی؛

“اے نانا جان صلواۃ اللہ علیہ ہم پر جو مظالم ڈھائے گئے ہیں میں ان کی آپ سے شکایت کرتی ہوں۔ خدا کی قسم میں نے یزید سے سنگدل کسی کو نہیں دیکھا۔ میں نے کسی کافر و مشرک کو بھی اتنا زیادہ شریر و فتنہ پرور نہیں دیکھا اور نہ ہی میں نے اس سے زیادہ کسی کو بد اخلاق، جفا کار و قند مزاج دیکھا ہے وہ اپنی محفل میں میرے حسین علیہ السلام کے سر کو سامنے رکھ کر ان کے دندان مبارک پر چھڑی مار کر بکواس کرتا تھا کہ اے حسین تم کو میری یہ ضرب کیسی لگی”۔

اس کے بعد علوی خواتین نے سیدالشہداءؑ پر ماتم برپا کیا، سیاہ لباس زیب تن کیا اور ایسے دردناک نوحے پڑھے جن کی گونج آج بھی دلوں کو ہلا دیتی ہے۔
خاندان نبوت کی عورتوں سے کہا کہ بشیر بن جذلم نے راستے بھر میں واپسی کے دوران ہماری خدمت کی ہے اور ہمارا خیال کیا ہے
ہمیں اس کی اس نیکی کا صلہ دینا چاہیے جو اس نے ہمارے ساتھ کی
پس ہر بی بی نے حسب توفیق جو کچھ میسر تھا اسے بشیر کے حوالے کیا. ثانی زہراء۴ نے دو چوڑیاں بشیر کو انعام میں پیش کیں تو بشیر رو پڑا اور
کہنے لگا
واللہ!
میں نے یہ خدمت صرف اللہ اور اس کے رسولؐ کی خوشنودی کی خاطر انجام دی ہے انعام کے لالچ میں نہیں کیا
حوالہ جات
(1) نفس المہموم -428-
(2)اللہوف -177-182
(3) الکامل فی التاریخ 74
(4) الفصول المہمہ -208.
(5) اخبار الدول -109
(6)مثیر الاحزان -59
(7)حبیب السیر 2/60
(8) تذکرہ الخواص -150-151
(9) المناقب 4/77۔
Published by
Albayyena institute
الۡبَیِّنَۃُ انسٹیٹیوٹ
تعلیمات قرآن و اھل البیت علیہم السلام اور تاریخ سے آگاہی کے لیئے
سردار ٹاون اڈیالہ روڈ راولپنڈی
00923335721286

Be the first to comment on "اہلبیت النبی ص کی اسیری سے رہائی کے بعد مدینہ واپسی"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*