امام زمانہ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت نرجس خاتون سلام اللہ علیھا :-💐💐💐💐💐💐

🌹
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شریکہ حیات اور فرزند رسول، حضرت امام مھدی آخرالزماں عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی مادر گرامی جناب نرجس خاتون ہیں۔
آپ کا اصلی نام “ملیکہ” تھا جو مشرقی روم کے بادشاہ کے بیٹے یشوعا کی صاحبزادی ہیں اور آپ کی والدہ ماجدہ حضرت عیسی علیہ السلام کے حواری جناب شمعون کی اولاد میں سے ہیں۔

جناب نرجس خاتون فرماتی ہیں کہ ﺟﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮﺗﯿﺮﮦ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﮬﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻗﯿﺼﺮ ﺭﻭﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮭﺘﯿﺠﮯ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ۔ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﻨﻌﻘﺪ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺭﺍﮬﺐ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺕ ﺳﻮ ﭘﺎﺩﺭﯼ ﻭﮬﺎﮞ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ ﻧﯿﺰ ﭼﺎﺭ ﮨﺰﺍﺭ ﻓﻮﺟﯽ ﺳﺮﺩﺍﺭ، ﺷﺮﻓﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺰﺯﯾﻦ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮞ ﺸﺮﯾﮏ ﺗﮭﮯ۔ ﺗﺨﺖ ﻭ ﺗﺎﺝ ﺷﮭﻨﺸﺎﮬﯽ ﮐﻮ ﺟﻮﺍﮬﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﺳﺠﺎﯾﺎ ﮬﻮﺍﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﮬﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﺎ ﺑﮭﺘﯿﺠﺎ ﺗﺨﺖ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺻﻠﯿﺐ ﮐﻮﺍﺳﮑﮯ ﮔﺮﺩ ﮔﮭﻤﺎﯾﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺳﺐ ﺗﻌﻈﯿﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺠﯿﻞ ﮐﮯ ﺻﻔﺤﺎﺕ ﮐﻮ ﮐﮭﻮﻻ ﮔﯿﺎ۔
ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﺭﺳﻢ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﺻﻠﯿﺒﯿﮟ ﺍﻟﭧ ﮐﺮ ﮔﺮﮔﺌﯿﮟ۔ ﺗﺨﺖ ﻭﺗﺎﺝ ﻟﺮﺯﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﻭﮦ ﺟﻮﺍﻥ ﺟﻮ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﺍٓﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﯿﮭﻮﺵ ﮬﻮ ﮐﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﺍ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺭﻧﮓ ﺍﮌ ﮔﯿﺎ ﺭﺍﮬﺒﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﺳﮯ کہا! ﺍﺱ ﻧﺤﻮﺳﺖ ﻭﺍﻟﮯ ﻋﻤﻞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﺴﯿﺤﯿﺖ ﻧﺎﺑﻮﺩ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﻮﺋﯽ ﻧﻈﺮ ﺍٓﺭﮬﯽ ﮬﮯ ۔
ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻗﯿﺼﺮﺭﻭﻡ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮞ کہا ﮐﮧ ﺻﻠﯿﺒﻮﮞ کو ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﻧﺼﺐ ﮐﺮﻭ۔ ﺳﺎﺭﯼ ﭼﯿﺰﻭﮞ کو ﺍﺳﮑﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﻮ ﭘﮭﺮ دولہا کے بھائی ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ- ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺳﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﻮ ﺳﺠﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻔﻞ ﺟﻤﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﮬﯽ ﺭﺳﻢ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻭﮬﯽ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﭘﯿﺶ ﺍٓﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺩﺭﮬﻢ ﺑﺮﮬﻢ ﮬﻮﮔﯿﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﺍﻓﺴﺮﺩﮦ ﮬﻮﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺮ ﻡ ﺳﺮﺍ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔

بی بی سلام اللہ علیھا کا خواب:
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ رکھ ﺩﯾﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻣﺴﯿﺢ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ، ﺷﻤﻌﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺣﻮﺍﺭﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦ ﻣﯿﺮ ﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺭ ﺳﮯ ﺑﻨﺎ ہوا ﻣﻨﺒﺮ ﻋﯿﻦ ﺍﺳﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﻧﺼﺐ ﮬﮯ ﮐﮧ جہاں ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﺎ ﺗﺨﺖ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ۔
ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ( ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ) ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺻﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﻣﺎﺩ ﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﺍﺑﯿﻄﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﮯ ﮬﻤﺮﺍﮦ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ( ﺹ) ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ پاس بیٹھا لیا۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ (ﺹ) ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ!
ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮﻭﺻﯽ ﺷﻤﻌﻮﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﻣﻠﯿﮑﮧ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺍﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﺍٓﯾﺎ ﮬﻮﮞ۔

ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺷﻤﻌﻮﻥ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮﮐﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ!
ﺍﮮ ﺷﻤﻌﻮﻥ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﻗﺴﻤﺖ ﺟﺎﮒ ﺍﭨﮭﯽ ﮬﮯ ﺷﺮﺍﻓﺖ ﺍﻭﺭ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﻧﺼﯿﺐ ہو رہی ہے ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﺎ ﺍٓﻝ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯿﮭﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺳﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﺟﻮﮌ ﻟﻮ ۔
ﺷﻤﻌﻮﻥ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ! ﺍﻃﺎﻋﺖ ہوﮔﯽ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ (ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ) ﻣﻨﺒﺮ ﭘﺮ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻄﺒﮧ ﻧﮑﺎﺡ ﭘﮍﮬ کر ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪ ﺳﮯ ﻋﻘﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ، ﺍﻧﮑﮯ ﺣﻮﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺍٓﻝ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯿﮭﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮬﻤﺎﺭﮮ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﮯ ﮔﻮﺍﮦ ﮬﯿﮟ ۔

ﺟﺐ ﺍﺱ ﺳﻨﮭﺮﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ آنکھ ﮐﮭﻠﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮈﺭ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ہر ﻭﻗﺖ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺗﻮﺟﮧ ﮨﭧ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ یہاں ﺗﮏ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﯾﺾ ﮬﻮﮔﺌﯽ ۔
ﭘﻮﺭﯼ ﻣﻤﻠﮑﺖ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻃﺒﯿﺐ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻋﻼﺝ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮬﻮ ﻣﮕﺮ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺑﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺭﮬﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻧﮯ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮬﻮﮐﺮ مجھ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ! ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ! ﮐﯿﺎ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ۔

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ! ﺩﺍﺩﺍﺟﺎﻥ ﺍﮔﺮ ﺍٓﭖ ﺣﮑﻢ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﺟﺘﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺍٓﭘﮑﯽ ﻗﯿﺪ ﻣﯿﮟ ہیں ﺍﻧﮑﯽ ﺯﻧﺠﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﻮ ﺍﺫﯾﺖ دینا ﺑﻨﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍٓﺯﺍﺩ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻣﯿﺪ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺮﯾﻢ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﮟ ۔

بی بی (س) فرماتی ہیں کہ- ﮐﯿﻮﮞ که ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﺩﯼ ﺗﮭﯽ لہٰذا ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﯽ ﺭﮬﯽ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﺻﺤﺘﻤﻨﺪ ﺩﮐﮭﺎﺅﮞ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺑﮩﺖ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮬﻮ ﮐﺮ ﺍﺳﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﺭﻋﺎﯾﺖ ﺩﯾﺪﯼ ۔

ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺧﻮﺍﺏ :
بی بی (س) فرماتی ہیں کہ پہلے ﺧﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﭼﻮﺩﮦ ﺭﻭﺯ ﺑﻌﺪ میں نے ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺟﻨﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﯽ ﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺮﯾﻢ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﮬﻤﺮﺍﮦ ﮬﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﮐﻨﯿﺰﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﮬﻤﺮﺍﮦ ﮬﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺮﯾﻢ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮬﻮﮐﺮﻓﺮﻣﺎﯾﺎ! ﯾﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺟﻨﺖ جناب فاطمه ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺷﻮﮬﺮ ﺍﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﮬﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻧﮧ ﺍٓﻧﮯ ﮐﺎ ﺷﮑﻮﮦ ﮐﯿﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ! ﺟﺐ ﺗﮏ ﺗﻢ ﻣﺸﺮﮎ ﺭﮬﻮ ﮔﯽ ﺍﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻧﮭﯿﮟ ﺍٓﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ بہن ﻣﺮﯾﻢ ﺑﻨﺖ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﮬﯿﮞ کہ ﺟﻮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺍﻟٰﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺩﯾﻦ ﺳﮯ ﺍﻇﮭﺎﺭ ﺑﺮﺍﺋﺖ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺭﯼ ﮐﺮﺗﯽ ﮬﯿﮞ- اﺏ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺧﺪﺍ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻭﺭﺣﻀﺮﺕ ﻣﺮﯾﻢ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﻨﻮﺩﯼ ﭼﺎﮨﺘﯽ ہو ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺑﮭﯽ ﺭﮐﮭﺘﯽ ہو ﺗﻮ ﺑﻮﻟﻮ :
ﺍﺷﮭﺪ ﺍﻥ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍ ﻟّﺎ ﺍﻟﻠّﮧ ﻭﺍﺷﮭﺪ ﺍﻥّ ﻣﺤﻤﺪﺍً ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ۔
ﺟﯿﺴﮯ ﮬﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﺷﮭﺎﺩﺗﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯿﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺍﺏ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮞ ﺮﮬﻨﺎ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﺟﻠﺪﯼ ہی ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔

ﻧﯿﻨﺪ ﺳﮯ ﺍﭨﮭ کر میں ﺍﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻟﻤﺤﮧ لمحہ گنتی ﺭﮬﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﺍﻟﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﮐﯽ- اور خوابوں کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری و ساری رہا یہاں تک کہ ایک رات خواب میں امام علیہ السلام نے نرجس خاتون سے فرمایا :
تمہارے دادا عنقریب ہی مسلمانوں سے جنگ کے لئے ایک لشکر بھیجنے والے ہیں تم بغیر کسی کو بتائے ہوئے ایک خادمہ کی حیثیت سے اس لشکر کے ساتھ روانہ ہوجانا جناب نرجس بے صبری سے اس دن کا انتظار کرنے لگیں اور جب لشکر چلنے کے لئے آمادہ ہونے لگا تو نرجس خاتون نے جن کے دل میں حق کی معرفت و شناخت، اسلام اور امام علیہ السلام سے والہانہ عقیدت کا چراغ روشن ہوچکا تھا فورا ہی خادمہ کا لباس زيب تن کیا اور لشکر کے ساتھ روانہ ہوگئیں اور بالآخر مسلمانوں کی قید میں آگئیں ۔
دوسری جانب حضرت امام علی نقی علیہ السلام اور آپ کے فرزند حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے صحابی “بشر بن سلیمان” جو سامرا میں امام علیہ السلام کے پڑوس میں رہتے تھے اس واقعے کے بارے میں دلچسپ باتیں نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
“ایک رات کی بات ہے میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے ایک آواز سنی میں دوڑتا ہوا دروازے پر پہنچا وہاں میں نے امام علی نقی علیہ السلام کے خادم کو دیکھا اس نے کہا کہ امام علیہ السلام نے تمہیں فورا بلایا ہے میں نے لباس زيب تن کیا اور فورا ہی امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوگیا میں نے مشاہدہ کیا کہ امام علیہ السلام اپنے فرزند امام حسن عسکری علیہ السلام اور اپنی بہن حکیمہ خاتون سے محو گفتگو ہیں جو پردے کے پیچھے تشریف فرما ہیں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا :
اے بشر تم انصار کے بزرگوں میں سے ہو اور تمہارے پورے خاندان کو اعتماد و اطمینان کی وجہ سے خاندان رسالت نے امامت و ولایت کی خدمت کے لئے قبول کیا ہے میں چاہتا ہوں کہ تمہیں ایک اہم راز سے باخبر کروں اور ایک کنیز کی خریداری کی ذمہ داری سونپ دوں ۔
اس کے بعد امام علیہ السلام نے رومی زبان میں ایک خط لکھا اس پر مہر ثبت کی اور کنیز کے پتہ کے ساتھ میرے حوالے کیا میں بغداد کی جانب چل دیا میں نے وہاں کچھ قیدیوں کو دیکھا جنہیں عمر ابن یزيد بیچنے کے لئے بازار میں لایا تھا انہیں افراد میں میں نے ایک کنیز کو دیکھا جس نے اپنے کو نامحرموں کی بد بین نگاہوں سے محفوظ رکھنے کے لئے اسلامی حجاب کر رکھا تھا اور کسی کو بھی اپنا بدن چھونے نہیں دے رہی تھی حالانکہ ان کے خریدار بہت زيادہ تھے لیکن جیسے لگ رہا تھا کہ وہ حقیقی خریدار کی منتظر ہو۔
میں امام علی نقی علیہ السلام کے حکم کے مطابق ان کے قریب گیا اور خط ان کے حوالے کیا وہ خط پڑھ کر بہت زيادہ روئیں اور اپنے مالک سے کہا کہ مجھے اس کے ہاتھ فروخت کر دے پھر میں نے ان کی قیمت اس کے حوالے کی اور کنیز کے ہمراہ واپس آگیا میں نے انہیں ایک مکان میں ٹھہرایا تاکہ بعد میں امام علیہ السلام کی خدمت میں پیش کروں میں نے دیکھا کہ انہوں نے وہ خط نکال کر اپنے چہرے اور سر سے مس کیا، میں نے کہا:
جس شخص کو تم نہیں پہچانتی کس طرح سے اس کے خط کو اتنا زيادہ اہمیت دے رہی ہو؟ انہوں نے کہا:
اگر تم پیغمبر اور ان کے جانشینوں کی معرفت و شناخت رکھتے تو کبھی بھی ایسی بات نہ کہتے؟ پھر انہوں نے اپنی زندگی کے گذشتہ حالات و واقعات کو مجھ سے بیان کیا ۔
اسیری سے رہائی کے بعد حضرت ملیکہ نے اپنا نام بدل کر نرجس سلام اللہ علیھا رکھ لیا تھا اور اس کے بعد انہیں امام علی نقی علیہ السلام کی خدمت میں لایا گیا امام علیہ السلام نے حضرت نرجس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
میں تمہارے احترام میں دو چیزیں پیش کررہا ہوں پہلے یہ کہ تمہیں دس ہزار دینار عطا کر دوں یا یہ کہ تمہیں ابدی شرافت عطا کروں ،
حضرت نرجس خاتون نے عرض کیا اے مولا میں ابدی شرافت چاہتی ہوں پھر امام علیہ السلام نے ان کو ایک ایسے فرزند کی بشارت دی جو پوری دنیا پر حکمرانی کرے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔
امام علیہ السلام نے حضرت نرجس کو اپنی بہن حکیمہ سلام اللہ کے سپرد کرتے ہوئے فرمایا :
اے حکیمہ یہ وہی خاتون ہے جس کے بارے میں میں نے تمہیں خبر دی تھی یہ سنتے ہی حضرت حکیمہ اور حضرت نرجس گلے ملیں اور کافی دیر تک آپس میں گفتگو کرتی رہیں۔ پھر امام علیہ السلام نے حکیمہ خاتون سے کہا کہ نرجس کو اپنے گھر لے جائیں اور انہیں احکام اسلامی کی تعلیم دیں کیونکہ آنے والے زمانے میں وہ میرے بیٹے حسن عسکری علیہ السلام کی شریکہ حیات اور امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی ماں بننے والی ہیں ۔
فرزند رسول حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اور نرجس خاتون کی شادی کا وقت قریب آگیا جناب حکیمہ خاتون نے اس سنت حسنہ کا تمام سامان فراہم کیا اور اس طرح جناب نرجس خاتون فرزند رسول حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شریکہ حیات بن گئیں۔ کچھ دنوں بعد جناب نرجس حاملہ ہوئیں مگر حمل کے آثار نمایاں نہ ہوئے اور یہ بھی قدرت کا انتظام تھا تاکہ دشمن امام مھدی علیہ السلام کی دنیا میں آمد سے باخبر نہ ہوسکیں ۔
شعبان دو سو پچپن ہجری قمری کی پندرہویں تاریخ کی صبح نمودار ہونے والی تھی بی بی نرجس خاتون کو جسم میں لرزہ محسوس ہوا اور اچانک ایک نور نے بی بی نرجس کو اپنے حصار میں لے لیا اور جیسے ہی نور کا ہالہ ختم ہوا ایک نورانی پیکر بچہ سامنے نظر آیا۔
جی ہاں دوسو پچپن ہجری تھی پندرہویں شعبان کی سپیدی سحر میں زمین پر حجت خدا کا نزول ہوا اور امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف تشریف دنیا میں لائے اور نرجس خاتون کے بطن مبارک سے ایسے فرزند کا ظہور ہوا جس نے پیدائش کے بعد اپنے پدر گرامی سے گفتگو کی اور پروردگارعالم ، پیغمبر اسلام (ص) اور آپ کے اوصیاء کی گواہی دی ۔
جناب نرجس خاتون کے نورنظر کی پیدائش کو چند روز گذر چکے تھے اور امام حسن عسکری علیہ السلام کی شریکہ حیات اور امام زمانہ علیہ السلام کی مادر گرامی اپنے شوہر عزیز کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کررہی تھیں ۔

روایت میں ہے کہ ایک دن امام حسن عسکری علیہ السلام نے بی بی نرجس خاتون سے خاص گفتگو کی اور آئندہ آنے والی تمام مشکلات و پریشانی ، امام زمانہ عج کی غیبت اور اہل بیت اور شیعیان اہل بیت پر ہونے والی مصیبت کو بیان کیا اور آخر میں اپنی شہادت کی خبر بھی دی ۔

حواله جات :
ﻏﯿﺒﺖ ﻃﻮﺳﯽ ﺹ ۱۲۴،۱۲۸ ،
ﮐﻤﺎﻝ ﺍﻟﺪین ﺻﺪﻭﻕ ﺝ۲،ﺹ ۴۱۷،۴۲۳
ﺩﻻﺋﻞ ﺍﻻﻣﺎﻣﺔ ﺹ ۲۶۳،۲۶۷ ،
ﻣﻨﺎﻗﺐ ﺍﺑﻦ ﺷﮭﺮﺍٓﺷﻮﺏ ﺝ۴،ﺹ ۴۴۰،۴۴۱ ،
ﺭﻭﺿﺔ الواعظین ﺝ۱،ﺹ ۲۵۲،۲۵۵ ،
ﺍﺛﺒﺎﺕ ﺍﻟﮭﺪﺍﺓ ﺝ۳، ﺹ۳۶۔ ۳۶۵ ﺍﻭﺭ ﺹ ۰۸ ۴ ۔ ۴۰۹،
ﺑﺤﺎﺭﺍﻻﻧﻮﺍﺭ ﺝ۵۱، ﺹ۶۔۱۰،
حلیتہ ﺍﻻﺑﺮﺍﺭ ﺝ۶،ﺹ۵۱۵۔
🌾
🌷🌹🌷🌹🌷🪷
ضبط تحریر✍🏻
کوثر عباس قمی
بانی،موئسسہ

  • الۡبَیِّنَۃ
    (The Evidence )
    (برائے نشر و اشاعت تعلیمات قرآن واھل البیت علیہم السلام)
    00923335721286
    https://awareglobe.com

Be the first to comment on "امام زمانہ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت نرجس خاتون سلام اللہ علیھا :-💐💐💐💐💐💐"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*