ابتر کے طعنے کاجواب
آیت مباھلہ کے مطابق فرزند رسول
حضرت امام حسن ابن علی ابن ابی طالب علیہم الصلاۃ والسلام
ترتیب و تدوین✍🏻
سائل در بتول🤲
کوثر عباس قمی الحیدری
🌱
سورہ والضحی میں ارشاد ہوا عن قریب خدا آپ کو وہ کچھ عطا کرے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے
سبحان اللہ
شرف نبوت اولیہ سے لے کے،رسالت خاتمیہ تک
اور من اول الدنیا سے الی’ آخرہا
کیا ہے جو خدا ذوالجلال نے نبی کونین کو نہیں دیا مگر نبی کونین اب بھی راضی نہیں ؟؟
ایسا کیا دینا ہے نبی کریم کو کہ جس عطا پہ آپ راضی ہو جائیں گے؟؟
نبی کریم ص کی ناراحتی کیا ہے؟؟ نبی کریم کی پریشانی کیا ہے؟
ناراحتی یہ ہے کہ ایک طرف کفار یہ طعنہ دیتے ہیں کہ آپ ابتر ہیں آپ کی اولاد میں بیٹا کوئی نہیں
سو جب آپ وفات پا جائیں گے تو ان کے دین کا وارث تو ہو گا کوئی نہیں تو خود بخود ہی یہ دین مٹ جائے گا شریعت مر جائے گی
دوسری طرف قرآن مجید کی سورہ ۔۔۔۔۔۔۔ کی آیت نمبر ۔۔۔۔ کے مطابق وہ خواب!
جس میں آپ نے اپنے ممبر پہ بندر اترتے چڑھتے دیکھے
(یاد رکھیئے کا نبی کا خواب وحی ہوتا ہے جیسے حضرت ابراہیم کا خواب )
تو کیا میری ساری محنت رائگاں چلی جائے گی؟
کیا میرے دین کا میرے بعد کوئی والی وارث اور محافظ نہ ہو گا؟
ارشاد ہوا گھبرائیے نہیں
ولسوف یعطیک ربک فترضی’
ہم آپ کو (دین کے محافظوں کا مرکز کوثر ولایت )عطا کریں گے
جس کی اولاد اس دین کی وارث و محافظ ہو گی
اور پھر قندیل عرش حضرت فاطمہ الزہرا کے نور کو زمین فرش پہ فروزاں کرنے کے بعد فرمایا
انا اعطیناک الکوثر ۔۔۔۔
میرے حبیب اب خوش ہو جائیے ہم نے آپ کو مرکز ولایت و عصمت یعنی فاطمہ زہرا عطا کر دی ہیں
کہ جن کی معصوم اولاد اس دین کی محافظ ہو گی
آپ کا دشمن ابتر ہو گا
کیا دشمن بے اولاد ہو گا؟
نہیں
بلکہ ایسا بے نام و نشان کہ یا تو مجہول النسب ہو گا
اس کا اصلی باپ وہ نہیں ہو گا جس کی طرف منسوب ہو گا
یا پھر یہ دین کے محافظ اور وارث آپ کے دشمنوں کو اپنی حکمت عملی سے اس قدر ذلیل و رسوا کر دیں گے کہ ان کی اولاد یہ تعارف ہی نہیں کراسکے گی کہ ہم کس کی اولاد ہیں
پس 15 ماہ مبارک کی صبح خداوند متعال نے مرج البحرین کا پہلا اثر ،
لوء لوء والمرجان کا مصداق بنا کے
ابتر کے طعنے کا عملی جواب
رحل رسالت کے ھاتھوں پر
“رزق حسن” کی صورت میں دیا
حسن اور حسین عبرانی زبان کے لفظ “شَبَّر” اور “شَبیر”(یا شَبّیر)،کے ہم معنی ہیں جو حضرت ہارون کے بیٹوں کے نام ہیں۔
اسلام حتی عربی میں اس سے پہلے ان الفاظ کے ذریعے کسی کا نام نہیں رکھا گیا تھا۔
آپؑ کی کنیت “ابو محمد” اور “ابو القاسم” ہے۔
آپ کے القاب میں مجتبی (برگزیدہ)، سَیّد (سردار) اور زَکیّ (پاکیزہ) مشہور ہیں۔ آپ کے بعض القاب امام حسینؑ کے ساتھ مشترک ہیں جن میں “سیّد شباب اہل الجنۃ”، “ریحانۃ نبیّ اللہ” اور “سبط” ہیں۔
پیغمبر اکرمؐ سے منقول ایک حدیث میں آیا ہے: “حسن” اسباط میں سے ایک ہیں”۔ آیات و روایات کی رو سے “سبط” اس امام اور نَقیب کو کہا جاتا ہے جو انبیاء کی نسل اور خدا کی طرف سے منتخب ہو۔
نبی کریم آپ سے بے انتہا محبت رکھتے تھے۔
آپ نے اپنی عمر کے 7 سال اپنے نانا رسول خداؐ کے ساتھ گزارے، بیعت رضوان اور نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ میں اپنے نانا کے ساتھ شریک ہوئے۔
تاریخوں میں امام حسنؑ کے فضائل و مناقب کے سلسلے میں بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں۔
آپ کو “کریم اہل بیت” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ نے 20 یا 25 بار پیدل حج کیا۔
امام علیؑ کی خلافت کے دوران آپ اپنے والد کے ساتھ کوفہ تشریف لائے اور جنگ جمل و جنگ صفین میں اسلامی فوج کے سپہ سالاروں میں سے تھے
21 رمضان سنہ 40ھ کو امام علیؑ کی شہادت کے بعد منصب امامت سنبھالا اور دس سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔
روایات کے مطابق امام علیؑ نے اپنی شہادت سے پہلے اپنی اولاد اور اپنے پیروکاروں کے سامنے اس کتاب اور تلوار کو اپنے فرزند امام حسنؑ کو عطا فرمایا جو امامت کی نشانی سمجھی جاتی تھی
خود پیغمبر اکرمؐ نے امام علیؑ کو اپنے بعد آپ کے فرزند حسن بن علیؑ کو اپنا جانیشن اور وصی مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔
ایک اور حدیث کے مطابق امام علیؑ نے کوفہ تشریف لے جانے سے پہلے امامت کی مذکورہ نشانیوں کو ام المومنین حضرت ام سلمہ کے حوالے فرمایا جسے امام حسنؑ نے کوفہ سے واپسی پر ام المومنین حضرت ام سلمہ سے اپنی تحویل میں لیا تھا۔
امام حسن مجتبیؑ امام علیؑ کے چار سالہ دور خلافت میں شروع سے لے کر آخر تک اپنے والد گرامی کے ساتھ رہے۔
کتاب الاختصاص کے مطابق حسن بن علیؑ نے لوگوں کی طرف سے امام علیؑ کی بعنوان خلیفہ بیعت کرنے کے بعد اپنے والد کے حکم سے ممبر پر جا کر لوگوں سے خطاب فرمایا۔
وقعۃ صفین نامی کتاب کے مطابق امام علیؑ کے کوفہ آنے کے پہلے دن سے ہی حسن بن علی بھی اپنے والد کے ساتھ کوفہ میں قیام پذیر ہوئے۔
شہادت سے پہلے حضرت على (ع) نے پیغمبر(ص) کے فرمان کى بناء پر حضرت حسن (ع) کو اپنا جانشین معین فرمایا اور اس امر پر امام حسین (ع) اور اپنے تمام بیٹوں اور بزرگ شیعوں کو گواہ قرار دیا۔
امام حسن مجتبیؑ 21 رمضان سنہ 40ھ کو اپنے والد کی شہادت کے بعد 6 سے 8 مہینے تک خلافت کے عہدے پر فائز رہے۔
آپ کی خلافت عراق کے لوگوں کی بیعت اور دوسرے مناطق کی حمایت سے شروع ہوئی۔
لیکن شام والوں نے معاویہ کی قیادت میں اس بیعت کی مخالفت کی۔
معاویہ لشکر لے کر شام سے اہل عراق کے ساتھ جنگ کرنے کیلئے روانہ ہوا۔
آخر کار یہ جنگ امام حسنؑ اور معاویہ کے درمیان صلح نیز خلافت کو معاویہ کے سپرد کرنے کے ساتھ اختتام ہوا یوں معاویہ خلافت بنی امیہ کا پہلا خلیفہ بن گیا۔
حسن بن علیؑ
معاویہ کے ساتھ صلح کے بعد کوفہ کے بعض شیعوں کی طرف سے کوفہ میں رہنے کی درخواست کے باوجود مدینہ واپس تشریف لے گئے۔ اور اپنی زندگی کے آخری ایام تک مدینہ ہی میں مقیم رہے۔ اس دوران آپؑ نے صرف مکہ اور شام کا سفر کیا۔
کتاب الارشاد میں آیا ہے کہ امام حسن مجتبیؑ امام علیؑ کی شہادت کے بعد آپؑ کی وصیت سے مختلف امور من جملہ وقف اور صدقات کے متولی بھی تھے۔
مدینے میں لوگوں کی ہدایت اور تعلیم و تربیت کی خاطر امام حسنؑ کی طرف سے برگزار ہونے والے علمی محافل کا تذکرہ مختلف منابع میں ملتا ہے۔
ابن سعد (متوفی 230 ھ)، بلاذری (متوفی 279 ھ) اور ابن عساکر (متوفی 571 ھ) نقل کرتے ہیں کہ حسن بن علیؑ صبح کی نماز مسجد نبوی میں پڑھتے تھے جس کے بعد سورج نکلنے تک عبادت میں مشغول رہتے تھے اس کے بعد مسجد میں حاضر بزرگان آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر بحث و گفتگو کرتے تھے۔ ظہرین کی نماز کے بعد بھی آپ کی یہی روٹین ہوتی تھی۔
کتاب الفصول المہمۃ میں بھی آیا ہے کہ حسن بن علیؑ مسجد نبوی میں تشریف رکھتے تھے اور لوگ آپ کے ارد گرد حلقہ بنا کر مختلف موضوعات پر آپ سے سوال کرتے تھے جس کا آپ جواب دیتے تھے۔
مذکورہ تمام باتوں کے باوجود مہدی پیشوایی کے مطابق حسن بن علیؑ مدینہ میں قیام کے دوران لوگوں کی طرف سے عدم توجہ کی بنا پر ایک طرح سے گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے جس کی وجہ سے اس وقت کا معاشرہ اخلافی تنزلی کا شکار ہوا
امام حسن علیہ السلام کو زہر کیوں دیا گیا؟
چونکہ معاویہ نے صلح کی شرائط پہ عمل نہیں کیا اور شرط کے برعکس یزید ملعون کو اپنا ولی عہد بنایا، اسے معلوم تھا کہ ممکن ہے میری اس عہد شکنی کی وجہ سے کہیں لوگ پھر امام حسن کے ارد گرد جمع نہ ہو جائیں لھذا پہلے اس رکاوٹ کو دور کیا جائے سو
جعدہ بنت اشعث امام حسن (ع) کی زوجہ تھی ، معاویہ نے اسے ایک لاکھ درہم بھیجا اور پیغام بھیجا کہ اگر حسن ابن علی کو زہر دو گی تو، تمہاری شادی اپنے بیٹے یزید سے کر دوں گا ، جعدہ نے معاویہ کی یہ پیش کش قبول کر لی اور امام حسن کو زہر دیدیا۔
معاویہ نے جعدہ کے پاس سیّال (liquid) زہر بھیجا، امام حسن (ع) روزے سے تھے، ہوا گرم تھی ، افطار کے وقت جعدہ نے وہ زہر آپ کے دودھ کے پیالے میں ملا کر امام کی خدمت میں پیش کیا ، امام نے اسے پیا تو فوراً زہر محسوس کر لیا ، جعدہ سے فرمایا :تو نے مجھے قتل کیا خدا تجھے قتل کرے ۔ خدا کی قسم تیری آرزو پوری نہ ہوگی خدا تجھے ذلیل کرے گا۔
دو دن کے بعد آپ نے اسی زہر سے شہادت پائی۔ معاویہ نے جعدہ سے جو قول و قرار کیا تھا، اسے پورا نہ کیا، یزید سے اس کی شادی نہیں کی،
روایت ہے کہ جعدہ معاویہ کے پاس گئی اور کہا: میری یزید سے شادی کر دو۔ اس نے جواب دیا:
اذهبی فان الامرأة لا تصلح للحسن بن علی لا تصلح لابنی یزید؛دفع ہوجاؤ تجھ جیسی عورت نے حسن ابن علی سے وفا نہیں کی تو میرے بیٹے یزید سے کیا وفا کرے گی۔
جنادہ ابن امیہ روایت کرتا ہے کہ جس بیماری میں امام حسن (ع) نے شہادت پائی، میں انکی
عیادت کے لیے گیا، میں نے دیکھا کہ آپ کے پاس طشت رکھا ہے، جس میں گلے سے خون کے لوتھڑے گر رہے ہیں، جس میں آپ کے جگر کے ٹکڑے تھے، میں نے عرض کی: اے مولا ! علاج کیوں نہیں کراتے ؟
فرمایہ : اے بندہ خدا موت کا علاج کس چیز سے کروں؟
اس کے بعد میں نے عرض کی: مولا ! مجھے موعظہ فرمایئے۔ فرمایا:
استعد لسفر؛اے جنادہ ! آخرت کے سفر کے لیے آمادہ ہو جاؤ اور عمر ختم ہونے سے پہلے توشۂ آخرت حاصل کر لو۔ سمجھ لو کہ تم دنیا کی طلب میں ہو اور موت تمہاری طلب میں ہے، کبھی آنے والے کل کا غم آج نہ کرو۔
جنادہ کہتا ہے کہ ناگاہ میں نے دیکھا کہ امام حسین (ع) حجرے میں تشریف لائے، امام حسن کا رنگ زرد ہو چکا تھا ، سانسیں رک رہی تھیں، امام حسین نے خود کو برادر کے بدن پر گرا دیا اور سر آنکھوں کا بوسہ دینے لگے ، تھوڑی دیر آپ کے پاس بیٹھ کر راز کی باتیں کرتے رہے۔
حضرت صادق آل محمد (ع) کا ارشاد ہے کہ: جس وقت امام حسین اپنے بھائی کے سرہانے آئے اور حالت دیکھی تو رونے لگے۔ امام حسن نے پوچھا، بھائی کیوں روتے ہو؟
امام حسین نے کہا: کیسے گریہ نہ کروں کہ آپ کو مسموم دیکھ رہا ہوں، لوگوں نے مجھے بے بھائی کر دیا ہے۔
امام حسن نے فرمایا: میرے بھائی ! اگرچہ مجھے زہر دیا گیا ہے لیکن جو کچھ ( پانی، دودھ، دوا وغیرہ) چاہوں یہاں مہیا ہے۔ بھائی بہنیں اور خاندان کے افراد میرے پاس موجود ہیں۔
لا یوم کیومک یا ابا عبد اللّه؛
اے ابا عبد اللہ الحسین ! تمہاری طرح میری حالت تو نہیں ہے، تم پر 30 ہزار اشقیاء کا ہجوم ہو گا، جو دعویٰ کریں گے کہ ہم امت محمدی میں سے ہیں۔ وہ تمہارا محاصرہ کر کے قتل کریں گے ، تمہارا خون بہائیں گے، تمہاری عورتوں اور بچوں کو اسیر کریں گے ، تمہارا مال لوٹ لیں گے ۔ اس وقت بنی امیہ ہر خدا کی لعنت رواہوگی۔میرے بھائی تمہاری شہادت دل گداز ہے
یبکی علیک کلّ شئی حتیٰ الوحشِ فی الفلوات و الحیتان فی البحار،
آپ پر تمام چیزیں گریہ کریں گی یہاں تک کہ حیوانات صحرائی و دریائی تمہاری مصیبت پر روئیں گے۔
امام محمد باقر (ع) فرماتے ہیں کہ امام حسن (ع) پر حالت احتضار طاری ہوئی ، امام حسین سے کہا : میرے بھائی تم سے وصیت کرتا ہوں اس کا لحاظ کرنا اور پوری کرنا:
جب میں مر جاؤں تو دفن کا انتظام کرنا ، پھر مجھے قبر رسول (ص) پر لے جانا تا کہ ان سے تجدید عہد کروں، پھر مجھے قبر مادر پر لانا پھر بقیع میں لے جا کے دفن کر دینا، یہ سمجھ لو کہ حمیرا جس کی دشمنی و عناد میرے خاندان سے سبھی جانتے ہیں، اس کی طرف سے مجھ پر مصیبت ڈھائی جائے گی۔
جس وقت حضرت امام حسن (ع) شہید ہو گئے، جنازے کو تابوت میں رکھا گیا ، جہاں رسول (ص) نماز پڑھتے تھے وہیں لے جایا گیا، امام حسین (ع) نے نماز جنازہ پڑھائی، وہاں سے قبر رسول (ص) پر لیجا کر تھوڑی دیر کے لیے رکھا گیا۔
ایک خاتون کو خبر دی گئی کہ بنی ہاشم جنازے کو قبر رسول (ص) کے پہلو میں دفن کرنا چاہتے ہیں، وہ ایک خچر پر سوار ہو کر وہاں پہنچ گئیں مروان بن حکم انہیں لایا وہ کہنے لگی
نحّوا ابنکم عن بیتی؛
اپنے فرزند کو میرے گھر سے باہر لے جاؤ، کیونکہ یہاں کوئی اعر دفن نہیں ہو سکتا ، حجاب رسول کو پارہ نہیں ہونا چاہیے۔
امام حسین (ع) نے اس سے فرمایا: :
آپ نے اور آپ کے والد نے تو پہلے ہی حجاب رسول کو پارہ پارہ کر دیا ہے، آپ نے رسول کے گھر ایسے کو پہنچا دیا ہے کہ رسول کو اس کی قربت نا پسند تھی ، خداوند آپ سے اس کی باز پرس کرے گا۔
واقعہ یہ ہے کہ میرے بھائی حسن نے مجھے وصیت کی تھی کہ میرا جنازہ قبر رسول (ص) پر لے جانا تا کہ تجدید عہد کروں۔ تم سمجھ لو کہ میرے بھائی تمام لوگوں سے زیادہ خدا و رسول اور معنی قرآن کو سمجھتے تھے، وہ حجاب رسول کے پارہ ہونے کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ اگر ان کا دفن ہونا میری رائے میں مناسب ہوتا تو سمجھ لو کہ تمہاری خواہش کے بر خلاف یہاں ضرور دفن ہوتے۔
امام حسین (ع) جنازے کو بقیع کی طرف لے کر چلے گئے ۔
محدث قمی نے مناقب ابن شہر آشوب کے حوالے سے لکھا ہے کہ: جنازہ امام حسن ؑ پرتیر بارانی شروع کر دی گئی ، دفن کے وقت ستر(70) تیر آپ کے جسد مبارک سے نکالے گئے۔امام حسین (ع) جنازے کو بقیع میں لے گئے اور جدۂ ماجدہ فاطمہ بنت اسد کے پہلو میں دفن کر دیا۔
😭
مرثیۂ امام حسین ؑ:
شھیدفوق الجنازتہِ قدشکتُ اکفانہ بالسھامِ
امام حسن ؑایسے شہید ہیں کہ جن کا کفن تیروں کی بارش سے پارہ پارہ ہوگیا۔
امام حسین (ع) نے جنازے کو تابوت میں رکھتے ہوئے یہ اشعار پڑھے :
کیا میں سر میں تیل لگاؤں یا ریش کو عطر سے خوشبو دار کروں ؟
جبکہ میں آپ کے سر کو مٹی میں دیکھ رہا ہوں
اور آپ کو کٹی شاخ یا پتے کی طرح دیکھ رہا ہوں۔
جب تک کبوتر کی آواز گونجے گی اور شمالی و جنوبی ہوا چلے گی، میں آپ پر روتا رہوں گا۔
میرا گریہ طولانی ہے، میرے آنسو رواں ہیں،
آپ مجھ سے دور ہیں اور قبر نزدیک ہے۔
جس کامال چھین لیا گیا ہو ، غارت شدہ نہیں ہے بلکہ غارت شدہ وہ ہے کہ جو اپنے بھائی کو خاک میں دفناتا ہے،
فارسی میں نوحہ
زھرجفا نمود توراآب خوشگوار ازبسکہ تلخ کامی و بیتاب و پرتبی۔
پیاس کی وجہ سےتو اتنی بے چینی و تلخی محسوس کررہا تھا کہ تجھے زہر جفا خوش گوارپانی لگا
قربا ن آں دل و جگر پارہ پارہ است از زھر جانگداز وز دشنام و زخم تیر تیرا دل و جگر زہر گذار
اور تیروں کے زخموں سے پارہ پارہ ہوگئے میں ان پر قربان۔
ہرگز کسی دچار محن چون حسن نشد و رشد دچار آنھمہ رنج و محن نشد
کوئی حسن کی طرح رنج و غم سے دوچار نہیں ہوا اور اگر ہوا بھی ہوگا تو اتنا صدمہ نہیں پہنچا ہوگا،
🌾
اَلَا لَعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی القوم الظّٰلِمِیۡنَ
آگاہ ہو جاو
ظالموں کی قوم پر اللہ کی لعنت ہے۔
وَ سَیَعۡلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ سورہ شعرا آیت نمبر 227
اور ظالموں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام کو پلٹ کر جا رہے ہیں۔
🌾
published by
الۡبَیِّنَۃُ انسٹیٹیوٹ
قرآن و احادیث اور تاریخ سے آگاہی کے لیئے
سردار ٹاون اڈیالہ روڈ راولپنڈی
Be the first to comment on "ابتر کےطعنے کا جواب ،امام حسن ع جوآیت مباہلہ کے مطابق فرزندرسول قرار پائے"