موسم کی صورتحال

جڑواں شہروں میں مسلسل 18 گھنٹے بارش، پنجاب میں 63 افراد جاں بحق، گاڑیاں بہہ گئیں، وزیراعظم نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا
راولپنڈی میں تعطیل کا اعلان، درجنوں دیہات زیر آب، ندی نالے بپھر گئے، فوج کا ریسکیو آپریشن

راولپنڈی اور اسلام آباد میں مسلسل اٹھارہ گھنٹے سے جاری شدید بارش نے تباہی مچادی۔ جہاں 237 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث نالہ لئی میں سیلابی کیفیت پیدا ہوگئی۔ خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور قریبی آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی گئی۔ دریائے سواں پر پل پانی میں ڈوب گیا جبکہ سنگجانی میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی۔ موٹروے ایم ون کو اسلام آباد انٹرچینج سے برہان انٹرچینج تک بند کر دیا گیا۔ نشیبی علاقوں کے گھروں اور دکانوں میں پانی داخل ہو گیا اور سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔ چوبیس افراد پانی میں محصور ہو گئے جن میں سے گیارہ کو بچا لیا گیا۔ برساتی نالے میں گاڑی بھی بہہ گئی۔

راولپنڈی میں سیلابی صورتحال پر وزیراعظم نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے اور چیف کمشنر راولپنڈی و ایم ڈی واسا سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ اجلاس میں بارشوں سے ہونے والے نقصانات اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا۔

ادھر پنجاب کے دیگر علاقوں میں بھی مون سون کی طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی ہے۔ جہلم اور چکوال کے درجنوں دیہات زیر آب آ گئے، تھرابی کے مقام پر چھوٹا ڈیم ٹوٹ گیا، اور ریلے میں پھنسے چالیس افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کر لیا گیا۔ چکوال میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث ریکارڈ بارش ہوئی، جس میں 423 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ کلر کہار میں 325، وہالی زیر میں 325 اور آسیدن شاہ میں 310 ملی میٹر بارش ہوئی۔ جہلم میں نالہ بنہاں بپھر گیا اور درجنوں مویشی بہہ گئے۔

آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں بھی مسلسل بارش جاری ہے اور دریائے نیلم سمیت دیگر ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

پنجاب میں بارشوں سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 63 افراد جاں بحق اور 290 زخمی ہو چکے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق لاہور میں 15، فیصل آباد میں 9، اوکاڑہ میں 9، ساہیوال میں 5 اور پاکپتن میں 3 اموات رپورٹ ہوئیں۔ رواں سال کے دوران اب تک بارشوں سے مجموعی طور پر 103 افراد جاں بحق اور 393 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 128 مکانات مکمل یا جزوی طور پر متاثر ہوئے اور 6 مویشی ہلاک ہوئے۔

لاہور کے علاقے اکبری گیٹ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں بوسیدہ عمارت گرنے سے ایک ہی خاندان کے تین افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق ذوالفقار علی کی بیوی، بیٹا اور نواسا ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے جبکہ وہ خود محفوظ رہا۔ اُس کی بیٹی ارم شہزادی چند لمحے قبل ہی گھر سے نکلی تھی اور بچ گئی۔ ریسکیو آپریشن 12 گھنٹے جاری رہا جس میں بارش، تنگ گلیوں اور بجلی کی لٹکتی تاروں نے مشکلات پیدا کیں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر جاں بحق افراد کے لواحقین کو مالی امداد دی جا رہی ہے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

پی ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو فیلڈ میں رہنے اور نشیبی علاقوں سے فوری پانی نکالنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلیں اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔

راولپنڈی میں ضلعی انتظامیہ نے رین ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور ایک روزہ تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ شہر میں 230 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے جس کے باعث نالہ لئی اور دریا سواں میں شدید طغیانی ہے۔ چکلالہ، بوکرا اور گولڑہ کے نشیبی علاقے زیر آب آ چکے ہیں۔

جہلم کے علاقوں برہان نالہ اور ڈھوک بڈیر میں سیلابی ریلے میں 25 افراد پھنس گئے جن میں سے 10 کو پاک فوج نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کر لیا۔ دیگر متاثرہ افراد کو لائف جیکٹس فراہم کر دی گئی ہیں اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

چکوال میں بھی 470 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جسسے متعدد نشیبی علاقے زیرآب آگئے۔ بکھاری کلاں ڈیم، پنوال ڈیم، مسوال ڈیم کے بند ٹوٹ گئے، جبکہ مکانات گرنے سے چار افراد جاں بحق اور پندرہ زخمی ہوگئے۔

Be the first to comment on "موسم کی صورتحال"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*